• Wed, 14 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ریاض میں ۳؍ زوردار دھماکے، سعودی عرب میں ریڈ الرٹ

Updated: October 14, 2026, 11:58 AM IST | Agency | Riyadh

ولی عہد محمد بن سلمان بنکر میں روپوش۔ حوثیوں کے حملے سے حالات کشیدہ۔ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں جاں بحق ہونے والے مصری شہری کی تدفین۔

A view of the funeral of the Egyptian national killed in the Houthi attack on King Khalid Airport. Photo: AP/PTI
کنگ خالد ایئرپورٹ پرحوثیوں کے حملے میں جاں بحق ہونے والے مصری شہری کے جنارے کا منظر۔ تصویر: اے پی / پی ٹی آئی

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں  سیکوریٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ سعودی عرب نے ممکنہ خطرے کے حوالے سے ابتدائی وارننگ جاری کی تھی جس کے بعد شہر میں۳؍ دھماکے ہوئے۔ تاہم دھماکوں کی وجہ اور ان سے کوئی نقصان ہوا یا نہیں اس کی فوری تصدیق نہیں ہو سکی۔ریاض کو نشانہ بنانے کے ممکنہ خطرے کے حوالے سے وارننگ جاری کی گئی۔ مقامی لوگوں نے اس کے بعد شہر میں تین دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ دھماکے کا تعلق میزائل یا ڈرون حملے سے تھا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب میں فضائی حملوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق سعودی قیادت والے اتحاد نے پیر کو آنے والے ڈرونز اور میزائلوں کی اطلاع دی۔دریں اثناء ریاض کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو پہلے حملے کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔ تاہم ان واقعات اور ریاض میں سننے والے۳؍ دھماکوں کے درمیان براہ راست تعلق ابھی تک واضح نہیں ہو سکا ہے۔

حوثیوںں کے سعودی ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات پر حملوں کے بعد علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ تازہ وارننگ اور ریاض میں دھماکوں کی اطلاعات کے بعد صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ دھماکوں کی وجہ ممکنہ نقصان اور ہلاکتوں کے بارے میں سرکاری تصدیق کا انتظار ہے۔

 حملے میں جاں بحق ہونے والے شخص کی تدفین

ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں جاں بحق ہونے والے مصری شہری کی منگل کو تدفین عمل میں آئی۔ان کے جنازے میں اہل خانہ ، رشتہ دار اور پڑوسی شریک ہوئے۔

 محمدبن سلمان بنکر میں روپوش

دریں اثناء ۴۱؍سالہ ولی عہد محمد بن سلمان گزشتہ تقریباً ایک ہفتہ سے عوامی طور پر نظر نہیں آئے ہیں۔ اس دوران وہ بنکروں کی سہولت والے اور سخت حفاظتی انتظامات سے لیس محلات میں قیام کر رہے ہیں۔حوثیوں  کے بڑھتے   حملوں کے درمیان سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی سیکوریٹی بڑھا دی گئی ہے۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر ولی عہد محمد بن سلمان کو سخت حفاظتی انتظامات اور زیر زمین بنکروں کی سہولت والے محلات کے درمیان مسلسل منتقل کیا جا رہا ہے، یعنی ان کی رہائش کی جگہ بار بار بدلی جا رہی ہے۔ سعودی عرب نے میزائلوں اور ڈرونز سے متعلق معلومات شیئر کرنے پر قانونی کارروائی کی وارننگ دی ہے۔  ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے ان کی سرگرمیوں سے واقف حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں  کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم اور سلامتی کو لاحق خطرات کے پیش نظر یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ ولی عہد کی حفاظت یقینی بنانے کیلئے خصوصی طور پر منتخب کردہ ایک ٹیم بھی تعینات کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پیر کا دن ملک کا سیاہ دن تھا: ایکناتھ شندے ۔ سپریم کورٹ کیخلاف مورچہ نکالنے پرتنقید کی

ویڈیو بنانے اور شیئر کرنے پر کارروائی کا انتباہ

  سعودی عرب میں حوثیوں  نے حملے تیز کر دیئے ہیں۔ گزشتہ دنوں کنگ خالد ایئرپورٹ پر ہو  ایک مہلک حملے میں۱۳؍ افراد کی موت ہو گئی  جبکہ۳۰۰؍ سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے تھے۔ حوثیوں نے مزید حملے کی وارننگ بھی دی ہے۔ اس دوران سعودی عرب نے۶؍ زبانوں میں ایک پیغام جاری کیا ہے۔ سعودی حکام نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر کوئی شخص میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے عمل یا ان کے گرنے کے مقامات کی ویڈیو بناتا ہے یا ان سے متعلق معلومات شیئر کرتا ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ایسے افراد کو گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب نے مئی میں قومی پیشگی انتباہی نظام (نیشنل ارلی وارننگ سسٹم) کے ذریعہ موبائل فون اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر خطرات سے متعلق الرٹ بھیجنا شروع کیا تھا۔ تاہم  گزشتہ ہفتے حوثیوں  کے حملوں میں تیزی آنے کے باوجود اس نظام کے ذریعہ کوئی الرٹ جاری نہیں کیا گیا۔ اس دوران سول ڈیفنس اتھاریٹی کے ایکس اکاؤنٹ پر موجود پوسٹ کے مطابق گزشتہ ہفتہ  حملوں سے پہلے آخری الرٹ۲۹؍ ستمبر کو جنوبی صوبے نجران کیلئے جاری کیا گیا تھا۔ 

’’صنعاء میں ٹارگٹڈ حملے کرنے جا رہے ہیں‘‘

یمن میں عرب مشترکہ فورسیز کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ عرب مشترکہ فورسیز یمن کے دارالحکومت صنعاء میں ٹارگٹڈ حملے کرنے جا رہی ہیں۔ مشترکہ فورسیز صنعاء میں یمنی آئل کمپنی اور الصباحہ سینٹرل اسٹیشن کو نشانہ بنائے گی۔ اس لئے صنعاء کے شہری ان علاقوں کو فوری طورپر خالی کردیں۔

  حملے کو روکنے میں ناکامی کی تحقیقات شروع

سعودی عرب نے اس بات کا تعین کرنے کے لئے تحقیقات شروع کردی ہیں کہ   حوثیوں کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے میں اس کے فضائی دفاعی نظام کیوں ناکام رہے۔ دو حکومتی عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یمن کے حوثیوں نے پہلے متعدد ڈرونز داغے تاکہ اس کے بعد کروز اور بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کی راہ ہموار کی جاسکے۔ان عہدیداروں کے مطابق حوثیوں کے پاس بیلسٹک میزائل اور جدید نظام موجود ہیں  جن میں ایسے وارہیڈز نصب ہوسکتے ہیں جو پرواز کے دوران اپنی سمت تبدیل کرسکتے ہیں۔ یہ صلاحیت سعودی عرب کے زیر استعمال پیٹریاٹ میزائل شکن نظام اور دیگر فضائی دفاعی نظاموں کیلئے ایک چیلنج بن سکتی ہے۔ایک عہدیدار نے بتایا کہ تحقیقات کا مقصد یہ بھی معلوم کرنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام حملے سے پہلے بروقت انتباہ دینے میں کیوں ناکام رہےجبکہ حوثیوں کے میزائلوں اور ڈرونز نے ریاض تک پہنچنے کیلئے ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK