• Tue, 27 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’بنیاد پرست اسلام‘ نامی کوئی چیز نہیں، یہ اسرائیلی پروپیگنڈہ ہے: ٹکر کارلسن

Updated: January 27, 2026, 8:05 PM IST | Washington

امریکی صحافی اور کمنٹیٹر ٹکر کارلسن نے حالیہ انٹرویو میں ’ریڈیکل اسلام‘ (بنیاد پرست اسلام) کو امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دینے والی رائے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حقیقت میں خوف اور خطرے کا تصور ہے جسے اسرائیل اور اس کے حمایتی حلقوں نے بڑھاوا دیا ہے۔ ان کے بیانات نے امریکی سوشل اور سیاسی مباحثے میں شدید بحث کھڑی کر دی ہے۔

American media personality Tucker Carlson. Photo: X
امریکی میڈیا شخصیت ٹکر کارلسن۔ تصویر: ایکس

امریکی میڈیا شخصیت ٹکر کارلسن نے ’ریڈیکل اسلام‘ کو امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دینے والی رائے کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تصور حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ سیاسی اور نفسیاتی پروپیگنڈہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے خوف کی تشکیل اسرائیلی حکومت اور اس کے حمایتی نیٹ ورک نے کی ہے، جو امریکی عوام میں اس موضوع پر تشویش پھیلاتے ہیں۔ واضح رہے کہ کارلسن نے دسمبر ۲۰۲۵ء میں دی امریکن کنزرویٹیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں یہ بات کہی تھی، جس کے ویڈیوز سوشل میڈیا پر ایک بار پھر وائرل ہوگئے اور صارفین کے درمیان دوبارہ بحث چھڑ گئی ہے۔ اپنے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ ۲۴؍ سال میں امریکہ میں کوئی بھی شخص ریڈیکل اسلام کی وجہ سے ہلاک نہیں ہوا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ میں اسے غلط قرار دیتا ہوں۔ امریکیوں کو بھی اس پر توجہ نہیں دینا چاہئے۔ ان کے مطابق، امریکہ میں موجودہ خوف یا تشویش خودبخود نہیں ابھرتی بلکہ اسے اسرائیلی حکومت، اس کے حامیوں، اور ایک غیر رسمی نیٹ ورک کے ذریعے بڑھاوا دیا جاتا ہے۔ کارلسن نے اسے ایک قسم کی نفسیاتی جنگ بتایا، جس کا مقصد یہ قائل کرنا ہے کہ اسرائیل کے دشمن خود بخود امریکہ کے دشمن ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا ایک اور یوٹرن، ایران سے مذاکرات کے اشارے

ویڈیوز دوبارہ وائرل ہونے کے بعد ان کے موقف پر سیاستدانوں اور عوام کے درمیان زبردست تنازع شروع ہو گیا ہے، اور ریڈیکل اسلام کے حقیقی خطرے کے بارے میں بحث نے امریکی سیاسی منظر نامے میں اہمیت اختیار کر لی ہے۔ کارلسن نے اپنے موقف میں مزید کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کو اندرونی مسائل جیسے منشیات کی لت، اقتصادی مشکلات، بے روزگاری اور ثقافتی تبدیلیوں پر زیادہ توجہ دینی چاہیے، بجائے اس کے کہ وہ ریڈیکل اسلام کو سب سے بڑا خطرہ سمجھے۔ ان کے بقول، یہ معاشرتی چیلنجز عوام کی روزمرہ زندگیوں پر بہت زیادہ اثر انداز ہو رہے ہیں اور انہیں ترجیحی حیثیت ملنی چاہیے۔ تاہم ان کے بیانات نے تنقید کو بھی دعوت دی ہے، اور ان پر سوشل میڈیا اور عوامی مباحثوں میں سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ نقادوں نے دعویٰ کیا ہے کہ کارلسن نے تاریخی حقائق کو نظر انداز کیا ہے کیونکہ گزشتہ دو دہائیوں میں امریکہ میں متعدد دہشت گردانہ حملوں ہوئے ہیں جس میں انتہا پسندی اور اسلام پسند نظریات کا کردار رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK