Inquilab Logo Happiest Places to Work

آبنائے ہرمز میںبین الاقوامی مشن کیلئے سرگرمیاں تیز ہوئیں

Updated: May 14, 2026, 10:29 AM IST | Agency | Tehran

ایران کے خلاف ٹرمپ کے پیش کردہ منصوبے سے برطانیہ جڑنے کیلئے تیار،اٹلی بھی دوجنگی جہاز بھیجے گا، آسٹریلیا نے نگرا ں طیارے کی تعیناتی کا اشارہ دیا۔

Strait Of Hormuz.Photo:INN
آبنائے ہرمز۔ تصویر:آئی این این
:آبنائے ہرمز میں نگرانی اور جہازوں کی مدد کے نام پربین الاقوامی مشن کیلئے سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ برطانیہ ، فرانس ، اٹلی اور آسٹریلیا نے ہرمز میں نگرانی کیلئے دفاعی مشن سے جڑنے کا اعلان کیا ہے۔اس پر ایران کی جانب سے ابھی کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ 
 اٹلی کی مشروط طور پر ۲؍ جنگی جہاز بھیجنے کی تیاری
اٹلی نے اعلان کیا ہے کہ وہ خلیجی خطے کے قریب دو جنگی جہاز بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے، تاہم ان کی باضابطہ تعیناتی صرف اس صورت میں کی جائے گی جب خطے میں دیرپا اور قابلِ اعتماد جنگ بندی قائم ہو جائے۔اٹلی کے وزیر دفاع گیڈو کروسیٹو نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی بین الاقوامی مشن میں شمولیت کے لیے قانون سازوں کی پیشگی منظوری ضروری ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مشرقِ وسطیٰ تنازع کے باعث آبنائے ہرمز کی مؤثر ناکہ بندی نے عالمی معیشت کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل اور کھاد کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی سپلائی چین میں خلل پیدا ہوا۔امریکہ کی جانب سے ایران پر آبنائے میں بارودی سرنگیں بچھانے کے الزامات بھی عائد کیے جا چکے ہیں۔ گیڈو کروسیٹو نے کہا کہ اٹلی کسی بھی فوجی تعیناتی کے لیے صرف عارضی جنگ بندی نہیں بلکہ حقیقی، معتبر اور مستحکم جنگ بندی یا اس سے بھی بہتر مستقل امن چاہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بارودی سرنگیں ہٹانے والے بحری جہازوں کو خطے تک پہنچنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں، اسی لیے اٹلی ان کی پیشگی تعیناتی کی تیاری کر رہا ہے، جو ابتدائی طور پر مشرقی بحیرۂ روم اور بعد ازاں بحیرۂ احمر تک کی جائے گی۔
برطانیہ بحری اور فضائی معاونت کرے گا
برطانیہ نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے تحفظ کیلئے قائم بین الاقوامی فوجی مشن میں شمولیت اختیار کر لی ہے، جس کے تحت برطانوی افواج خطے میں بحری اور فضائی معاونت فراہم کریں گی۔مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ اس مشن کے لیے ڈرونز، جنگی بحری جہاز اور یورو فائٹر ٹائفون طیارے فراہم کرے گا۔ آبنائے ہرمز میں عالمی تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے تقریباً۴۰؍ ممالک پر مشتمل اتحاد پہلے ہی قائم ہے۔برطانوی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ یہ مشن مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہوگا اور اس کا مقصد عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کو محفوظ بنانا ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق دنیا بھر میں تیل اور گیس کی تقریباً۲۰؍ فیصد ترسیل آبنائے ہرمز کے راستے ہوتی ہے، جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث خطے کی صورتحال غیر یقینی ہو چکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق برطانیہ نے اس مشن کیلئے ۱۱۵؍ ملین پاؤنڈ کی اضافی فنڈنگ بھی مختص کی ہے تاکہ بحری سلامتی کے اقدامات مزید مؤثر بنائے جا سکیں۔ برطانوی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ مشن میں جدید ڈرون کشتیاں اور بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے والے خصوصی نظام استعمال کیے جائیں گے، جبکہ ایک برطانوی جنگی جہاز کو مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کیے جانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق عالمی بحری تجارت کے تحفظ کے لیے اس فوجی اتحاد کی کارروائیاں جلد شروع کیے جانے کا امکان ہے۔ادھرفرانس بھی خطے میں عالمی جہازرانی کے تحفظ کے لئے ممکنہ بحری مشن سے متعلق مذاکرات میں پیش پیش ہے۔فرانس کہہ چکا ہے کہ وہ قریبی علاقوں میں جنگی جہازوں کی تعیناتی کی تیاری کررہا ہے۔
 
 
آسٹریلیابھی دفاعی مشن میں شامل ہونے کے لیے تیار
آسٹریلیا کے وزیرِ دفاع رچرڈ مارلس نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک آبنائے ہرمز میں جہازرانی کے تحفظ کیلئے برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں قائم کیے جانے والے کثیر القومی فوجی مشن میں شامل ہوگا۔بدھ کے روز۴۰؍ ممالک کے اجلاس کے بعد جاری بیان میں رچرڈ مارلس نے کہا کہ آسٹریلیا اس مشن کیلئے ایک ای-سیون ویج ٹیل نگراں طیارہ فراہم کرے گا، جو پہلے ہی متحدہ عرب امارات کو ایرانی ڈرون حملوں سے بچانے کے لیے خطے میں تعینات ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا برطانیہ اور فرانس کے زیرِ قیادت آزاد اور سختی سے دفاعی نوعیت کے فوجی مشن میں تعاون کیلیئے تیار ہے، اور جیسے ہی یہ مشن شروع ہوگا آسٹریلیا اس کا حصہ بن جائے گا۔
 
 
رچرڈ مارلس کے مطابق یہ کثیر القومی فوجی مشن سفارتی رابطوں، کشیدگی میں کمی اور عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ کے عزم کے تحت ترتیب دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مشن کا بنیادی مقصد بین الاقوامی تجارت اور بحری جہازرانی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث خطے کی صورتحال غیر یقینی ہو چکی ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK