Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایوت محل میں صرف ۶؍ ماہ میں ۱۵۲؍ کسانوں کی خود کشی، کئی کسان معاوضوں سے محروم

Updated: August 06, 2026, 10:08 AM IST | Yavatmal

ڈھائی سال کے عرصے میں ضلع کے ۸۰۰؍ کسانوں نے اپنی جان دی، مہلوکین میں ۳۰؍ تا ۵۰؍ سال کے افراد کی کثرت، معاوضہ حاصل کرنے میں کئی طرح کی دشواریاں۔

Despite working day and night, farmers are in a state of distress. (File photo)
رات دن محنت کے باوجود کسان بے حال ہیں۔ (فائل فوٹو)

ودربھ خطہ میں کسانوں کی خودکشی کا مسئلہ مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ مغربی ودربھ کے ایوت محل ضلع میں، ۲۰۲۶ کے ابتدائی چھ ماہ (جنوری سے جون) کے دوران ۱۵۲؍ کسانوں نے خودکشی کی۔ خودکشی کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد نے ایک بار پھر حکومت کی کسانوں کی فلاح و بہبود کی اسکیموں اور امدادی اقدامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ایوت محل ضلع کے رالےگاؤں، مارےگاؤں، داروہ، پوسد، مہاگاؤں، اور ایوت محل تحصیلیں خودکشی سے سب سے زیادہ متاثر بتائی جاتی ہیں۔ ان علاقوں میں کسانوں کی ایک بڑی تعداد بارش سے ہونے والی زراعت پر منحصر ہے۔ آبپاشی کی سہولیات کی کمی، کپاس اور سویا بین جیسی فصلوں پر انحصار اور کاشتکاری کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے کسانوں کی معاشی صورتحال کو کمزور کر دیا ہے۔

۳۰؍ تا ۵۰؍ سال کی عمر کے کسان سب سے زیادہ متاثر

اعداد و شمار کے مطابق خودکشی کرنے والے کسانوں  میں اکثریت ۳۰؍ تا  ۵۰؍ سال کی عمر والوں کی ہے۔ خاندانی ذمہ داریاں، بچوں کی تعلیم، بڑھتے ہوئے قرض اور کاشتکاری سے مسلسل نقصانات کی وجہ سے کسانوں کی بڑی تعداد ذہنی تناؤ کا شکار ہے۔ زیادہ تر معاملات میں، کسانوں نے کیڑے مار دوا پی کر یا پھانسی لگا کر خودکشی کی۔

یہ بھی پڑھئے: بی جے پی کا قلعہ کہلانے والے بانکی پور میں پارٹی کو شکست کیسے ہوئی؟

ڈھائی سال میں ۸۰۰؍ سے زیادہ کسانوں کی موت

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایوت محل ضلع میں ۲۰۲۴ء میں ۳۰۰ ؍سے زیادہ کسانوں نے خودکشی کی جبکہ ۲۰۲۵ء میں ۳۴۲؍ کسانوں نے اپنی جان دی۔ ۲۰۲۶ ءکے پہلے صرف ۶؍ماہ میں خودکشی کے ۱۵۲؍ کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ جبکہ ابھی نصف سال باقی ہے۔ اس طرح پچھلے ڈھائی سال میں ضلع میں ۸۰۰ سے زیادہ کسانوں نے خودکشی کی ہے۔

 معاوضے کیلئے کاغذی کارروائی بڑی رکاو ٹ 

خودکشی کرنے والے کسانوں کے خاندانوں کیلئے حکومت کے تعاون سے امدادی نظام موجود ہونے کے باوجود، بڑی تعداد میں متاثرہ خاندانوں کو امداد سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ بہت سے معاملات میں، ان خاندانوں کو ’نااہل‘ قرار دیا جاتا ہے اگر کسان کا قرض کسی نجی ساہوکار یا غیر نیشنلائز بینک سے لیا گیا ہو، اگر زمین ان کے نام پر رجسٹرڈ نہ ہو، یا وراثت کے دستاویزات نامکمل ہوں۔ بہت سے معاملات میں، اسلئے مدد سے انکار کر دیا جاتا ہے کہ خودکشی کی وجہ خاندانی تنازعات یا دیگر وجوہات ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: وجے سرکار کی اہم پیش رفت، خواتین کو سونے کا سکہ، حج سبسیڈی میں اضافہ کی تجویز

سرکاری اسکیموں پر سوالات 

انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ ’’شیتکری سوالمبن مشن‘ اور ’بلی راجہ چیتنا ابھیان‘ جیسی اسکیموں کے ذریعے کسانوں کو مدد اور راحت فراہم کی جائے گی، لیکن خودکشیوں کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد نے ان اسکیموں کی اثر پر سوال اٹھائے ہیں۔ شیتکری سوالمبن مشن کے سابق صدر کشور تیواری نے الزام لگایا کہ حکومت کسانوں کے بنیادی مسائل کو نظر انداز کر رہی ہے۔ جبکہ قدرتی کاشتکاری کے حامی، ہری ہر لنگن وار نے کسانوں کی خودکشی کے مسئلہ پر دعویٰ کیا کہ کاشتکاری کے بڑھتے ہوئے اخراجات، مہنگے بیج اور کیڑے مار ادویات کسانوں کو قرضوں میں پھنسا رہے ہیں۔ قدرتی کاشتکاری کو فروغ دینے سے کسانوں کے اخراجات کم کئے جا سکتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک کسانوں کو ان کی فصلوں کی مناسب قیمت، بروقت انشورنس معاوضہ، قرض تک آسان رسائی اور آبپاشی جیسی بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کی جاتیں تب تک خودکشیوں پر موثر کنٹرول ناممکن ہے۔ جبکہ ایوت محل ضلع  میں خود کشی کے تازہ ترین اعداد و شمار ایک بار پھر ملک کے زرعی بحران اور کسانوں کی حالت زار کی سنگین تصویر پیش کررہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK