ایم آئی ایم کے ریاستی صدر امتیاز جلیل نے کہا’’ ہم جس ریاست میں رہتے ہیں وہاں کی زبان سیکھناضروری ہے۔‘‘
امتیاز جلیل۔ تصویر:آئی این این
وزیر برائے ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائیک نے رکشا ڈرائیوروں کیلئے مراٹھی کو لازمی کر دیا ہے۔ نیز جن رکشا والوں کو مراٹھی نہیں آتی ان کے لائسنس منسوخ کرنےکا حکم دیا ہے۔ اس کی وجہ سے ایک بار پھر ریاست میں مراٹھی بنام غیر مراٹھی کا تنازع سر اٹھانےلگا ہے۔اس دوران مجلس اتحاد المسلمین کے ریاستی صدر امتیاز جلیل نےبھی اس معاملے میں بیان دیا ہے۔ انہوں نے مراٹھی زبان اور مراٹھی دانی کی حمایت کی ہے لیکن مراٹھی نہ آنے پر رکشا والوں کے لائسنس کو منسوخ کرنے کے فیصلے کو غلط قرار دیا ہے۔
لوک مت چینل کو دیئے گئے ایک انٹرویو کے دوران امتیاز جلیل نے کہا ’’ہم مراٹھی کی حمایت کرتے ہیں۔ آپ جس ریاست میں بھی رہتے ہیں، اس ریاست کی زبان کا آپ کو احترام کرنا چاہئے۔ میں خاص طور پر مسلمانوں سے یہ کہنا چاہوں گا کہ اگر آپ کا بچہ مقابلہ جاتی امتحان کی تیاری کر رہا ہے اور اس کے بعد اسے سرکاری ملازمت مل جاتی ہے، تو اس کیلئے اسے مراٹھی سیکھنا چاہئے۔ کیونکہ ایسی جگہ پر مراٹھی کا علم ہونا ضروری ہے، اسلئے اس معاملے کو ذات یا مذہب کی بنیاد پر نہیں دیکھا جانا چاہئے لیکن اگر حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ زبان نہ سیکھنے پر ۸؍ دنوں میں آپ کے خلاف کارروائی ہو گی ۔ یا آپ کے ساتھ غنڈہ گردی کی جائے گی۔اس رویے کو مناسب نہیں کہا جا سکتا۔
یاد رہے کہ وزیر برائے ٹرانسپورٹ نے حکم جاری کیا ہے کہ رکشا والوں کو بیچ دیتے وقت اس بات کی جانچ کی جائے کہ انہیں مراٹھی آتی ہے یا نہیں۔ جو رکشا چلا رہے ہیں وہ اگر مراٹھی نہیں سیکھتے ہیں تو ان کا لائسنس منسوخ کیا جائے گا۔