Updated: October 17, 2026, 10:05 PM IST
| Damascus
ترکی کے ادارۂ تعاون و رابطہ (تیکا) نے شام کے دارالحکومت دمشق میں سلطان صلاح الدین ایوبی کے مقبرے کی مرمت اور بحالی کا کام مکمل کرلیا ہے۔ اموی مسجد کے قریب واقع اس تاریخی مقبرے کی بحالی کا مقصد اس کی اصل تاریخی و تعمیراتی شناخت محفوظ رکھنا اور اسلامی تاریخ سے وابستہ مشترکہ ثقافتی ورثے کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنا ہے۔ تیکا کے مطابق، یہ منصوبہ ترکی اور شام کے تاریخی و ثقافتی روابط کی علامت بھی ہے۔
شام میں واقع سلطان صلاح الدین کا مقبرہ۔ تصویر: ایکس
شام کے دارالحکومت دمشق کے قدیم تاریخی مرکز میں واقع صلاح الدین ایوبی کے مقبرے کی بحالی کا کام مکمل ہونا اسلامی تاریخ اور تعمیراتی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔ ترکی کے ادارۂ تعاون و رابطہ (تیکا) نے اس منصوبے کے ذریعے اس تاریخی مقام کی اصل شناخت برقرار رکھنے اور وقت گزرنے کے ساتھ متاثر ہونے والے حصوں کو محفوظ بنانے کی کوشش کی ہے۔ مقبرہ اموی مسجد کے شمالی حصے کے قریب واقع ہے اور صدیوں سے تاریخ، مذہبی عقیدت اور سیاحت میں دلچسپی رکھنے والے افراد کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔تیکا کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، بحالی کا بنیادی مقصد عمارت کی تاریخی خصوصیات اور تعمیراتی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے اسے آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ بنانا ہے۔ یہ منصوبہ ترکی اور شام کے درمیان مشترکہ تاریخی و ثقافتی روابط کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ ہے۔ ادارے نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسلامی تاریخ کی اہم شخصیات سے وابستہ مقامات محض قدیم عمارتیں نہیں، بلکہ ایسے تاریخی آثار ہیں جو مختلف معاشروں کی مشترکہ یادداشت اور ثقافتی شناخت سے تعلق رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیاروں کے استعمال کو مسترد کر دیا
صلاح الدین ایوبی اسلامی تاریخ کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ ایوبی سلطنت کے بانی تھے اور ۱۱۸۷ء میں جنگِ حطین کے بعد بیت المقدس کو صلیبیوں کے قبضے سے واپس لینے کے لیے معروف ہیں۔ ان کی قیادت نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی اور عسکری تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ صلاح الدین ایوبی کا انتقال ۱۱۹۳ء میں دمشق میں ہوا، جہاں ان کا مقبرہ قائم ہے۔ اس تاریخی مقام کی اہمیت صرف ان کی شخصیت تک محدود نہیں، بلکہ یہ اس دور کی سیاسی تاریخ اور خطے میں اسلامی تہذیب کی یادگاروں سے بھی وابستہ ہے۔ دمشق کا قدیم شہر اپنے تاریخی مساجد، مقبروں، مدارس اور دیگر تعمیراتی آثار کے لیے معروف ہے۔ اموی مسجد اس شہر کی اہم ترین تاریخی و مذہبی عمارتوں میں شامل ہے، جب کہ اس کے قریب واقع صلاح الدین ایوبی کا مقبرہ شہر کے تاریخی ورثے کا ایک نمایاں حصہ ہے۔ اس علاقے میں تاریخی عمارتوں کا تحفظ خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ ان کی تعمیراتی شناخت، قدیم طرزِ تعمیر اور تاریخی وابستگی انہیں محض مقامی یادگاروں کے بجائے وسیع تر ثقافتی ورثے کا حصہ بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ریلائنس کا ایلون مسک کو جواب، ’’ہم نے کبھی مقابلے سے خوف نہیں کھایا‘‘
شام میں تاریخی عمارتوں کی بحالی کے منصوبے ایسے وقت میں جاری ہیں جب ملک کے مختلف حصوں میں برسوں کے تنازع کے بعد ثقافتی ورثے کے تحفظ اور تاریخی مقامات کی بحالی کی ضرورت نمایاں ہے۔ دمشق میں تیکا کی سرگرمیاں بھی اسی وسیع تناظر میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ اس سے قبل ادارہ شام میں دیگر تاریخی و مذہبی مقامات کی بحالی کے منصوبوں میں بھی تعاون کرچکا ہے، جن میں شیخ محی الدین عربی مسجد کے احاطے میں واقع تاریخی ترک قبرستان اور حضرت بلال حبشیؓ کے مقبرے کی بحالی شامل ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد تاریخی مقامات کی دیکھ بھال، ان کی اصل شناخت کا تحفظ اور مشترکہ ثقافتی و مذہبی ورثے کو محفوظ رکھنا ہے۔ صلاح الدین ایوبی کے مقبرے کی بحالی سے متعلق تازہ اعلان اس بات کو نمایاں کرتا ہے کہ تاریخی ورثے کا تحفظ صرف کسی عمارت کی مرمت تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ اس میں اس مقام سے وابستہ تاریخ، یادداشت اور ثقافتی شناخت کو برقرار رکھنا بھی شامل ہے۔ دمشق جیسے تاریخی شہر میں ایسی کوششیں ماضی کے آثار کو مستقبل کی نسلوں تک منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔