متعدد زخمی،خواتین، بچوں اور تاجروں سمیت کثیر تعداد میں شہری نشانہ بنے، سوڈانی فوج پر حملے کا الزام، اقوام متحدہ نے مذمت کی۔
EPAPER
Updated: October 22, 2026, 1:23 PM IST | Agency | Khartoum
متعدد زخمی،خواتین، بچوں اور تاجروں سمیت کثیر تعداد میں شہری نشانہ بنے، سوڈانی فوج پر حملے کا الزام، اقوام متحدہ نے مذمت کی۔
جنوبی سوڈان اور سوڈان کے درمیان متنازع سرحدی علاقے’ ابئی‘ میں ایک بازار پر ڈرون حملے میں کم از کم ۱۵۳؍ افراد ہلاک اور متعددزخمی ہوگئے۔ جنوبی سوڈان کے ایک عہدیدار نے یہ اطلاع دی۔ یہ حملہ پیر کے روز ابئی شہر کے شمال میں واقع امیٹ بازار پر کیا گیا تھا جس کے متعلق خبریں بدھ کومختلف ذرائع ابلاغ کے پلیٹ فارمز نے نشر کی ہیں۔ ابئی انتظامیہ کے قائم مقام وزیر اطلاعات یوہانا اکول نگور نے اس حملے کیلئے سوڈان کی فوج کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔نگور نے بتایا کہ جائے وقوع پر آگ اب بھی لگی ہوئی تھی اور ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صورت حال انتہائی خراب ہے اور بعض لاشیں جل کر راکھ ہوگئی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ٹرمپ کی ما تحتی میں ۳؍ لاکھ سے زیادہ ویزے منسوخ: امریکی انتظامیہ
سوڈانی حکام کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں خواتین، بچے، بزرگ، مقامی تاجروں، نوک ڈنکا برادری کے افراد، جنوبی سوڈان واپس آنے والے شہریوں اور سوڈانی پناہ گزینوں کی کثیر تعداد شامل ہے۔جنوبی سوڈان کی وزارت خارجہ و بین الاقوامی تعاون نے بھی حملے کا الزام سوڈان کی فوج پر عائد کیا۔ وزارت کے مطابق، ڈرون نے بازار میں کئی مقامات کو نشانہ بنایا۔ اس واقعے کے بعد سوڈان کے سفیر کو طلب کیا گیا اور پڑوسی ملک سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ایسے اقدامات سے باز رہے جن سے شہریوں کی جان و مال کو خطرہ لاحق ہو۔ سوڈان کی مسلح افواج کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔دوسری جانب، خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے سوڈان کے ایک سینئر فوجی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دعویٰ کیا کہ فوج نے ایندھن کے ان ٹینکروں کو نشانہ بنایا تھا جو جنوبی سوڈان سے آرہے تھے اور نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے لیے ایندھن لے جارہے تھے۔افسر نے دعویٰ کیا کہ حملے میں ہلاک ہونے والے افراد آر ایس ایف کے ارکان اور ایندھن کے اسمگلر تھے۔ اس نے کہا کہ فوج شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی۔ ادھر، رائٹرز سے بات کرنے والے بعض سفارت کاروں نے بتایا کہ حملے میں بازار کے اندر واقع ایندھن کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا گیا، جسے آر ایس ایف ماضی میں اپنے جنگجوؤں کو ایندھن فراہم کرنے کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔ آر ایس ایف کی جانب سے بھی اس حملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔