Inquilab Logo Happiest Places to Work

پیٹرول کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں پر کارروائی کا حکم

Updated: May 24, 2026, 12:52 AM IST | Mumbai

وزیراعلیٰ فرنویس نے کہا’’ پیٹرول اورڈیزل کی فروخت میں اچانک ۲۰؍ تا۳۰؍ فیصد اضافے کا مطلب ہے کہ کہیں کوئی گڑبڑ ہے‘‘

Despite Devendra Fadnavis` claims, the shortage does not seem to be going away.
دیویندر فرنویس کے دعوئوں کے باوجود قلت دور ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے

حکومت کے اس دعوے کے باوجود کہ پیٹرول یا ڈیزل کی ریاست میں کوئی کمی نہیں ہے، مہاراشٹر کے دیہی علاقوں میں ایندھن کی خاطر افراتفری مچی ہوئی ہے۔ کہیں سے سات بارہ دیکھ کر پیٹرول دینے کی خبر آ رہی ہے تو کہیں لوگ  پیٹرول پمپ پر آپس میں لڑ رہے ہیں۔ ایسی صورت میں وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی فروخت اچانک ۲۰؍ تا ۳۰؍ فیصد بڑھ گئی ہے ،کہیں کچھ تو گڑبڑ ہے۔ساتھ ہی انہوں نے ضلع کلکٹروں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں پیٹرول کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں ۔ 
 سنیچر کے روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے دیویندر فرنویس نے کہا کہ’’ میں نے تمام ضلع کلکٹروں کو حکم دیدیا ہے کہ وہ کسانوں کو پیٹرول اورڈیزل فراہم کریں لیکن اگر کوئی کسانوں کے نام پر پیٹرول یا ڈیزل کی ذخیرہ اندوزی کر رہا ہو تو اس پر بھی نظر رکھیں۔ ایسے لوگوں پر سخت کارروائی کریں کیونکہ اچانک ایندھن کی فروخت میں ۲۰؍ تا ۳۰؍ فیصد اضافہ ہوا ہے جو کہ تشویش کی بات ہے۔ ‘‘  انہوں نے کہا ’’ہر سال ہمیں کتنا پیٹرول درکار ہوتا ہے اس کا ہمیں اندازہ ہے۔  اس میں اگر اچانک ۲۰؍ تا ۳۰؍ فیصد اضافہ ہوتا ہے تو ضرور کوئی گڑبڑ ہے۔ کسانوں کو کوئی پریشانی نہ ہو اس کیلئے ہم کئی اقدامات کر رہے ہیں۔‘‘ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بعض مقامات پر ضلع کلکٹروں نے آر سی بک دیکھ کر پیٹرول دینا شروع کیا ہے۔ مجھےلگتا ہے جو بھی ضروری اقدامات ہوں گے وہ ہم کریں گے۔  
 انہوں نے کہا کہ ’’ ریاست میں پیٹرول اور ڈیزل کا خاطر خواہ ذخیرہ موجود ہے ۔ لیکن لوگ اپنی ضرورت سے زیادہ پیٹرول اور ڈیزل خرید رہے ہیں جس کی وجہ سے مشکل پیش آ رہی ہے۔ ‘‘ وزیر اعلیٰ نے ایک بار پھر عوام سے اپیل کی کہ وہ بلاوجہ پریشان نہ ہوں اور جتنی ضرورت ہے اتنا ہی پیٹرول یا ڈیزل خریدیں۔ اس کی وجہ سے قلت پیدا ہو سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ کی اپیل اور یقین دہانی کے دوران  ودربھ کے واشم اور بلڈانہ ضلع میں سنیچر کو بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قلت نظر آئی اور لوگ پیٹرول پمپ پر قطار لگائے دکھائی دیئے۔ مراٹھواڑہ کے کچھ علاقوں میں بھی ایسا ہی نظارہ دکھائی دیا۔ یاد رہے کہ قطار میں لگے لوگوں میں صرف ڈرائیور یا گاڑی مالکان نہیں ہیں بلکہ ان میں ایک بڑی تعداد کسانوں کی ہے جنہیں کھیتوں میں ٹیوب ویل یا موٹر پمپ کیلئے ڈیزل درکار ہوتا ہے۔ بیشتر پیٹرول پمپ والوں کا کہنا ہے کہ انہیں جتنا پیٹرول مل رہا ہے اتنا وہ فروخت کر رہے ہیں لیکن اچانک پیٹرول پمپ پر بھیڑ بڑھ گئی ہے جس کی وجہ کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہی ہے۔ 
 یاد رہے کہ گزشتہ دنوں وزیر برائے رسد وخوراک چھگن بھجبل نے کہا تھا کہ ریاست صرف اتنا پیٹرول ہے کہ ایک ماہ تک چل سکےجس کی وجہ سے بے چینی بڑھ گئی ۔ حالانکہ انہوں نے اگلے ہی دن اپنا بیان تبدیل کیا اور ریاست میں خاطر خواہ ایندھن ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK