• Thu, 05 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آسٹریلیا: اسرائیلی صدر کے دورے پر گرفتاری کا مطالبہ، قانونی تنازع

Updated: February 05, 2026, 6:08 PM IST | Sydney

آسٹریلیا میں انسانی حقوق کے ایک وکیل نے اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ کے مجوزہ دورے کے دوران ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آسٹریلوی حکومت نے ہرزوگ کو ایک سرکاری تقریب میں شرکت کے لیے مدعو کیا ہے۔ معاملے نے قانونی اور سفارتی سطح پر بحث کو جنم دیا ہے۔

Israeli President Isaac Herzog. Photo: X
اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ۔ تصویر: ایکس

آسٹریلیا میں اسرائیل کے صدر آئزک ہرزوگ کے مجوزہ دورے پر ایک نیا قانونی تنازع سامنے آ گیا ہے، جب انسانی حقوق کے ایک وکیل نے مطالبہ کیا کہ اگر صدر آسٹریلیا آئیں تو انہیں گرفتار کیا جانا چاہیے۔ ٹی آر ٹی ورلڈ کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی صدر کو آسٹریلیا میں ایک سرکاری تقریب میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔ یہ دعوت ایسے وقت دی گئی ہے جب غزہ میں جاری جنگ اور اسرائیلی کارروائیوں پر عالمی سطح پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں انسانی حقوق کے وکیل کرس سیدوتی نے کہا ہے کہ صدر ہرزوگ کے خلاف بین الاقوامی قوانین کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔ سیدوتی، جو اقوام متحدہ سے منسلک ایک تحقیقاتی کمیشن کے رکن بھی ہیں، کا کہنا ہے کہ اسرائیلی قیادت پر سنگین الزامات عائد کیے جا چکے ہیں اور ایسے میں کسی بھی ریاست کو یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا وہ بین الاقوامی قانون کے تحت گرفتاری کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے یا نہیں۔ انہوں نے آسٹریلوی حکومت کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سرکاری دعوت ’’قانونی اور اخلاقی پیچیدگیوں‘‘ کو جنم دے سکتی ہے۔

آسٹریلوی حکومت نے اس مطالبے پر محتاط ردعمل دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صدر ہرزوگ کو مدعو کرنے کا مقصد ایک مخصوص تقریب میں شرکت اور مقامی کمیونٹی کے ساتھ اظہارِ یکجہتی ہے۔ حکومت نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا گرفتاری کے مطالبے پر کسی قسم کی قانونی کارروائی پر غور کیا جا رہا ہے یا نہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد آسٹریلیا میں سیکوریٹی خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ایک نوجوان کو اسرائیلی صدر کے دورے سے متعلق مبینہ دھمکیوں کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے، تاہم حکام نے اس گرفتاری کو براہِ راست صدر کے دورے سے جوڑنے سے گریز کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دنیا کے امیر تر افراد کی دولت میں تیزی سے اضافہ کیوں ہورہا ہے؟

یاد رہے کہ صدر ہرزوگ کے دورے کے خلاف مختلف حلقوں کی جانب سے احتجاج کی اپیلیں بھی سامنے آئی ہیں۔ ان حلقوں کا مؤقف ہے کہ ایسے دورے اسرائیل کے خلاف لگنے والے الزامات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہیں۔ دوسری جانب، حکومت کا کہنا ہے کہ احتجاج سے متعلق فیصلے ملکی قوانین اور امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔ اسرائیلی صدر کے دورے اور گرفتاری کے مطالبے نے آسٹریلیا میں سفارتی تعلقات، بین الاقوامی قانون اور آزادیِ احتجاج جیسے حساس موضوعات پر بحث کو تیز کر دیا ہے۔ فی الحال آسٹریلوی حکومت نے دورے کی منسوخی یا قانونی کارروائی سے متعلق کوئی حتمی اعلان نہیں کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK