• Thu, 15 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بچوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات پر زور، دنیا کے۲۰؍ فیصد بچے انتہائی غربت کا شکار

Updated: October 15, 2026, 4:20 PM IST | New York

اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ نجات معلا مجید نے خبردار کیا ہے کہ جنگوں، قدرتی آفات، غربت اور ٹیکنالوجی کے بڑھتے غلط استعمال کے باعث بچوں کے خلاف تشدد کے خطرات میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے لیے محض وعدوں کے بجائے مؤثر اقدامات، مناسب مالی وسائل اور مضبوط عالمی تعاون کو یقینی بنایا جائے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

بچوں کے خلاف تشدد کے مسئلے پر اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ نجات معلا مجید نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بحرانوں میں پھنسے بچوں کو تحفظ دینے کے لئے موثر اقدامات کئے جائیں ، کیونکہ موجودہ کوششیں اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لئے ناکافی ہیں۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس مسئلے پر اپنی آخری رپورٹ پیش کرنے کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگوں، قدرتی آفات اور موسمیاتی بحرانوں سے متاثر ساڑھے ۴؍ کروڑ بچے بے گھر ہیں۔ غذائی عدم تحفظ اور ٹیکنالوجی کا تیز رفتار پھیلاؤ بھی بچوں کے خلاف تشدد میں کمی لانے کی کوششوں میں رکاوٹ ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: روس کے بڑے حملے میں یوکرین میں کم از کم۶؍ افراد ہلاک

نجات معلا کا کہنا تھا کہ دنیا کے۲۰؍ فیصد بچے انتہائی غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ صورتحال صرف غریب ممالک تک محدود نہیں بلکہ خوشحال ممالک میں بھی پائی جاتی ہے حالانکہ وہاں نقد امداد، مالی مراعات اور دیگر فلاحی اقدامات پر بھاری رقوم خرچ کی جاتی ہیں۔

انہوں نے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی قیمتوں اور غذائی عدم تحفظ کو بھی تشویشناک مسائل قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض ممالک میں انسانی حقوق سے متعلق پسپائی کے رجحانات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بے شمار فوائد اور مواقع ہیں لیکن ان سے بچوں کے جنسی استحصال، سائبر غنڈہ گردی، جعلی ڈیجیٹل تصاویر اور ویڈیوز کے پھیلاؤ اور بچوں کو مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث کرنے کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔خصوصی نمائندہ نے کہا کہ گزشتہ ۲۰؍ برس کے دوران بچوں کے تحفظ کے لئے قوانین اور پالیسیوں میں اصلاحات تو ہوئی ہیں لیکن ان پر موثر عملدرآمد اور بچوں اور ان کی نگہداشت والوں تک ضروری خدمات کی رسائی یقینی بنانے میں اب بھی بہت سی مشکلات درپیش ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: جرمنی: ۱۳؍ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی زیر غور

انہوں نے ماضی کے تجربات سے حاصل ہونے والے اسباق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مضبوط سیاسی عزم ناگزیر ہے لیکن یہ عزم محض بیانات اور وعدوں تک محدود نہیں رہنا چاہئے۔ اسے ایسی خدمات میں ڈھلنا چاہئے جو بچوں کے تحفظ، فلاح و بہبود اور ان کی ضروریات کو یقینی بنائیں۔ اس مقصد کے لئے مالی وسائل کی فراہمی بھی ضروری ہے۔نجات معلا نے کہا کہ بچوں کے خلاف تشدد سے متعلق جنرل اسمبلی کی پہلی رپورٹ آنے کے ۲۰؍ سال بعد بھی اس مسئلے سے موثر طور پر نمٹنے میں کامیابی کا انحصار کثیرالجہتی تعاون پر ہے۔ دنیا کو سوچنا ہو گا کہ بچوں کا تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود یقینی بنانے کے لئے عالمی برادری کو کس طرح متحد کیا جا سکتا ہے؟

انہوں نے اعلان کیا کہ۵۵؍ ممالک بچوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لئے بنائے گئے عالمی اتحاد (پاتھ فائنڈنگ گلوبل الائنس) میں شامل ہو چکے ہیں جبکہ مزید ممالک بھی اس اتحاد میں شامل ہو رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK