• Fri, 30 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کی پالیسیوں کے تناظر میں یورپی یونین اور کنیڈا کا اہم قدم

Updated: October 30, 2026, 6:04 PM IST | Montreal

یورپی یونین اور کنیڈا نے عالمی سیاسی و معاشی حالات اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی تجارتی و خارجہ پالیسیوں کے تناظر میں اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم پیش رفت کی ہے۔ دونوں فریقوں نے تجارت، دفاع، توانائی، جدید ٹیکنالوجی، اہم معدنیات اور اقتصادی سلامتی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے ایک وسیع تر اسٹریٹجک شراکت داری کی سمت پیش رفت کی ہے۔

Europe And Canada.Photo:INN
یورپی یونین اور کنیڈا۔ تصویر:آئی این این

یورپی یونین اور کنیڈا نے عالمی سیاسی و معاشی حالات اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی تجارتی و خارجہ پالیسیوں کے تناظر میں اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم پیش رفت کی ہے۔ دونوں فریقوں نے تجارت، دفاع، توانائی، جدید ٹیکنالوجی، اہم معدنیات اور اقتصادی سلامتی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے ایک وسیع تر اسٹریٹجک شراکت داری کی سمت پیش رفت کی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد عالمی غیر یقینی صورت حال میں مشترکہ معاشی مفادات کا تحفظ، تجارتی روابط میں اضافہ اور کسی ایک بڑی طاقت پر انحصار کم کرنے کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ کنیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی اور یورپی یونین کی اعلیٰ قیادت کے درمیان مونٹریال میں ۲۹؍ اور ۳۰؍ اکتوبر کو ہونے والی سربراہی ملاقات اس نئی شراکت داری کے لیے اہم مرحلہ ہے۔ 
کنیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لیین اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا کے ساتھ مونٹریال میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کو نئی سطح پر لے جانے کی تجویز پیش کی۔ اس شراکت داری کو ’’الائنس فار دی فیوچر‘‘ کا نام دیا گیا ہے، جس کا مقصد دونوں فریقوں کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور ادارہ جاتی روابط کو مزید گہرا کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت تجارت، دفاع، توانائی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، اہم معدنیات، تحقیق اور صنعتی پیداوار میں تعاون بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔ یورپی قیادت کے مطابق یہ اتحاد مشترکہ خوش حالی اور اقتصادی سلامتی کے لیے ایک وسیع فریم ورک فراہم کرے گا۔  
اس پیش رفت کے پس منظر میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے تجارتی محصولات عائد کرنے کی دھمکیاں اور واشنگٹن کے ساتھ کنیڈا کے بڑھتے ہوئے تجارتی اختلافات اہم سمجھے جارہے ہیں۔ کنیڈا اپنی برآمدات کے لیے امریکی منڈی پر انحصار کم کرنا چاہتا ہے، جبکہ یورپی یونین بھی اپنی اقتصادی اور دفاعی خودمختاری کو مضبوط بنانے کے لیے نئے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون بڑھا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے کنیڈا اور یورپی یونین کے قریب آنے پر تنقید کرتے ہوئے یورپ کو بھی بھاری محصولات عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔ تاہم مارک کارنی اور یورپی قیادت نے واضح کیا ہے کہ اس شراکت داری کا مقصد امریکہ کے خلاف کوئی اتحاد بنانا نہیں، بلکہ اپنے معاشی مفادات کا تحفظ، تجارتی مواقع میں اضافہ اور عالمی حالات کے مقابلے میں زیادہ مضبوطی حاصل کرنا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:فٹبالر حمزہ چودھری نے غزہ کے بچوں کیلئے ایک لاکھ پاؤنڈ سے زائد فنڈ جمع کئے

اس مجوزہ شراکت داری کا ایک اہم پہلو کنیڈا کو یورپی یونین کی پہلی غیر یورپی ’’ایسوسی ایٹ رکن‘‘ بنانے کی تجویز بھی ہے۔ ارسولا فان ڈیر لیین نے کنیڈا کے ساتھ تعلقات کو روایتی شراکت داری سے آگے لے جانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ تاہم اس کا مطلب یورپی یونین کی مکمل رکنیت نہیں ہوگا۔ مارک کارنی نے بھی واضح کیا ہے کہ کنیڈا یورپی یونین کا باقاعدہ رکن بننے کا ارادہ نہیں رکھتا اور کسی بھی نئے انتظام کے لیے کنیڈا کی پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہوگی۔ مزید یہ کہ ایسوسی ایٹ رکنیت کی اصطلاح موجودہ یورپی یونین کے معاہدوں میں باضابطہ طور پر متعین نہیں ہے، اس لیے اس کی قانونی اور ادارہ جاتی شکل طے کرنا ابھی باقی ہے۔ 
دفاعی شعبے میں دونوں فریق پہلے ہی تعاون کو وسعت دے چکے ہیں۔ کنیڈا یورپی یونین کے ۱۵۰؍ ارب یورو کے دفاعی پروگرام سکیورٹی ایکشن فار یورپ  میں شامل ہونے والا پہلا غیر یورپی ملک ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے یورپی دفاعی پیداوار اور مشترکہ فوجی خریداری میں کینیڈین کمپنیوں کو بھی مواقع حاصل ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ لیتھیم، کوبالٹ، نکل اور گریفائٹ جیسی اہم معدنیات کی فراہمی، توانائی کے منصوبوں، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ ٹیکنالوجی میں مشترکہ سرمایہ کاری پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔ سربراہی اجلاس کے دوران کنیڈا کو یورپ کے ۱۲؍ سپر کمپیوٹرز کے نیٹ ورک تک رسائی دینے کے لیے ایک معاہدے کو حتمی شکل دینے کا اعلان بھی سامنے آیا۔ اس سے تحقیق، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دونوں فریقوں کا تعاون مزید بڑھ سکتا ہے۔ یورپی یونین اور کنیڈا کے درمیان تجارتی تعلقات پہلے ہی خاصے مضبوط ہیں۔ یورپی کونسل کے مطابق ۲۰۲۵ء میں   فریقوں کے درمیان اشیا اور خدمات کی تجارت کا مجموعی حجم تقریباً ۱۳۰؍ ارب یورو رہا، جو  ۲۰۱۶ء کے مقابلے میں ۸۰؍ فیصد سے زیادہ ہے۔ دونوں معیشتیں مجموعی طور پر عالمی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً پانچواں حصہ اور عالمی اشیا و خدمات کی تجارت کا لگ بھگ ۱۹؍ فیصد حصہ رکھتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:رجنی کانت کی فلم’ ’جیلر ۲‘‘ نے باکس آفس پر تاریخ رقم کردی

دونوں کے درمیان جامع اقتصادی و تجارتی معاہدہ  بھی پہلے سے نافذ العمل ہے، جس کے تحت بیشتر اشیا پر درآمدی محصولات ختم کیے جاچکے ہیں۔ نئے اتحاد کا مقصد اسی موجودہ تجارتی بنیاد کو مزید مضبوط بنانا، سرمایہ کاری بڑھانا اور کاروباری اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔  ماہرین کے مطابق کنیڈا اور یورپی یونین کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون عالمی معیشت اور بین الاقوامی تعلقات میں اہم تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک جانب کنیڈا امریکی منڈی پر اپنے انحصار کو کم کرنے کے لیے تجارتی شراکت داروں کی تعداد بڑھانا چاہتا ہے، تو دوسری جانب یورپی یونین دفاع، توانائی، ٹیکنالوجی اور اہم صنعتی خام مال کے شعبوں میں اپنی خودمختاری مضبوط کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ تاہم اس شراکت داری کی حقیقی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ سیاسی اعلانات کو کتنی جلدی عملی معاہدوں، سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ فی الحال ’’الائنس فار دی فیوچر‘‘ کو دونوں فریقوں کے درمیان تعاون کے ایک وسیع تر فریم ورک کے طور پر دیکھا جارہا ہے، نہ کہ یورپی یونین کی مکمل رکنیت یا کسی نئے آزاد تجارتی معاہدے کے طور پر۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK