پیوریسرچ کے سروے کے مطابق ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی میں بھی اسرائیلی حمایت میں نمایاں کمی آئی ہے۔
نیتن یاہو۔ تصویر:آئی این این
پیو ریسرچ سینٹر کے ایک نئے سروے کے مطابق امریکہ میں اسرائیل کے بارے میں منفی رائے رکھنے والوں کی شرح ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے، جبکہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر عدم اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ غزہ میں تباہی مچانے اور ایران کے خلاف ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کیساتھ مل کر عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہونے والی جنگ چھیڑنے کے بعد امریکی نوجوانوں کی اکثریت اسرائیل سے بے زار ہو گئی ہے، اور امریکی شہریوں میں اسرائیل کو ناپسند کرنے کی شرح تیزی سے بڑھی ہے۔
سروے کے مطابق اب۶۰؍ فی صد امریکی بالغ افراد اسرائیل کو منفی نظر سے دیکھتے ہیں، جو گزشتہ سال۵۳؍ فی صد اور۲۰۲۲ء میں تقریباً۴۰؍ فی صد تھا۔ اسی طرح وزیرِ اعظم نیتن یاہو پر بھی عدم اعتماد بڑھ گیا ہے، جہاں۵۹؍فی صد افراد نے عالمی امور کو سنبھالنے کے حوالے سے ان پر کم یا کوئی اعتماد ظاہر نہیں کیا۔
یہ رجحان خاص طور پر نوجوان ووٹرز میں مختلف سیاسی جماعتوں میں یکساں طور پر دیکھا گیا ہے، اور یہ تبدیلی امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران سامنے آئی ہے۔ یہ سروے۲۳؍سے ۲۹؍مارچ۲۰۲۶ء کے دوران۳۵۰۷؍ امریکی بالغ افراد میں کیا گیا۔
نتائج کے مطابق اسرائیل کے بارے میں ’’انتہائی منفی‘‘ رائے رکھنے والوں کی شرح۲۰۲۲ء کے مقابلے میں تقریباً۳؍ گنا بڑھ کر۲۸؍ فی صد تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح نیتن یاہو پر عدم اعتماد بھی بڑھ کر۵۹؍ فی صد ہو گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں۷؍فی صد اور۲۰۲۳ء کے مقابلے میں تقریباً۲۰؍فی صد زیادہ ہے۔
ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی میں بھی اسرائیلی حمایت میں نمایاں کمی آ گئی ہے،۵۰؍ سال سے کم عمر کے شہریوں میں اسرائیل انتہائی غیر مقبول ہو گیا ہے،۴؍سال میں اسرائیلی حمایت ۲۸؍ پوائنٹ سے کم ہو کر منفی۱۶؍پوائنٹ تک آ گئی، ری پبلکن پارٹی کے ووٹرز میں اسرائیلی حمایت منفی۹؍ پوائنٹ پر پہنچ گئی، ری پبلکن کے علاوہ دیگر امریکی شہریوں میں اسرائیلی حمایت منفی۴۷؍پوائنٹ تک آ گئی، ڈیموکریٹس ووٹروں میں حمایت منفی۵۵؍ پوائنٹس تک گر گئی۔ ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی فلسطینیوں کی نسل کشی، حمایت کھونے کی سب سے بڑی وجہ ہے،۴؍ سال کے دوران امریکہ میں فلسطینیوں کی حمایت۴۰؍پوائنٹس تک بڑھی ہے، امریکی تاریخ میں پہلی بار فلسطینیوں کی حمایت اتنی زیادہ حد تک بڑھی ہے۔ اس سروے میں مسلمان، یہودی، اور غیر ہسپانوی ایشیائی بالغوں کا اوور سیمپل کیا گیا ہے تاکہ چھوٹے گروپوں کی رائے درست انداز میں معلوم ہو سکے، نتائج کو قومی آبادی کے تناسب کے مطابق وزن دیا گیا۔جوابات آن لائن اور فون کے ذریعے جمع کیے گئے۔