اعظم خان کےسماجوادی کے وفد سےملاقات سےانکارکےبعد اکھلیش نے خاموشی توڑیقانونی مدد فراہم کرنےکا وعدہ

Updated: April 26, 2022, 1:12 AM IST | Lucknow

نی سر سے اونچا ہوتا ہوا دیکھ کرسماجوادی پارٹی کے بانی لیڈروں میں سے ایک اعظم خان نے پارٹی کی قیادت پر لہجہ سخت کیا تو پارٹی حرکت میں آئی۔

Azam Khan
اعظم خان

پانی سر سے اونچا ہوتا ہوا دیکھ کرسماجوادی پارٹی کے بانی لیڈروں میں سے ایک اعظم خان نے پارٹی کی قیادت پر لہجہ سخت کیا تو پارٹی حرکت میں آئی۔ پارٹی سربراہ اکھلیش یادو نے اپنی خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا کہ سماجوادی پارٹی  اپنے قد آور لیڈراعظم خان کے ساتھ ہے۔ اس سے قبل اعظم خان، جیل کا دورہ کرنے والے سماجوادی پارٹی کے ایک وفد سے ملاقات سے انکار کرکے پارٹی قیادت کو ایک بڑا جھٹکا دے چکے ہیں۔
  اکھلیش  یادونے اپنی خاموشی پر صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ’’ سماج وادی پارٹی اُن کے ساتھ ہے۔انہیںجس قسم کی بھی قانونی چارہ جوئی کی ضرورت ہوگی، پارٹی اُن کی مدد کرے گی اور رہا کرانے کی جدوجہد کرے گی لیکن جو بھی ناانصافی ان کے ساتھ ہوئی ہے وہ بی جے پی کی جانب سے دانستہ طور پر کی گئی ہے۔بی جے پی نے جان بوجھ کر ایسے افسران کی تعیناتی کی تاکہ نا انصافی کی جا سکے اور ان کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات قائم کئے جاسکیں۔‘‘
 خیال رہے کہ ایک دن قبل اعظم خان سے سیتا پور جیل میں ملاقات کی غرض سے گئے سماجوادی پارٹی کے وفد کے تعلق سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے  اکھلیش نے کہا کہ ’’مجھے اس تعلق سے کوئی علم نہیں ہے کہ ان  سے ملاقات کرنے کون گیا تھا؟‘‘خیال رہے کہ اتوار میں لکھنؤ سینٹرل سے سماجوادی پارٹی کے ایم ایل اے روی داس ملہوتراکی قیادت میں ایک وفد اعظم خان سے ملاقات کرنے گیا تھالیکن خبروں کے مطابق سینئر لیڈر نے ان سے ملاقات کرنے سے انکار کردیا۔ رپورٹ  کے مطابق سماجوادی پارٹی کے وفد نے تقریباً نصف گھنٹے تک  ان کاانتظار بھی کیا لیکن ملاقات ممکن نہیں ہوسکی۔
 دوسری طرف ملہوترا نے اس بات کی تردید کی کہ اعظم خان نے ان سے ملاقات سے انکار کیا تھا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ `جیل حکام کی جانب سے ہمیں بتایا گیا کہ’’ اعظم  خان کی طبیعت ناساز ہے، وہ بخار میں مبتلا ہیں اور دوا کھانے کے بعد آرام کررہے ہیں۔وہ اس مقام تک بھی نہیں آسکتے جہاں ملاقاتیوں سے قیدی ملاقات کرتے ہیں۔‘‘ملہوترا نے الزام عائد کیا کہ دراصل ریاستی حکومت نہیں چاہتی کہ اعظم خان سے کوئی ملاقات کرسکے۔ اسی کے ساتھ ملہوترا نے حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم حکومت کو آگاہ کرتے ہیں کہ ہم اعظم خان کیلئے سڑک سے لے کر ایوان تک لڑائی لڑیں گے اور ان کی رہائی تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔ خیال رہے کہ اعظم خان کے تعلق سے سماجوادی کے کسی گروپ کی جانب سے یہ پہلا بڑا بیان سامنے آیا ہے لیکن  اکھلیش نے  یہ کہہ کر اس کی اہمیت کم کردی کہ یہ وفد انہوں نے نہیں بھیجا تھا بلکہ وہ جانتے بھی نہیں کہ اعظم خان سے کون ملنے گیا تھا۔ 
  واضح ر ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے اعظم خا ن کے سماجوادی سربراہ اکھلیش یادو سے ناراضگی کی خبریں گردش میں ہیں۔حال ہی میں شیوپال سنگھ یادو نے کہا تھا کہ سماجوادی پارٹی اپنے سینئر لیڈر اعظم خان کی مدد اور ان کیلئے جدوجہد کرتی دکھائی نہیں دے رہی ہےجوکہ کافی مایوس کن ہے۔خود انہوں نے اعظم خان سے جیل میں جاکر ملاقات بھی کی تھی۔
 اعظم خان سے سیتا پور جیل میں ملاقات کے بعد شیوپال یادو نے کہا تھا کہ’’اعظم بھائی پارٹی کے سینئر لیڈر ہیں۔وہ ۱۰؍ بار کے ایم ایل اے ہیں اور راجیہ سبھا کے ساتھ لوک سبھا کے بھی رکن رہے  ہیں۔  اترپردیش اسمبلی میں اعظم خان سے زیادہ سینئر کوئی دوسرا لیڈر نہیں ہےلیکن سماج وادی پارٹی ان کی مدد اور ان کی رہائی  کیلئے جدوجہد کرتی دکھائی نہیں دے رہی ہے جو کہ مایوس کن ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ میں سماج وادی پارٹی کو اعظم خان کی مدد کرتا نہیں دیکھ رہا ہوںجو کہ کیا جانا چاہئے۔حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ سماج وادی پارٹی کے راجیہ سبھا اور لوک سبھا اراکین ملائم سنگھ کی قیادت میں دھرنا دیتے۔ ایسی صورت میں وزیر اعظم ہر حال میں نیتا جی کی بات کو سنتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔
 خیال رہے کہ اس سے قبل  راشٹریہ لوک دل کے سربراہ جینت چودھری اعظم خان کے اہل خانہ سے ان کے گھر پر ملاقات کرچکے ہیں۔ اُس وقت بھی خیال کیاگیا تھا کہ مصالحت کی غر ض سے اکھلیشنے انہیں بھیجا ہوگا لیکن  اکھلیشنے کہا تھا کہ جینت  ان کے کہنے پر نہیں گئے تھے۔ اس کے بعد ہی   اکھلیش اور اعظم خان کے درمیان رنجشیں مزید بڑھ گئیں۔

Azam Khan Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK