سینٹ جارج اسپتال میںیکم مئی سے تمام مریضوں کا علاج ہوگا

Updated: April 16, 2022, 8:25 AM IST | saadat khan

کورونا کیلئے مختص کئے جانے کے ۲؍سال بعد اب اس کے دروازے تمام مریضوں کیلئے کھل جائیں گے،کورونا کم ہونے سے اسپتال خالی پڑا ہے

Mumbai`s St. George`s Hospital, where patients other than cod will be treated from next month
ممبئی کا سینٹ جارج اسپتال جہاں اگلے مہینے سے کووڈ کے علاوہ دیگر مریضوں کا بھی علاج ہوگا

کووڈسے قبل روزانہ سیکڑوں مریضوں کاعلاج کرنےوالاسینٹ جارج اسپتال یکم مئی سے دوبارہ عام مریضوں کے علاج کیلئے شروع کردیا جائے گا۔ اسپتال کو اعلیٰ درجہ اور تمام سوپر اسپیشلٹی سہولیات سے آراستہ کرنےکی تیاری جاری ہے۔ کووڈ کے دوران ممبئی کے جن اسپتالوں کو کووڈ خدمات کیلئے مختص کیاگیاتھا ان میں سے سینٹ جارج واحداسپتال ہےجو اب بھی کووڈ خدمات انجام دے رہا ہے۔ واضح رہےکہ سینٹ جارج اسپتال گزشتہ ۲؍ سال سے کووڈکےمریضوں کےعلاج کیلئے مختص ہے۔ ۴۶۷؍ بیڈ  والایہ اسپتال گزشتہ ۲؍مہینے سےخالی پڑا ہے۔پورے اسپتال میں کووڈ کے صرف ۶؍مریض زیرعلاج ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ آف میڈیکل ایجوکیشن اینڈریسرچ( ڈی ایم ای آر) کی طرف سے سینٹ جارج کو نان کووڈ اسپتال کئے جانےکی اجازت نہ ملنے سےیہاںاب بھی عام مریضوں کا علاج نہیں ہورہا ہے۔ 
 کوروناکی تیسری لہر کااثرتقریباً ڈھائی مہینے قبل کم ہواتھا۔ اس کےبعد سے ممبئی کے تمام کووڈ اسپتال کو مرحلہ وار نان کووڈ کرنےکی کارروائی جاری ہے۔ جن میںبی ایم سی کا نائراور سیون ہل اسپتال شامل ہیں۔ڈی ایم ای آر نے ابھی تک سینٹ جارج اسپتال کو نان کووڈ نہیں کیاہے۔ جس سے یہاں علاج کیلئےآنےوالے عام مریضوںکو دقت کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔
 اسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بتایاکہ ’’ ابھی اسپتال کو نان کووڈ کرنےکی اجازت نہیں دی گئی ہےمگر اسپتال کےاعلیٰ درجہ اور سوپراسپیشلٹی سہولیات سے آراستہ کرنےکی تیاری جاری ہے۔ ان سہولیات سے یہاں آنےوالے مریضوںکو علاج کروانےمیں آسانی ہوگی۔ ہم نے ڈی ایم ای آر کو اسپتال کو نان کووڈ کرنےکی تجویز پیش کی ہے مگر ابھی تک اسپتال کو نان کووڈ کرنےکی اجازت نہیں ملی ہے۔ ‘‘
 اطلاع کے مطابق یہاں کےگائناکولوجی، آرتھوپیڈک، ایم ڈی میڈیسن اورای این ٹی وغیرہ کی اوپی ڈی میں کووڈسےقبل روزانہ تقریباً ایک ہزار مریض آتے تھے۔جن میں سے ۲۰؍تا ۲۵؍ مریضوں کو اسپتال داخل کیا جاتاتھا۔روزانہ ۱۰۔۱۵؍ آپریشن ہوتے تھے۔ یہاں سی ٹی اسکین اور سونوگرافی کی بھی سہولت دستیاب ہے۔ ۱۲؍ آئی سی یو بیڈ ہیں۔ ان تمام طبی سہولیات کااستعمال کووڈ اسپتال ہونے سے نہیں ہورہا ہے۔ کیونکہ ابھی تک اسپتال کو نان کووڈکرنےکی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ حالانکہ گزشتہ ۲؍مہینے سے یہاںکووڈکے چند مریض ہی علاج کیلئے آرہے ہیں۔  فی الحال پورے اسپتال میں صرف ۶؍ مریض زیر علاج ہیں۔اسپتال خالی پڑاہے۔ مریضوںکے نہ ہونے سےیہاںکے عملے کیلئے کام نہیں ہے۔ حالانکہ دیگر امراض کے مریض علاج کیلئے آتےہیںمگر انہیں واپس کیا جا رہا ہےیا جے جے اسپتال جاکر علاج کروانے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔  اس ضمن میں اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر آکاش کھوبرا گڑےسےمتعدد مرتبہ موبائل پر رابطہ کرنےکی کوشش کی گئی مگر ان کا فون پہنچ سے دور بتارہاتھا۔ڈی ایم ای آر کے ڈائریکٹر دلیپ مہسکر سے اس بارے میں استفسار کرنے پر انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں سینٹ جارج سے اسپتال کو نان کووڈ کرنےکی تجویز موصول ہوئی ہے۔ یکم مئی سے اوپی ڈی خدمات کو بحال کردیا جائےگا۔ جلد ہی اس بارےمیں ہم احکامات جاری کریں گے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK