کبھی درخت کے سائے میں بیٹھا ہوا شخص درخت کو دیکھتے دیکھتے سو جاتا ہے اور درخت ہے کہ اپنے سائے کے ساتھ سونے والے کے وجود میں اتر سا جاتا ہے۔ لہٰذا درخت کی کہانی ذاتی بھی ہے اور کائناتی بھی۔
درخت کو بھی کتاب کی طرح دیکھا اور پڑھا جا سکتا ہے۔ہر شخص کی زندگی میں درخت کا ایک کردار ہوا کرتا ہے۔جو درخت گوتم بدھ کی آگہی سے منسوب ہے، اس کی حیثیت روحانی بھی ہے اور اخلاقی بھی۔ ہر درخت کو’’گیان ورکچھ‘‘ کا اعزاز حاصل نہیں لیکن ہر درخت کی اپنی ایک کہانی ہے جو دوسرے درختوں کی کہانیوں سے الگ نہیں ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ درخت کا تجربہ ہمیشہ ہر شخص کے لئے علم و آگہی کا وسیلہ ہو۔ پھر بھی درخت اپنے سائے میں بیٹھنے والوں سے کچھ کہتا ضرور ہے۔ کبھی درخت کے سائے میں بیٹھا ہوا شخص درخت کو دیکھتے دیکھتے سو جاتا ہے اور درخت ہے کہ اپنے سائے کے ساتھ سونے والے کے وجود میں اتر سا جاتا ہے۔ لہٰذا درخت کی کہانی ذاتی بھی ہے اور کائناتی بھی۔کبھی نظر درخت میں انسانی وجود کے کھردرے پن کو تلاش کر لیتی ہے اور یہ بھی دیکھنے میں کامیاب ہو جاتی ہے کہ درخت پر ایک مشکل وقت بھی آتا ہے۔ اس وقت میں جہاں موجود ہوں وہاں سے گوتم بدھ سے منسوب درخت فاصلے پر ضرور ہے مگر ایک وہ درخت بھی ہے جسے دیکھتے دیکھتے بچپن بھی گزر گیا اور وہ زمانہ بھی گزرتا جاتا ہے جسے نوجوانی کا زمانہ کہتے ہیں۔ آج اس درخت کو ٹھہر کر بہت دنوں کے بعد دیکھا تو ایسا لگا کہ جیسے کوئی ہمدم اور شناسا مل گیا ہو۔ شام کا وقت تھا اور پرندے بھی اپنے آشیانے کی طرف پلٹ رہے تھے۔ درخت کی عمر کے بارے میں وہاں بیٹھے ہوئے ایک بزرگ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ بچپن سے میں اسے دیکھ رہا ہوں۔ وہ درخت کو کچھ اس طرح دیکھنے لگے کہ جیسے پہلی مرتبہ دیکھ رہے ہوں۔ دیکھا تو میری طرف بھی انہوں نے لیکن ان کے ذہن میں کوئی زمانہ گردش کرنے لگا۔ ایسا محسوس ہوا کہ جیسے وہ درخت کے ساتھ اپنی عمر کا تخمینہ لگا رہے ہوں۔ مجھے درخت سے آگے جانا تھا لیکن بزرگ کی نگاہ بار بار میری طرف کو اٹھ جاتی اور درخت کی طرف بھی۔ واپسی پر وہ بزرگ وہاں موجود نہیں تھے لیکن درخت بہرحال اپنی ایک نئی کہانی کے ساتھ موجود تھا۔ درخت کی کہانی کیا ایک انسان کی کہانی ہو سکتی ہے یا پھر اسے کائنات کی کہانی کہا جا سکتا ہے۔ میں جس درخت کا ذکر کر رہا ہوں اسے پانکڑ کا درخت کہا جاتا ہے، کبھی اس کے نیچے لوگ جمع ہو جاتے تھے اور زندگی کے بہت سے معاملات یہیں طے ہو جاتے۔ درخت کے سائے تلے جو بیٹھنے والے تھے ان میں ہر مذہب اور برادری کے لوگ تھے۔ ظاہری فرق کے باوجود باطنی طور پر بہت کچھ ایک جیسا تھا۔
وہ دن کتنے خوبصورت تھے، جب راہ چلتے ہوئے لوگ رک جاتے۔ درخت آج مجھے بہت تنہا اور اداس دکھائی دیا۔ یہ اداسی صرف درخت کی نہیں تھی۔ ہمارے علم اور مطالعے میں اب کتنی دنیا بھر کی چیزیں شامل ہو گئی ہیں مگر یہ درخت اس وقت میرے لیے جس علم اور آگہی کا وسیلہ ہے اس کی ضرورت آج سے پہلے شاید اتنی نہیں تھی۔ اس درخت کے نیچے بیٹھنے والے وقت کے ساتھ رخصت ہوگئے مگر درخت ان بیٹھنے والوں کی یادوں اور تصویروں کے ساتھ کتنا قدیم اور کتنا توانا ہے۔ درخت کے ہلتے ہوئے پتے کیا کچھ کہتے ہیں۔درخت کے نیچے بیٹھ کر اب سوچنے اور غور کرنے کا وقت آگیا ہے۔ یہ سوچے بغیر کہ غیب سے کوئی آوازآئے گی یا کوئی ایسی آگہی حاصل ہوگی جو دنیا میں کسی کو قائد بناسکتی ہے۔ سب سے بڑی دولت تو وہ گیان اور دھیان ہے جو صرف اپنی ذات کے لیے ہی نہیں بلکہ دنیا کی خوبصورتی کے لیے بھی ضروری ہے۔ لہٰذا آج یہ درخت اپنے ماضی پر نازاں ہونے کے ساتھ ساتھ حال کے لیے متفکر اور پریشان ہے۔ شرط یہ ہے کہ اسے دیکھا اور محسوس کیا جائے۔’’زندگی میں دکھ ہی دکھ ہے۔‘‘ گوتم بدھ کی یہ بات درخت کے نیچے یاد آئی اور وقت ِشام وہ زندگی بھی دکھائی دی جو اب بھی عام انسانوں کے ساتھ اسی طرح لگی ہوئی ہے جس کی طرف فیض نےاشارہ کیا تھا:
زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں
ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں
لیکن کسی نے درخت کے پیوند کو نہ دیکھا اور نہ محسوس یا۔ ہر طرف شور ہے زندگی کی خوشحالی اور برکت کا۔ یہ شور کتنا حوصلہ دیتا ہے لیکن شام ہوتے ہی زندگی اتنی تھکی تھکی اور پریشان حال دکھائی دیتی ہے کہ حوصلہ ٹوٹنے لگتا ہے۔ تھکی تھکی سی زندگی اور تھکا تھکا سا نظام جس کے بارے میں وامق جونپوری نے کہا تھا:
’’تھکے ہوئے نظام کی یہ شام بھی کہاں ہوئی‘‘
شام درخت کے نیچے بہت خاموش بھی ہو جاتی ہے اور کبھی خوفناک بھی۔ کوئی سایہ سا اترتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اب تو اس درخت کی لٹیں اتنی لمبی ہو گئی ہیں کہ وہ زمین تک آگئی ہیں۔ ان لٹوں کو پکڑ کربچے جھول سکتے ہیںمگر اس کیلئےنیچے تھوڑاپانی چاہئے جہاں زندگی ذرا دیر کے لئے جمود کو توڑ دے اور گنگنانے لگے۔ یہ راستہ آگے جا کر کئی راستوں سے مل جاتا ہے۔ ہم خوش ہیں کہ ایک تھکے ہوئے نظام کے ساتھ زندگی تھکن سی خالی ہو چکی ہے مگر تھکن ہے کہ وہ کسی نہ کسی طور پر ظاہر ہو ہی جاتی ہے۔ چھوٹی عمر میں بچوں کے چہرے جب روزی روٹی کی تلاش میں بھٹکتے اور دھوپ میں جلتے ہوئے بڑی عمر کا پتہ دینے لگیں، تو سمجھئے کہ ابھی زندگی اتنی خوبصورت اور خوشحال نہیں ہوئی۔ صرف اپنے چہرے کو دیکھ کر زمانے کے چہرے کو تو نہیں دیکھا جا سکتا۔ اپنے چہرے پر زمانے کے چہرے کا کبھی گمان ہو سکتا ہے مگر اس کے لیے اپنی ذات کے زنداں سے نکلنا ضروری ہے۔ یہ کہانی ممکن ہے کہ انتظار حسین کی جنم جنم کہانی کی طرح نہ ہو مگر اس میں ایک جنم کی کہانی تو بہرحال موجود ہے۔ ایسے وقت میں جب کہ مکالمہ کی فضا تنگ ہورہی ہے اور شور بہت ہے، درخت کے نیچے بیٹھ کر خود کو داخلی طور پر سنبھالا جا سکتا ہے، بچایا جا سکتا ہے۔ خود کو سنبھالنے اور بچانے کا مطلب ایک ایسے معاشرے کی تشکیل ہے جس میں انسانی اقدار کا احترام ہو۔ درخت بھی خاموشی کے ساتھ انسانی اور اخلاقی اقدار کی تعلیم دیتے ہیں۔