حوثیوں کے فوجی ٹھکانوں اور گاڑیوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنانے کا دعویٰ۔
EPAPER
Updated: October 19, 2026, 1:45 PM IST | Agency | Sanaa
حوثیوں کے فوجی ٹھکانوں اور گاڑیوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنانے کا دعویٰ۔
یمن میں سرکاری افواج کی جانب سے شروع کی گئی’فجرِ یمن‘ کارروائی مسلسل۱۴؍ویں روز جاری ہے جبکہ تعز اور لحج صوبوں کے مختلف محاذوں پر سرکاری فورسیز اور حوثیوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ اس دوران حوثیوں کے فوجی ٹھکانوں اور گاڑیوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔لحج کے کہبوب محاذ پر درعِ وطن فورسیز نے جنوبی عمالقہ فورسیز کے تعاون سے حوثیوں کے ساتھ لڑائی کی۔ میدانی ذرائع کے مطابق جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب حوثی عناصر نے تعز کے مغرب میں واقع ضلع وازعیہ سے محاذ کی جانب دراندازی کی کوشش کی۔
یمنی سرکاری افواج نے کہبوب کے پہاڑی علاقے میں پیش رفت سے متعلق حوثیوں کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ فوج کے مطابق علاقے کے مختلف محاذوں پر لڑائی بدستور جاری ہے۔ تعز کے مغربی محاذ پر پرانے ہوائی اڈے، جبل ہان اور حدائق صالح کے علاقوں میں بھی جھڑپیں ہوئیں۔ سرکاری افواج اور عوامی مزاحمت نے حوثیوں کے حملوں کو پسپا کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تعز کے جنوب میں جبل صبر کے شقب محاذ پر حوثیوں کے فوجی ٹھکانوں اور گاڑیوں پر فضائی حملے کئے گئے۔
یہ بھی پڑھئے:دمشق، شام: صلاح الدین ایوبی کے مقبرہ کی بحالی مکمل
یمنی فوج اور عوامی مزاحمت نے ضلع مسراخ کے اقروض محاذ پر مقضیٰ کے مقام پر حوثی عناصر کے خلاف گھات لگا کر کارروائی کی جس میں ذرائع کے مطابق حوثیوں کے ۱۲؍اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے۔ مخا کے علاقے میں بھی ہفتے کی شام حوثیوں کے ٹھکانوں پر تین سے زائد فضائی حملے کئے گئے۔
فوجی ذرائع کے مطابق حدیدہ کے جنوب میں خوخہ شہر کے شمالی ساحل کے قریب حوثیوں کیلئے اسلحے کی ایک کھیپ کو بھی فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ یمنی افواج نے تقریباً ۲؍ ہفتے قبل ’فجرِ یمن‘ کارروائی شروع کی تھی جس کا مقصد ان کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں ریاستی عملداری بحال کرنا ہے۔ ساحلِ غربی میں پیش قدمی کے بعد تعز سے مارب اور الجوف تک کئی محاذوں پر لڑائی میں شدت آئی ہے۔