ایران نے عالمی برادری کو آگاہ کیا ۔ انسداد دہشت گردی فورس کےکئی مقامات پر چھاپے ، اسرائیل کی خفیہ ایجنسی سے جڑے ’فسادیوں‘ کی گرفتاری کا دعویٰ
EPAPER
Updated: January 27, 2026, 11:35 PM IST | Tehran
ایران نے عالمی برادری کو آگاہ کیا ۔ انسداد دہشت گردی فورس کےکئی مقامات پر چھاپے ، اسرائیل کی خفیہ ایجنسی سے جڑے ’فسادیوں‘ کی گرفتاری کا دعویٰ
ایران نے عالمی برادری کو آگاہ کیا ہے کہ امریکہ او ر اسرائیل دہشت گردی کی معاونت کر رہے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایران کی انسداد دہشت گردی فورس نے کئی مقامات پر چھاپے مارے اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسی سے جڑے ’فسادیوں‘ کی گرفتاری کا دعویٰ کیا۔ ایرانی میڈیا نے ملک میں فساد میں ملوث گرفتار افراد کا ویڈیو بھی جاری کیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے عالمی برادری کو امریکہ اور اسرائیل کی دہشت گردی کی معاونت کرنے سے متعلق آگاہ بھی کیا ہے۔ گزشتہ روز ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ کہ اگر کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو ایران کی جانب سے اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
اسی دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کے ساتھ سفارت کاری اب بھی ایک اختیار کے طور پر میز پر موجود ہے۔پیر کو’اکیسوس‘ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، میں یہ جانتا ہوں۔ انہوں نے کئی بار رابطہ کیا ہے، وہ بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ خطے میں ’بڑا بحری بیڑا‘ بھیجنے کے بعد ایران کے ساتھ صورتحال غیر مستحکم ہے۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ میں طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ بھیجنے کے فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس ایران کے قریب ایک بڑا بحری بیڑا موجود ہے جو وینزویلا کے گرد موجود بیڑے سے بھی بڑا ہے۔ تاہم ٹرمپ نے ان اختیارات پر بات کرنے سے گریز کیا جو ان کی قومی سیکوریٹی ٹیم نے انہیں پیش کئے ہیں۔مذکورہ ویب سائٹ نے صورتحال سے با خبر ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ٹرمپ نے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ امکان ہے کہ وہ اس ہفتے مزید مشاورت کریں گے اور ان کے سامنے اضافی فوجی اختیارات پیش کئے جائیں گے۔دوسری جانب ایک امریکی عہدیدار نے پیر کو اعلان کیا کہ اگر ایران رابطہ کرنا چاہے تو امریکہ تعاون کے لئے تیار ہے۔ رائٹر کے مطابق مذاکرات کے لئے ایران پر عائد شرائط کے سوال پر عہدیدار نے جواب دیا ۔میرا خیال ہے کہ وہ شرائط جانتے ہیں۔وہ شرائط سے واقف ہیں۔یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران نے دوبارہ خبردار کیا ہے کہ خطے کی سیکوریٹی کو غیر مستحکم کرنے کی کوئی بھی کوشش نہ صرف اسے نشانہ بنائے گی بلکہ دیگر علاقوں تک بھی پھیل جائے گی۔
اسی دوران متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ وہ اپنی فضائی، زمینی اور بحری حدود کو ایران پر حملے کے لئے استعمال نہیں ہونے دے گا۔پیر کو متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ان کا ملک اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کے لئے ملک کی فضائی، زمینی اور حدود کا استعمال نہیں کرنے دیا جائے گا اور نہ ہی اس حوالے سے کسی بھی قسم کی لوجسٹیکل سپورٹ فراہم کی جائے گی۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات بات چیت، کشیدگی میں کمی، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور خودمختاری کے تحفظ کا حامی ہے۔متحدہ عرب امارات کا کا کہنا ہے کہ وہ تمام مسائل کو سفارتی طریقے سے حل ہوتا ہوا دیکھنا چاہتا ہے۔واضح ہو کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہوئی نظر آرہی ہے اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ حالیہ دنوں میں تہران کے خلاف فوجی کارروائی کا عندیہ بھی متعدد مرتبہ دے چکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران سے نئے معاہدےکیلئے ۴؍ شرائط عائد کرنا چاہتا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق ان شرائط میں افزودہ یورینیم کی ایران سے مکمل منتقلی، مقامی سطح پر یورینیم کی افزودگی روکنا، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی حد بندی اور علاقائی پراکسیز سے تعاون بند کرنا شامل ہیں۔