Inquilab Logo Happiest Places to Work

کوئی بھی خواتین کو رضاکارانہ قبول اسلام سے نہیں روک سکتا: الہ آباد ہائی کورٹ

Updated: August 02, 2026, 5:03 PM IST | Allahabad

الہ آباد ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ کوئی بھی خواتین کے رضاکارانہ طور پر اسلام قبول کرنے اور اپنی پسند کے شخص سے شادی کرنے کے فیصلے میں مداخلت نہیں کر سکتابشمول ان کا باپ۔

Allahabad High Court۔Photo: INN
الہ آباد ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این

انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک فیصلے میںکہا کہ اگر خواتین رضاکارانہ طور پر اسلام قبول کریں اور اپنی پسند کے شخص سے شادی کریں تو کوئی بھی، بشمول ان کا باپ، اس فیصلے میں مداخلت نہیں کر سکتا۔عدالت۳۰؍ جولائی کو دو بہنوں (۲۰؍ اور۳۵؍ سالہ) کی درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔ان کے وکیل کے ذریعے، انھوں نے جسٹس سندیپ جین کو بتایا کہ انھوں نے ہندومت سے رضاکارانہ طور پر اسلام قبول کیا ہے اور اپنی مرضی سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو ان کا بنیادی حق ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سات برس کی محبت، صرف ایک ماہ کی شادی، میجر حمزہ عارف ترنگے میں لپٹے گھر پہنچے

بعد ازاں جسٹس جین نے اتر پردیش پولیس اور دونوں بہنوں کے والد کو حکم دیا کہ وہ انہیں ۶؍ اگست کو عدالت میں پیش کریں۔یہ حکم اس وقت دیا گیا جب دونوں بہنوں کے وکیل نے عدالت میں الزام لگایا کہ ان کے والد نے مئی ۲۰۲۵ء میں آگرہ میں پولیس شکایت درج کرائی تھی تاکہ انہیں اپنی پسند کےمطابق عمل کرنے سے روک سکیں۔اس شکایت کی بنیاد پر بھارتیہ نیاہ سنہیتا کے تحت مقدمہ درج کیا گیا جس میں اغوا، اٹھا لے جانے یا عورت کو شادی پر مجبور کرنے کے لیے اکسانے کی سزا کا ذکر ہے۔ مزید برآں انھوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ انہیں پولیس کی مدد سے غیر قانونی طور پر نظر بند رکھا جا رہا ہے۔ تاہم  ان کے وکیل نے عدالت کو بتایاچونکہ بہنوں نے رضاکارانہ طور پر مذہب تبدیل کیا تھا اور جبر یا دھوکہ دہی کا کوئی ثبوت نہیں تھا، اس لیے اتر پردیش امتناع غیر قانونی مذہب تبدیلی ایکٹ، ۲۰۲۱ء اس معاملے میںنافذ  نہیں ہوتا۔ جس پر عدالت نے کہا،’’اگر یہ دعوے بالآخر درست پائے جاتے ہیں تو مدعا علیہ نمبر چار (ان کے والد) یا کسی دوسرے شخص کی جانب سے ایسی ذاتی پسندپر عمل کرنے میں کوئی مداخلت ان کے آئینی طور پر محفوظ حقوق یعنی وقار، رازداری، ذاتی آزادی اور فیصلہ سازی کی خودمختاری میں ناجائز دخل اندازی کے مترادف ہوگی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: این آئی اے عدالت نے۳۳؍سال پرانے بغاوت مقدمے میں ۷۸؍ سالہ محمد نعیم کو بری کردیا

انڈین ایکسپریس کے مطابق عدالت نے مزید کہا کہ اگر خواتین۶؍ اگست کو عدالت میں پیش نہ کی گئیں تو پولیس کو ذاتی حلفیہ بیانات جمع کروانے ہوں گے جن میں ان کی غیر حاضری کی وجوہات بیان کی جائیں۔حلفیہ بیان میں پولیس کی طرف سے خواتین کو پیش کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات بھی شامل ہونی چاہئیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK