• Sun, 18 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایئر انڈیا کی موسمِ سرما کے لیے یورپ جانے والی پروازوں میں کمی

Updated: October 18, 2026, 5:05 PM IST | Mumbai

ہندوستان کی قومی فضائی کمپنی ایئر انڈیا نے موسمِ سرما ۲۷۔۲۰۲۶ءکے دوران یورپ جانے والی اپنی پروازوں کے نظام میں تبدیلی کرتے ہوئے کئی راستوں پر پروازیں معطل کرنے اور بعض خدمات کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Air India Plane.Photo:INN
ائیر انڈیا۔ تصویر:آئی این این

ہندوستان کی قومی فضائی کمپنی ایئر انڈیا نے موسمِ سرما  ۲۷۔۲۰۲۶ءکے دوران یورپ جانے والی اپنی پروازوں کے نظام میں تبدیلی کرتے ہوئے کئی راستوں پر پروازیں معطل کرنے اور بعض خدمات کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے سے ہندوستان سے برطانیہ اور یورپ کے مختلف شہروں کا سفر کرنے والے مسافروں کو اپنے سفری منصوبوں میں تبدیلی کرنا پڑ سکتی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق، دہلی سے برمنگھم اور ویانا کے لیے براہِ راست پروازیں بند کی جا رہی ہیں، جبکہ دہلی سے کوپن ہیگن اور امرتسر سے لندن گیٹ وِک کے راستوں پر بھی خدمات معطل کرنے کی اطلاعات ہیں۔ کمپنی کی اس تبدیلی کے پیچھے بڑھتے ہوئے ایندھن کے اخراجات، فضائی حدود پر پابندیاں اور طیاروں کی دیکھ بھال سے متعلق مشکلات اہم عوامل بتائے جا رہے ہیں۔
رپورٹوں کے مطابق، ایئر انڈیا کے موسمِ سرما کے نئے نظام میں درج ذیل تبدیلیاں شامل ہیں۔
دہلی کوپن ہیگن: ۲۵؍ اکتوبر۲۰۲۶ء سے براہِ راست پروازیں معطل کرنے کا منصوبہ ہے۔
 امرتسر لندن گیٹ وِک: ۲۵؍ اکتوبر سے اس راستے کی پروازیں معطل کرنے کی اطلاع ہے۔
  دہلی ویانا: ۳۱؍اکتوبر سے ہفتے میں چار پروازوں کی خدمات بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
 دہلی برمنگھم: نومبر کے آغاز سے ہفتے میں تین پروازیں معطل کی جائیں گی؛ فی الحال بحالی کی تاریخ واضح نہیں ہے۔
 امرتسر برمنگھم: موسمِ سرما کے دوران اس راستے کی پروازیں بھی عارضی طور پر معطل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:لندن: دھرو راٹھی کا ’ووٹ چوری‘ کے خلاف احتجاج، بندر کے کھلونے سے مودی پر طنز

ویانا کے لیے براہِ راست پروازیں بند ہونے سے ہندوستان اور آسٹریا کے درمیان واحد براہِ راست فضائی رابطہ بھی ختم ہو جائے گا۔ تاہم، ویانا بعض شمالی امریکہ جانے والی پروازوں کے لیے تکنیکی پڑاؤ کے طور پر استعمال ہوتا رہے گا۔ مسافروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ ٹکٹ خریدنے یا سفر پر روانہ ہونے سے پہلے ایئر انڈیا کے تازہ ترین نظام الاوقات کی تصدیق کرلیں۔  ایئر انڈیا کے اس فیصلے کے پیچھے کئی اہم عوامل بتائے جا رہے ہیں۔ سب سے پہلے، طیاروں کے ایندھن کی بلند قیمتوں نے بین الاقوامی پروازوں کے اخراجات بڑھا دیے ہیں۔ دوسرا، پاکستانی فضائی حدود تک رسائی نہ ہونے کے باعث بعض بین الاقوامی پروازوں کو طویل راستے اختیار کرنے پڑتے ہیں، جس سے سفر کا دورانیہ اور ایندھن کی کھپت بڑھ سکتی ہے۔
اس کے علاوہ، ایئر انڈیا کے بوئنگ ۷۸۷؍ طیاروں میں سے بعض کی اندرونی تزئین و آرائش اور بیرونی رنگ و روغن کا کام جاری ہے، جس کی وجہ سے وہ عارضی طور پر خدمات کے لیے دستیاب نہیں ہیں۔ ان حالات میں کمپنی اپنے طیاروں اور دستیاب وسائل کو ایسے راستوں پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے جہاں سفر کی طلب اور کاروباری امکانات زیادہ ہوں ۔ یورپ کے لیے پروازیں کم کرنے کے ساتھ ایئر انڈیا بعض دوسرے بین الاقوامی راستوں پر اپنی خدمات بڑھانے کی تیاری کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، دہلی اور سڈنی کے درمیان پروازوں کی تعداد ہفتے میں سات سے بڑھا کر گیارہ کی جائے گی۔ اس اضافے سے سڈنی کے راستے پر سالانہ تقریباً ایک لاکھ ۷۰؍ ہزار اضافی نشستیں دستیاب ہونے کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھئے:’’دوران جدوجہد طبی شعبے کا تجربہ میرے لیے بہت مددگار ثابت ہوا ‘‘

اس کے علاوہ، ایئر انڈیا فروری ۲۰۲۷ء سے دہلی اور جاپان کے شہر اوساکا کے درمیان ہفتے میں چار پروازیں شروع کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اس اقدام سے ہندوستان اور جاپان کے درمیان فضائی رابطہ مزید مضبوط ہوگا اور مسافروں کو سفر کے زیادہ مواقع مل سکیں گے۔    موسمِ سرما میں یورپ جانے والے مسافروں، خصوصاً برطانیہ، آسٹریا اور ڈنمارک کا سفر کرنے والوں کو اپنے سفری منصوبوں پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ اگر کسی مسافر نے متاثرہ راستوں پر پہلے سے ٹکٹ بک کرایا ہے تو اسے ایئر انڈیا سے پرواز کی حیثیت، متبادل پرواز اور سفر کی تاریخ کے بارے میں معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔پروازوں کی معطلی کا مطلب یہ نہیں کہ ان شہروں تک سفر مکمل طور پر بند ہو جائے گا؛ مسافر دیگر فضائی کمپنیوں، متبادل راستوں یا دوسرے شہروں کے ذریعے اپنی منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔ البتہ متبادل سفر کے لیے اضافی وقت اور اخراجات درکار ہو سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر، ایئر انڈیا کی جانب سے موسمِ سرما ۲۷۔۲۰۲۶ء کے لیے یورپی پروازوں میں کمی فضائی سفر کے بڑھتے اخراجات، فضائی حدود کی پابندیوں اور طیاروں کی دستیابی سے متعلق مسائل کے تناظر میں ایک اہم تبدیلی ہے۔ کمپنی جہاں یورپ کے بعض راستوں پر خدمات محدود کر رہی ہے، وہیں آسٹریلیا اور جاپان کے لیے رابطے بڑھانے پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ آنے والے ہفتوں میں مسافروں کے لیے ایئر انڈیا کے تازہ ترین پروازوں کے نظام الاوقات پر نظر رکھنا اہم ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK