رکن پارلیمان ورشاگائیکواڑکی قیادت میں کانگریس کے وفد کا مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسرسے ملاقات میں پُرزورمطالبہ۔
EPAPER
Updated: October 20, 2026, 3:47 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai
رکن پارلیمان ورشاگائیکواڑکی قیادت میں کانگریس کے وفد کا مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسرسے ملاقات میں پُرزورمطالبہ۔
ممبئی کانگریس کی صدر رکن پارلیمان ورشا گائیکواڑ کی قیادت میں کانگریس کے ایک وفد نے پیر کو ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر ایس چوکلنگم سے ملاقات کی اور انہیں میمورنڈم دے کر بتایا کہ ممبئی سمیت پورے مہاراشٹر میں جاری ایس آئی آر کے تحت لاکھوں مخصوص ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کئے جا رہے ہیں۔ اس عمل میں بہت سی غلطیاں اور بے ضابطگیاں ہیں، اسے درست کیا جانا چاہئے اور اس بات کا خیال رکھا جانا چاہئے کہ کسی بھی اہل شہری کا نام ووٹر لسٹ سے خارج نہ ہو ۔ وفد نے مطالبہ کیا کہ جو بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) برسر اقتدار محاذ کو فائدہ پہنچانے کیلئے کام کر رہے ہیں، ان کےخلاف کارروائی کی جائے۔
وفد میں اراکین اسمبلی اسلم شیخ، امین پٹیل، ڈاکٹر جیوتی گائیکواڑ کے علاوہ عارف نسیم خان ، چرن سنگھ سپرا، راجیش شرما، ترجمان سریش چندر راج ہنس، اکھلیش یادو، وریندر چودھری، تلپ مرنڈا، مندار پوار اورپارٹی کے دیگر عہدیدار شامل تھے۔
یہ بھی پڑھئے:جلگاؤں: میونسپل نوٹس پر بھنگار بازار کے دکانداروں کو اعتراض
ایس آئی آر مہم پر بات کرتے ہوئے ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ ایس آئی آر کے عمل کے دوران فارم نمبر۶(نئے نام کا اندراج)، فارم ۷؍(نام منسوخ کرنا) اور ۸؍ ( درج شدہ تفصیل درستی کرنا) کے تعلق سے بہت سی شکایات موصول ہو رہی ہیں اور کئی بی ایل او کےٹھیک طرح سے کام نہ کرنے کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ کچھ بی ایل او جان بوجھ کر کچھ ووٹروں کے ناموں کو اس طریقے سے حذف کررہے ہیں جس سے حکمراں جماعت کو فائدہ ہو۔ ہم نے اس بددیانتی کے کچھ ثبوت چیف الیکٹورل آفیسر کوفراہم کئے، اس وقت چوکلنگم نے متعلقہ افرادکے خلاف کارروائی کا یقین دلایا ہے۔انہوںنے مزید بتایا کہ فارم ۶،۷ ؍ اور ۸؍کے تعلق سے شہریوں کے ذہنوں میں بہت سے شکوک و شبہات ہیں جنہیں درست کیا جانا چاہئے۔ یہ سارا عمل الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سوال اٹھا رہا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ اہل شہری ووٹ کے بنیادی جمہوری حق سے محروم نہ ہوں۔ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ جب مہاراشٹر میں ۲۰۲۹ءتک انتخابات نہیں ہونے والے ہیں تو ایس آئی آر کے عمل کو مکمل کرنے میں اتنی جلدی کیوں ہے؟ مطالبہ کیا گیا کہ ایس آئی آر کے عمل کی آخری تاریخ میں توسیع کی جائے۔