اڈانی گروپ کو جھٹکا،ڈائو جونس نےانڈیکس سے باہر کردیا

Updated: April 14, 2021, 10:04 AM IST | Agency | Jamnagar

میانمار کی فوج سے تعلق کا الزام ،اڈانی پورٹس میانمار میں سرکاری کمپنی کے اشتراک سے بندرگاہ کی تعمیر کررہی ہے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

 جام نگر (ایجنسی): ملک میں تیزی سے اپنا کاروبار بڑھانے اور امیر ترین افراد کی فہرست میں اوپر کی جانب گامزن مشہور صنعتکار گوتم اڈانی کو امریکی  شیئر بازار ڈائو جونس نے بڑا جھٹکا دیا ہے۔ اس نے اڈانی گروپ کی کمپنی اڈانی پورٹس کو   اپنے انڈیکس سے باہر کردیا ہے۔ اڈانی پورٹس پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس کے تعلقات میانمار کی فوج کی کمپنیوں سے ہیں جو اس وقت  وہاں جمہوریت کو ختم کرنے اور شہریوں کے قتل عام کی ملزم ہے۔  اڈانی پورٹس کے لئے یہ بہت بڑا جھٹکا قرار دیا جارہا ہے کیوں کہ اس کی وجہ سے وہ امریکی بازاروں میں بزنس کرنے سے محروم ہو جائے گی ۔ یہ خبر عام ہونے کے فوراً بعد اڈانی گروپ کے شیئرس میں بھی  ۵؍ فیصد تک گراوٹ درج کی گئی ہے۔ 
 واضح رہے کہ میانمار کے رنگون میں اڈانی پورٹس بندرگاہ تعمیر کررہی ہےجس سے ہندوستان کے ساتھ میانمار کی تجارت میں اضافہ ہو گا اور دونوں ممالک کے تجارتی روابط اور بھی بہتر ہوں گے۔ اس بندرگاہ کی لاگت تقریباً ۲۱؍ سو کروڑ  روپے ہےاور اسے اڈانی گروپ کے لئے بہت اہم پروجیکٹ قرار دیا جارہا ہے۔ اڈانی گروپ نے اس کارروائی کے بعد کہا ہے کہ وہ میانمار میں تمام شراکت داروں سے رابطے میں تاکہ اس مسئلے کا کوئی حل نکالا جاسکے۔
  ڈائو جونس کی جانب سے اڈانی کو انڈیکس سے ہٹانے کا مطلب ہے کہ عالمی طور پر بھی کمپنی کی شبیہ متاثر ہو گی اور امریکہ کے ساتھ ساتھ یورپ میں بھی اس کے کاروباری رشتوں پر اثر پڑسکتا ہے۔یاد رہے کہ میانمار میں فوج کی وحشیانہ کارروائیوں کو روکنے کے لئے عالمی دبائو بنایا جارہا ہے اسی کے تحت ان کمپنیوں کو بلیک لسٹ کیا جارہا ہے جو میانمار کی فوج کی حمایت یافتہ ہیں۔ اڈانی گروپ میانمار کی ایم ای سی کمپنی کے ساتھ شراکت میں بندرگاہ تعمیر کررہی ہے۔ ایم ای سی کو میانمار کی فوج کی حمایت حاصل ہے بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ کمپنی فوج نے ہی قائم کی ہے تاکہ معاشی طور پر بھی وہ مضبوط رہ سکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK