Updated: October 03, 2026, 1:07 PM IST
| Washington
امریکہ میں ایک حالیہ سروے کے مطابق بڑی تعداد میں شہریوں کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت انسانی بقا کیلئے خطرہ بن سکتی ہے۔ سروے میں اے آئی کمپنیوں کیلئے آزاد حفاظتی معیارات لازمی قرار دینے اور اس شعبے کو ضابطوں کے تحت لانے کی بھی وسیع حمایت سامنے آئی ہے۔
بدھ کو جاری ہونے والے کوئنی پیاک یونیورسٹی کے ایک سروے کے مطابق تقریباً تین چوتھائی امریکی شہریوں کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے نظام انسانی بقا کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ سروے کے مطابق ۷۳؍ فیصد امریکی بالغ افراد نے اے آئی سے ممکنہ خطرے پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان میں ۳۸؍ فیصد نے کہا کہ وہ ’’بہت زیادہ فکرمند‘‘ جبکہ ۳۵؍ فیصد نے ’’کسی حد تک فکرمند‘‘ ہیں۔ دوسری جانب ۲۵؍ فیصد افراد نے کہا کہ انہیں اس حوالے سے کوئی تشویش نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فلائی دبئی کی پرواز کوہائی جیکنگ سے بچانے والے اسمیت مچھر ہیرو قرار
سروے میں اے آئی کے ضابطے بنانے کیلئے بھی وسیع حمایت سامنے آئی۔ ۸۶؍ فیصد افراد نے اے آئی کمپنیوں کیلئے آزاد حفاظتی معیارات پر پورا اترنا لازمی قرار دینے کی حمایت کی، خواہ اس طرح اے آئی کی ترقی کی رفتار سست ہی کیوں نہ ہوجائے۔ دوسری جانب ۷۴؍ فیصد افراد نے کہا کہ انہیں اے آئی کمپنیوں کے سربراہان پر بہت کم یا بالکل اعتماد نہیں ہے، جبکہ ۵۳؍ فیصد کا کہنا تھا کہ اے آئی ان کی روزمرہ زندگی میں فائدے کے مقابلے میں زیادہ نقصان کا باعث بنے گی۔ یہ سروے ۲۴؍ سے ۲۷؍ ستمبر کے درمیان پورے امریکہ میں ایک ہزار ۲۰۲؍ بالغ افراد سے کیا گیا۔ سروے میں غلطی کی گنجائش پلس یا مائنس ۵ء۳؍ فیصد پوائنٹس ہے۔