Updated: October 30, 2026, 7:02 PM IST
| Washington
جو بائیڈن انتظامیہ سے استعفیٰ دینے والے وہائٹ ہاؤس اور محکمہ خارجہ کے متعدد سابق حکام اور ملازمین نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ’امریکی حکام آئین اور امریکی عوام کے ساتھ باضابطہ عہد کرتے ہیں۔ جب وہ ہمارے قوانین، ہمارے مفادات اور ہماری بنیادی ترین اقدار کی خلاف ورزی کرکے اس حلف کو توڑتے ہیں تو ہمیں ان کا احتساب کرنے کی ضرورت ہے۔‘ انہوں نے بائیڈن انتظامیہ کے اعلیٰ حکام پر، جنہیں انہوں نے غزہ پالیسی کے معمار قرار دیا، اپنے کردار پر پردہ ڈالنے کی سرگرم کوششوں کا الزام لگایا۔
غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کی وحشیانہ جنگی کارروائیوں کو ملنے والی امریکی حمایت کے خلاف احتجاجاً سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ سے استعفیٰ دینے والے امریکی حکام کے ایک گروپ نے ۲۰۲۸ء کے صدارتی امیدواروں پر زور دیا ہے کہ وہ ان افراد کو ملازمت نہ دیں جو ’(فلسطینیوں کی) نسل کشی کے ذمہ دار‘ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ایران کے پر دوبارہ جنگ کے خدشات، اسرائیل میں۱۰؍ فوجی کارگو طیارے تعینات
دستخط کنندگان نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ’امریکی حکام آئین اور امریکی عوام کے ساتھ باضابطہ عہد کرتے ہیں۔ جب وہ ہمارے قوانین، ہمارے مفادات اور ہماری بنیادی ترین اقدار کی خلاف ورزی کرکے اس حلف کو توڑتے ہیں تو ہمیں ان کا احتساب کرنے کی ضرورت ہے۔‘ انہوں نے بائیڈن انتظامیہ کے اعلیٰ حکام پر، جنہیں انہوں نے غزہ پالیسی کے معمار قرار دیا، اپنے کردار پر پردہ ڈالنے کی سرگرم کوششوں کا الزام لگایا۔
اس خط میں ۲۰۲۸ء کی صدارتی نامزدگی کے امیدواروں پر اس بات کا عہد کرنے کیلئے زور دیا گیا کہ وہ کسی بھی ایسے انتظامی اہلکار کو ملازمت نہیں دیں گے جو غزہ میں اسرائیل کے فوجی اقدامات کو ممکن بنانے کا براہِ راست ذمہ دار تھا۔ خط میں مزید کہا گیا کہ ان حکام نے امریکی اور بین الاقوامی دونوں قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی اور غلط مقاصد کے حصول کیلئے پرعزم انداز میں کام کیا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ میں اشیائے خورونوش کی بڑھتی قیمتوں کے باعث نصف آبادی اپنی خوراک کم کرنے پر مجبور
واضح رہے کہ وہائٹ ہاؤس اور محکمہ خارجہ کے متعدد سابق حکام اور ملازمین نے ۲۰۲۴ء میں اس وقت استعفیٰ دے دیا تھا جب واشنگٹن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حکومت کو ہتھیاروں اور امداد کی ترسیل مسلسل جاری رکھی۔ اپریل ۲۰۲۴ء میں مستعفی ہونے والی محکمہ خارجہ کی سابق ملازم اور خط کی دستخط کنندہ اینیل شیلین نے پہلے کہا تھا کہ اسرائیل کی امریکی حمایت نے مشرق وسطیٰ میں انسانی حقوق کو فروغ دینا انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ انہوں نے اس وقت کہا تھا کہ میں اب واقعی اپنا کام انجام دینے کے قابل نہیں رہی تھی۔