• Wed, 28 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۲۰۲۵ء میں ہندوستان کو مطلوب ۷۱؍ مفرور، غیرممالک میں پناہ لئے ہوئے ہیں، ۱۲؍ سال میں سب سے زیادہ تعداد

Updated: January 27, 2026, 10:02 PM IST | New Delhi

گزشتہ ۱۲ برسوں کے دوران، مفرور ملزمین کی تعداد ۲۰۱۳ء میں ۱۵ کی کم ترین سطح سے لے کر ۲۰۱۵ء میں ۴۲ اور پھر ۲۵-۲۰۲۴ء کے دوران ۷۱ تک پہنچ گئی ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن، کی حال ہی میں جاری کردہ سالانہ رپورٹ کے مطابق، مالی سال ۲۵-۲۰۲۴ء کے دوران ہندوستانی حکام کو مطلوب ۷۱ سے زائد ملزمین نے غیر ممالک میں پناہ لے رکھی ہے۔ گزشتہ ۱۲ برسوں کے دوران، مفرور ملزمین کی یہ بلند ترین تعداد ہے۔ 

انگریزی روزنامہ ’دی ہندو‘ کے مطابق، وزارت کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم مفرور ملزمین کی تعداد میں گزشتہ برسوں کے مقابلے تیزی سے اضافے ہوا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران، مفرور ملزمین کی تعداد ۲۰۱۳ء میں ۱۵ مفرور ملزمین کی کم ترین سطح سے لے کر ۲۰۱۵ء میں ۴۲ اور پھر ۲۵-۲۰۲۴ء کے دوران ۷۱ تک پہنچ گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسی مالی سال کے دوران ۲۷ مفرور ملزمین کو ہندوستان واپس لایا گیا۔ اسی دوران، ہندوستانی حکام نے دیگر ممالک کو مطلوب کم از کم ۲۰۳ مفرور ملزمین کا ہندوستان کے اندر پتہ لگایا یا ان کا سراغ لگایا، جو مجرمانہ تحقیقات میں بڑھتے ہوئے بین الاقوامی تعاون کی نشان دہی کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: راہل گاندھی نے فضائی آلودگی کا مسئلہ اٹھایا

سی بی آئی، انٹرپول رابطہ اور قانونی تعاون

رپورٹ میں سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے طریقہ کار پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے، جو انٹرپول کیلئے ہندوستان کے ’نیشنل سینٹرل بیورو‘ کے طور پر بھی کام کرتی ہے۔ اپریل ۲۰۲۴ء اور مارچ ۲۰۲۵ء کے درمیان، ہندوستانی حکام نے غیر ملکی حکام کو ۷۴ ’لیٹرز روگیٹری‘ (Letters Rogatory) روانہ کئے۔ لیٹرز روگیٹری باضابطہ عدالتی درخواستیں ہوتی ہیں جن کے ذریعے مجرمانہ تحقیقات میں دوسرے ملک کے حکام سے مدد مانگی جاتی ہے۔ ان میں سے ۵۴ درخواستیں ایسے معاملات کے متعلق تھیں جن کی تحقیقات سی بی آئی کررہی تھی جبکہ دیگر ۲۰ معمولات کا تعلق ریاستی پولیس فورسیز اور دیگر مرکزی ایجنسیوں سے تھا۔

اسی مدت کے دوران، ۴۷ لیٹرز روگیٹری پر مکمل عمل درآمد ہوا، جبکہ ۲۹ کو جزوی عمل درآمد کے بعد بند کر دیا گیا یا واپس لے لیا گیا۔ ۳۱ مارچ ۲۰۲۵ء تک، مجموعی طور پر ۵۳۳ لیٹرز روگیٹری غیر ممالک کے پاس زیرِ التواء تھے، جن میں ۲۷۶ سی بی آئی کے معاملات اور ۲۵۷ ریاستی پولیس و دیگر مرکزی ایجنسیوں کے زیر تحقیق معاملات سے منسلک تھے۔ ہندوستانی حکام کو دیگر ممالک سے مجرمانہ تحقیقات میں مدد کیلئے ۳۲ لیٹرز روگیٹری اور معاہدے پر مبنی درخواستیں بھی موصول ہوئیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’مغل دور کو نصاب سے نکالنا احمقانہ اقدام ہے‘‘

انٹرپول نوٹسیز اور شہریت کے معاملات

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انٹرپول نے اسی عرصے کے دوران ہندوستان کی درخواست پر ۱۲۶ ریڈ نوٹسیز جاری کئے۔ ریڈ نوٹسیز کا استعمال مطلوب ملزمین کا پتہ لگانے اور حوالگی یا اسی طرح کی قانونی کارروائی تک انہیں عارضی طور پر گرفتار کرنے کیلئے کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، افراد کی شناخت یا مقام کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کیلئے ۸۹ بلیو نوٹسیز، لاپتہ افراد کیلئے ۲۴ یلو نوٹسیز، نامعلوم لاشوں سے متعلق ۷ بلیک نوٹسیز اور عوامی تحفظ کیلئے ممکنہ خطرے سے خبردار کرنے والا ایک گرین نوٹس جاری کیا گیا۔ وزارت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ سی بی آئی نے وزارتِ داخلہ کے پورٹل کے ذریعے جمع کرائی گئی ہندوستانی شہریت چھوڑنے کی ۲۲ ہزار ۲۰۰ سے زائد درخواستوں پر کارروائی کی اور اپنی رائے دی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK