ایوت محل میں بغیر تنخواہ کے کام کرنے والے لیکچرار اپنی بیٹی کی شادی اور بیٹے کی تعلیم کے تعلق سے فکر مند تھے
EPAPER
Updated: May 23, 2024, 8:57 AM IST | yavatmal
ایوت محل میں بغیر تنخواہ کے کام کرنے والے لیکچرار اپنی بیٹی کی شادی اور بیٹے کی تعلیم کے تعلق سے فکر مند تھے
۱۰؍ سال سے تنخواہ نہ ملنے سے دلبرداشتہ ایک لیکچرار نے زہر کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ یہ چونکا دینے والا واقعہ ایوت محل ضلع کے پوسد علاقے میں پیش آیا۔ گزشتہ کئی سال سے تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے انہوں نے کھیتی باڑی کے ذریعے آمدنی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ لیکن اس میں بھی انہیں ناکامی ہاتھ لگی اس کے بعد انہوں نے انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ یہ معاملہ گزشتہ پیر کو پیش آیا لیکن ایک روز قبل روشنی میں آیا ۔
اطلاع کے مطابق جنتا شکشن پرسارک منڈل کےزیرنگرانی جاری غیر امدادی فزیکل ایجوکیشن کالج میں پروفیسرانل چوان کام کرتے تھےلیکن ۱۴۔۲۰۱۳ء کے بعد طلبہ کی تعداد میں کمی واقع ہو نے کی بنا پر اس کالج سمیت علاقے کے کئی کالج برائے نام جاری ہیں۔پچھلے ۱۰؍ برس سے انل چوان کالج میں کام تو کر رہے تھےلیکن انہیں تنخواہ نہیں مل رہی تھی۔ کالج کے بعد فارغ وقت ملنے پر انہوں نے زراعت کی طرف توجہ دی لیکن اس میں بھی کامیابی نہیں ملی۔ ان کی ایک بیٹی گریجویشن کر رہی ہے،انہیں اسکی شادی کی فکر ستانے لگی۔ اکلوتے بیٹے کو تعلیم دلانا بھی دشوار ہو رہا تھا۔ ان مسائل سے پریشان ہوکر انہوںنے زہر کھا کر اپنے سفر حیات کا خاتمہ کر لیا۔
اس واقعہ کی وجہ سے تعلیمی حلقوں میں سنسنی پھیل گئی ۔زہر کھانے کے بعد انیل چوان نے اس کی اطلاع اپنے موبائل فون سے گھر والوں کو دی۔ اسکے بعد گھر کے سارے لوگ کھیت کی طرف بھاگے۔ چوان کو فوری طور پر شہر کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں علاج کیلئے داخل کروایا گیا لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ آخرکار ڈاکٹر نے جانچ کے بعد انہیں مردہ قرار دے دیا۔