Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران جنگ پر عالمی تنقید تیز، یورپ اور ہندوستان میں شدید ردعمل

Updated: March 13, 2026, 5:08 PM IST | Tehran

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری حملوں کے بعد دنیا بھر میں سیاسی ردعمل اور تنقید میں اضافہ ہو گیا ہے۔ یورپ اور ایشیا کے متعدد لیڈروں نے اس جنگ کو غیر ضروری اور خطرناک قرار دیتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ اٹلی کی اپوزیشن لیڈر نے اس تنازع کو ’’غیر قانونی جنگ‘‘ قرار دیا جبکہ ہندوستان کی وزارت خارجہ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس پر محتاط مؤقف اختیار کیا ہے۔

Devastation in Israel caused by Iranian missiles. Photo: PTI
ایرانی میزائل سے اسرائیل میں ہونے والی تباہی۔ تصویر: پی ٹی آئی

(۱) اطالوی اپوزیشن لیڈر شلین نے ایران تنازع کو ’غیر قانونی جنگ‘ قرار دیا
اٹلی کی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کی لیڈر ایلی شلین نے ایران کے خلاف جاری امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو ’’غیر قانونی جنگ‘‘ قرار دیتے ہوئے فوری طور پر بمباری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’’یہ جنگ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔‘‘ شلین نے زور دے کر کہا کہ مشرق وسطیٰ پہلے ہی کئی بحرانوں کا شکار ہے اور ایک نئی بڑی جنگ پورے خطے کو مزید غیر مستحکم کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق ’’ہمیں فوری جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کی طرف واپس جانا ہوگا کیونکہ فوجی کارروائیوں سے مسئلے حل نہیں ہوتے بلکہ مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔‘‘ انہوں نے یورپی یونین سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس تنازع پر واضح اور مضبوط مؤقف اختیار کرے۔ شلین کا کہنا تھا کہ ’’یورپ کو خاموش تماشائی نہیں بننا چاہئے بلکہ اسے امن کے قیام کیلئے فعال کردار ادا کرنا چاہئے۔‘‘

(۲) آبنائے ہرمز سے ہندوستانی جہازوں کی اجازت پر بات قبل از وقت: وزارت خارجہ
ہندوستان کی وزارت خارجہ نے ان رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے ہندوستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے خصوصی اجازت دی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر کوئی حتمی بیان دینا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے درمیان گزشتہ چند دنوں میں تین مرتبہ بات چیت ہو چکی ہے۔ جیسوال کے مطابق ’’آخری گفتگو میں جہاز رانی کی سلامتی اور ہندوستان کی توانائی کی ضروریات کے حوالے سے اہم امور زیر بحث آئے۔ اس سے آگے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتا۔‘‘ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کیلئے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کے تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ حالیہ جنگی صورتحال کے باعث اس علاقے میں بحری جہازوں کی سلامتی کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔ہندوستانی حکام کا کہنا ہے کہ حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ہندوستانی تجارتی جہازوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے سفارتی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔

(۳) سابق ہندوستانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے ایران پر حملہ کرکے بڑی غلطی کی
ہندوستان کے سابق وزیر خارجہ نے ایران پر امریکی حملے کو ایک ’’بڑی اسٹریٹجک غلطی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایران جیسے اہم ملک پر حملہ مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو متاثر کرے گا اور اس کے نتیجے میں خطے میں مزید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام نہ صرف علاقائی استحکام کیلئے خطرناک ہے بلکہ عالمی توانائی کی سپلائی چین کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس کا اثر پوری دنیا کی معیشت پر پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’بین الاقوامی تنازعات کو فوجی کارروائیوں کے ذریعے حل کرنے کی بجائے سفارتی مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہئے۔‘‘
ماہرین کے مطابق ہندوستان جیسے بڑے توانائی درآمد کرنے والے ممالک کیلئے مشرق وسطیٰ میں استحکام انتہائی اہم ہے، کیونکہ اس خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی براہ راست توانائی کی فراہمی اور عالمی تجارت کو متاثر کر سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK