Inquilab Logo Happiest Places to Work

مویشی لے جا رہے افراد کی بجرنگ دل کارکنان سے جھڑپ، ایک کی موت

Updated: May 26, 2026, 3:43 AM IST | Yavatmal

ایوت محل کے ناگپور۔ تلجا پور ہائی وے پر ’گئو رکشک‘ گاڑی کا پیچھا کرتے ہوئے دور نکل گئے جہاں ان کی گاڑی کو روک کر حملہ کیا گیا

Resentment over daily vehicle stops (file photo)
آئے دن گاڑیوں کو روکنے پر ناراضگی( فائل فوٹو)

گاڑی میں مویشیوں کو لے جا رہے افراد اور انہیں روکنے کی کوشش کرنے والے بجرنگ دل کارکنان کے درمیان جھڑپ میں کا واقعہ سامنے آیا ہے جس میں بجرنگ دل کے کارکن کی موت واقع ہو گئی ہے۔     مہلوک ’ گئورکشک‘ کی شناخت گجانن ماروتی سوروشے ( ساکن وڑد۔ موہانہ، تعلقہ مہاگاؤں) کے طور پر کی گئی ہے۔ 
 یہ واقع سنیچر اور اتوار کی درمیانی  رات کو پیش آیا۔ جبکہ ا س معاملے میں پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دو مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ موصولہ تفصیلات کے مطابق بجرنگ دل کارکنان کو اطلاع ملی تھی کہ ناگپور۔تلجاپور قومی شاہراہ پر بولیرو پک اپ گاڑی میں ذبح کرنے کیلئے مویشیوںکو لے جایا جا رہا ہے۔ اس اطلاع کی بنیاد پر گجانن سوروشے اور اس کے دیگر تین بجرنگ دل کارکنان نے بیجورا ٹول پلازہ پر جال بچھایا اور جیسے ہی مویشیوں سے بھری گاڑی اِنہیں نظر آئی، گجانن نے اپنی کار سے اُن کا پیچھا شروع کر دیا۔ تاہم، مویشی لے جارہی گاڑی نے اپنا رخ عمرکھیڑ سے ۵؍کلومیٹر دور سُوکلی گاؤں کی طرف موڑ دیا۔ 
 دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اس راستے پر پہلے سے کچھ لوگ انتظار میں بیٹھے تھے جیسے ہی گجانن کی کار وہاں پہنچی اُسے گھیر کر روک لیا گیا۔ گجانن اور دیگر بجرنگ دل کارکنان کو گھسیٹ کر گاڑی سے باہر نکالا گیا اور پتھروں اور لکڑی کے ڈنڈوں سے مارا پیٹا گیا اور اس جھڑپ کے بعد ملزمین موقع سے فرار ہوگئے۔ اس دوران گاؤں والے شور سن کر وہاں پہنچے۔ کچھ دیر بعد زخمی حالت میں پڑے گجانن اُس کے ساتھیوں کو اسپتال لے جایا گیا۔ تاہم شدید زخمی گجانن کی راستے میں ہی موت ہوگئی۔
  پولیس دعویٰ کے مطابق اس واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئی ہے۔ واقعہ کے بعد علاقے میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور غلط افواہوں کی روک تھام کیلئے پولیس نے میڈیا کو اس خبر سے دور رکھا۔ بتادیں کہ ایوت محل ضلع کا عمرکھیڑ تعلقہ فرقہ وارانہ کشیدگی کے لحاظ سے بہت حساس ہے اور عیدالاضحیٰ سے عین قبل اس واقع نے پولیس انتظامیہ کی نیند اڑا دی تھی۔ تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کی اور فی الحال علاقے میں حالات معمول پر ہیں۔ 
 اس معاملے میں متوفی کے بھائی دنیشور سوروشے کی شکایت پر شیخ سلطان (ساکن سوکلی) کو کلیدی ملزم گردانتے ہوئے اور دیگر کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ ۱۰۹ (۱)، ۱۰۳ (۱)، ۳ (۵) کے تحت قتل کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔ مفرور ملزمین کی تلاش کیلئے پولیس کی خصوصی ٹیمیں حیدرآباد، ناندیڑ، ہنگولی اور پربھنی روانہ کی گئی ہیں۔ پولیس نے انہیں جلد گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔  

yavatmal Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK