پندرہ؍لاکھ کروڑ روپے کے کاروبار کے نقصان کا دعویٰ

Updated: June 03, 2021, 12:18 PM IST | Agency | New Delhi

کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرز کے مطابق کورونا کی دوسری لہر میں گزشتہ ۲؍ ماہ میں تاجر سنگین مالی بحران کا شکار

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

  ملک میں کورونا کی نئی لہر کے دوران عائد کی گئی پابندیوں کے سبب کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہونے سے تاجروں کی قومی سطح کی تنظیم نے  ۱۵؍ لاکھ کروڑ روپے کے کاروبار کا نقصان ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرز( کیٹ) نے اپنی   تازہ  رپورٹ جاری کی  ہے۔ اس میں تنظیم کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران ملک کی تقریبا تمام ریاستوں میں سخت پابندیوں کے سبب گزشتہ ۶۰؍ دنوں   میں تاجروں کے سامنے سنگین مالی بحران پیدا ہوگیا ہے اور مجموعی طور پر ۱۵؍ لاکھ کروڑ روپے کاخسارہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس  میں خردہ  کاروبار کو تقریباً۹؍ لاکھ کروڑ کا نقصان ہوا ہے اور ہول سیل کاروبار کو۶؍ لاکھ کروڑ کا نقصان ہوا ہے۔اس کے تحت  ایک اندازے کے مطابق مہاراشٹر کے تاجروں کو تقریباً۱ء۵۰؍ لاکھ کروڑ ، دہلی کے میں تقریباً۴۰؍ ہزارکروڑ ، گجرات  میں تقریباً۷۵؍ ہزارکروڑ ، اتر پردیش کے تاجروں کو تقریباً۸۵؍ہزار کروڑ ، مدھیہ پردیش میں۴۵؍ ہزار کروڑ ، راجستھان میں۳۵؍ ہزار کروڑ، چھتیس گڑھ میں تقریباً۲۷؍ہزارکروڑ کی رقم سمیت اور دیگر  ریاستوں میںبھی بڑا تجارتی نقصان ہوا ہے۔  اب  اس کی وجہ سے ملک بھر کے تاجر  اپنی افرادی قوت  بھی کم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ 
  تاجر اپنےملازمین کی تعداد کم کرنے پر مجبور
 ’کیٹ ‘کے جنرل سیکریڑی پروین  کھنڈیوال  مطابق  اس بار کورونا  کے سبب درپیش  مالی بحران نے ملک کے تاجروں کی کمر توڑ دی ہے۔  اب ان حالات  میںملک بھر کے تاجر  نہ چاہتے ہوئے بھی  اپنے ۳۰؍سے ۴۰؍ فیصد ملازمین کو کام پر سے ہٹانے کے تئیںسنجیدگی سے غور کررہے ہیں۔  ن کا کہنا ہے کہ پچھلے سال اور اس سال لاک ڈاؤن کی وجہ سے کاروبار میں غیر متوقع کمی ، طبی اخراجات میں غیر متوقع اضافہ اور آمدنی کے تمام وسائل ٹھپ ہونے سے وہ نہایت پریشان ہیں۔ اب  ان میں پہلے کی طرح ماہانہ  اخراجات  برداشت کرنے کی سکت نہیں  ہے۔ ایسی صورتحال میں وہ اپنے ملازمین کو زیادہ  دنوں تک  تنخواہ دینے  نہیں دے پائیں گے۔
  تاجروں  کیلئے مالی پیکیج کا مطالبہ
   تاجروں کو ہورہے نقصان کے پیش  ’ کیٹ ‘ کی جانب سے گزشتہ د نوں وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کو ایک خط لکھ کر مطالبہ کیا گیا ہے کہ تاجروں کو راحت دینے کیلئے بھی جلد ہی  مالی پیکیج دیا جائے ۔ علاوہ ازیں جی ایس ٹی ، انکم ٹیکس ، ٹی ڈی ایس  بھرنے کی میعاد میں توسیع کرنے کے ساتھ بینکوں اور مالیاتی اداروں  کے ذریعے تاجروں کوکم شرح سودپر قرض  مہیا کروایا جائے اور  ڈیجیٹل لین دین پر  عائد چارجز بھی رعایت دی جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK