Inquilab Logo Happiest Places to Work

خواتین ریزرویشن بل کی ناکامی کے بعد اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی بی جے پی کی کوششیں تیز!

Updated: April 28, 2026, 12:19 PM IST | Agency | New Delhi

اترپردیش میں وزیراعظم مودی کے۲؍ روزہ دورے سے قبل بنارس میں ہونےوالی تقریب کی ذمہ داریاں خواتین کو سونپی گئیں اور پیر کو ایک ہزار سے زائد اسکولی طالبات سے انسانی زنجیر بھی بنوائی گئی۔

Claims To Include 1,000 Schoolgirls In Human Chain.Photo:INN
انسانی زنجیر میں ایک ہزار طالبات کو شامل کرنے کا دعویٰ کیا گیا- تصویر:آئی این این
پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن بل پر مات کھانے کے بعد بی جےپی اور اس کے لیڈران اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے میں مصروف ہوگئے ہیں۔ اس  سلسلے میںمختلف ریاستوں میں ’جن آکروش مورچہ‘ اور بی جےپی کی حکمرانی والی ریاستوں میں اسمبلی کے خصوصی اجلاس طلب کئے جارہے ہیں۔ اسی کے ساتھ اترپردیش میں منگل سے وزیراعظم کے دو روزہ دورے سے قبل بنارس میں منعقد ہونےوالی تقریب کی ذمہ داری خواتین کو سونپی گئی ہے اور ایک دن قبل پیر کو اسکولی طالبات سے انسانی زنجیر بھی بنوائی گئی۔ اس انسانی زنجیر میں ایک ہزار سے زائد طالبات کی شرکت کا دعویٰ کیا گیا۔
    خیال رہے کہ وزیر اعظم مودی۲۸؍ اپریل کو دو روزہ دورے پر کاشی پہنچیں گے۔ بی جے پی کی جانب سے۲۸؍ اپریل کو’بریکا پریڈ گراؤنڈ‘ میں منعقد ہونے والے’جن آکروش مہیلا سمیلن‘ سے ملک کے وزیر اعظم اور کاشی کے رکن پارلیمان نریندر مودی خطاب کریں گے۔ اس کانفرنس کے مکمل انتظامات سے لے کر نظامت تک کی ذمہ داری خواتین کو سونپی گئی ہے۔اپوزیشن لیڈروں نے اسے پارلیمانی کارروائی میں ملنے والی شکست کے بعد بوکھلاہٹ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
بی جے پی کے علاقائی صدر دلیپ پٹیل نے بتایا کہ کانفرنس میں۵۰؍ ہزار خواتین کی شرکت کو یقینی بنانے کیلئے مہیلا مورچہ کی ٹیمیں ضلع اور میٹروپولیٹن کی تمام اسمبلی حلقوں میں گھر گھر جا کر رابطہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کی پوری کمان ’ماتر شکتی‘ کے ہاتھوں میں ہوگی جس کے تحت ہر طبقے کی خواتین کو جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوںنے کہا کہ پارلیمنٹ میں’ناری شکتی وندن ادھینیم‘ کے منظور نہ ہونے کی وجہ سے خواتین میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن کی خواتین مخالف پالیسیوں کی وجہ سے یہ بل قانون نہیں بن سکا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کا یہ دورہ خواتین کی حمایت اور اپوزیشن کے خلاف احتجاج کے ایک بڑے پلیٹ فارم کے طور پر ابھرے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ سال رواں میں وزیر اعظم کا کاشی کا یہ پہلا دورہ ہے، جس میں وہ ہزاروں کروڑ روپے کے منصوبوں کا تحفہ دیں گے۔
اس واقعے سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی ایک کوشش کے تحت وزیراعظم کی آمد سے ایک دن قبل پیر کو کاشی میں’ناری شکتی‘ کا ایک مظاہرہ بھی کروایا گیا۔ اس کوشش کے تحت ایک ہزار سے زائد خاتون کھلاڑیوں اور’وکاس انٹر کالج‘ کی طالبات کے ذریعہ ’ناری وندن ادھینیم‘ کی حمایت میں ایک انسانی زنجیر بنوائی گئی۔ بی جےپی کی جانب سے بتایا گیا کہ اس کا مقصد پورے شہر کو خواتین کی خود مختاری کا پیغام دینا تھا۔
 
 
ہاتھوں میں تختیاں اور ترنگا لیے طالبات اور خاتون کھلاڑیوں نے ایک مارچ بھی نکالا۔ انسانی زنجیر بنانے کے بعد تمام شرکاء نے وکاس انٹر کالج سے نتنیا دائی مندر تک یہ مارچ نکالا ۔ اس دوران راہگیروں اور مقامی لوگوں کو’ناری وندن ادھینیم‘ کے فوائد کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔
 
 
اس پروگرام میں ہینڈ بال، ٹیبل ٹینس، جوڈو اور ہاکی کی خاتون کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا تھا۔اس موقع پر مظاہرے میں شامل کھلاڑیوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے خواتین کیلئے اٹھائے گئے اقدامات قابلِ ستائش ہیں۔ان خواتین نےبتایا کہ انہیں پختہ یقین ہے کہ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں۳۳؍ فیصد ریزرویشن ملنے سے خواتین کی حالت زار میں تاریخی تبدیلی آئے گی اور وہ فیصلہ سازی کے عمل میں مضبوط کردار ادا کر سکیں گی۔پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر اے کے سنگھ نے بتایا کہ ان کا ادارہ ہمیشہ سے خواتین کو ہر شعبے میں آگے بڑھانے کیلئے وقف رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کالج سے اب تک تین بین الاقوامی اور۲۲؍ قومی سطح کی خاتون کھلاڑی ملک کا نام روشن کر چکی ہیں۔خیال رہے کہ پارلیمنٹ میں ناکامی کے بعد بی جےپی اس کے صرف ایک پہلو یعنی خواتین ریزرویشن پرگفتگو کررہی ہے اور اس کے دوسرے پہلو یعنی حد بندی بل پر بات نہیں کررہی ہے۔اس کے برعکس اپوزیشن جماعتیں بی جے پی کو چیلنج کررہی ہیں کہ وہ موجودہ اراکین پارلیمان کی تعداد پر ہی خواتین کو ریزرویشن دینے کی جرأت پیدا کرے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK