امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران پر مجوزہ حملہ منسوخ کرنے کا اعلان کردیا، تاکہ امن معاہدے کیلئے مذاکرات کی راہ ہموار ہوسکے ،نیز اشارہ دیا کہ اسرائیل بھی اس عہد کا حصہ ہے، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری خطرے کا خاتمہ شامل ہے۔
EPAPER
Updated: August 02, 2026, 6:04 PM IST | Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران پر مجوزہ حملہ منسوخ کرنے کا اعلان کردیا، تاکہ امن معاہدے کیلئے مذاکرات کی راہ ہموار ہوسکے ،نیز اشارہ دیا کہ اسرائیل بھی اس عہد کا حصہ ہے، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری خطرے کا خاتمہ شامل ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سنیچر کو کہا کہ انھوں نے ایران کے خلاف منصوبہ بند فوجی حملے کو منسوخ کر دیا ہے، کیونکہ تہران اوردیگر مشرق وسطیٰ کے ممالک نے امن معاہدے کے فریم ورک کو حتمی شکل دینے کے لیے وقت مانگا تھا، اور کہا کہ اسرائیل نے اس عہد میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں، ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ فریقین ممکنہ معاہدے کی حدود پر متفق ہو گئے ہیں، جس میں آبنائے ہرمز کی فوری، مکمل اور کلی بحالی اور ایران کے جوہری خطرے کا خاتمہ شامل ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’غزہ امن معاہدے پر تمام فریقوں کو یکساں طور پر کاربند رہنا ہوگا ‘‘
بعد ازاں ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے حملے کو دنیا کے مستقبل کے فائدے اور اسی طرح ایک کامیاب و خوشحال ایران کی بقا کے لیے منسوخ کرنے پر اتفاق کیا، اور مزید کہا کہ یہ فیصلہ اس بات سے مشروط ہے کہ فریقین فوری طور پر ایک معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔ٹرمپ نے لکھا، ’’امریکہ ایران کے خلاف جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، فوجی دہشت، طاقت اور قوت کی ایسی سطحوں پر جو دوسری عالمی جنگ کے بعد دیکھنے میں نہیں آئیں۔‘‘انھوں نے کہا کہ’’ اسرائیل نے بھی حملوں سے باز رہنے کے عہد پر اتفاق کیا ہے۔ سب لوگ کام پر لگ جائیں، اور اسے مکمل کریں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکہ کی آئی سی سی کے خلاف مہم نیتن یاہو کو بچانے کیلئے ہے: ٹرمپ
واضح رہے کہ ۲۸؍ فروری کو اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے، اگرچہ پاکستان کی ثالثی میں امن معاہدے کا خاکہ تیارکیا گیا تھا، جس کے بعد عارضی طورپر جنگ بند ہوگئی تھی، تاہم ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا تسلط برقرار رکھا ہے۔ ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ہوئے حملوں کا بہانہ بناکر امریکہ نے ایران پر دوبارہ حملوں کا آغاز کردیا تھا۔ جس کے جواب میں ایران نے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو میزائل اور ڈرون سے نشانہ بنایا۔ علاوہ ازیں ایران پر دباؤ ڈالنے کے مقصد سے ٹرمپ نے اس سے قبل بھی بڑے پیمانے پر شہری نظام کو تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی ،لیکن ایران نے دباؤ قبول کرنے سے انکار کردیا، اور پوری شدت کے ساتھ جوابی حملوں کی دھمکی دی تھی۔ٹرمپ کا حالیہ حملوں کی دھمکی اور اس کی منسوخی اسی سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے۔