اسوسی ایشن کاانتباہ، مطالبات اگرتسلیم نہ کئے تو احتجاج کو غیر معینہ مدت کے لاک ڈاؤن میں تبدیل کر کے میڈیکل اسٹورس کی چابیاں حکومت کے سپرد کر دی جائیں گی۔
میڈیا سے مخاطب اسوسی ایشن کے ذمہ داران۔ تصویر:آئی این این
غیر قانونی ادویات کی فروخت اور قواعد و ضوابط کے خلاف دی جانے والی رعایتی قیمتوں کے حامل نوٹیفکیشن کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر، آل انڈیا کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ اسوسی ایشن کی جانب سے ۲۰؍ مئی کو ملک بھر کے دوا فروشوں کی ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایشن نے مرکزی حکومت کی مبینہ بے رخی اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔اسوسی ایشن کا موقف ہے کہ اگر حکومت نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لئے اور ان کے دیرینہ مطالبات تسلیم نہ کئے تو اس احتجاج کو غیر معینہ مدت کے لاک ڈاؤن میں تبدیل کر کے تمام میڈیکل اسٹورس کی چابیاں حکومت کے سپرد کر دی جائیں گی۔
اسوسی ایشن کے قومی صدر جگن ناتھ عرف اپا شندے نے کلیان میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں بتایاکہ ملک میں ادویات کا کاروبار’ڈرگ اینڈ کاسمیٹک ایکٹ ۱۹۴۰ء‘کے تحت چلایا جاتا ہے جس میں آن لائن فارمیسی کی کوئی قانونی گنجائش موجود نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت نے ۲۰۱۸ ءمیں ایک عبوری نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جسے تاحال قانون کا درجہ حاصل نہیں ہو سکا۔ اس کے باوجود ملک بھر میں آن لائن ادویات کی غیر قانونی فروخت دھڑلے سے جاری ہے۔ یہاں تک کہ دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے اس پر اسٹے کے باوجود انتظامیہ خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے۔تفصیلات کے مطابق کورونا بحران کے دوران حکومت نے شہریوں کی سہولت کیلئے ادویات کی ہوم ڈیلیوری کی عارضی رعایت دی تھی تاہم عالمی وبا کو ختم ہوئے ۵ ؍برس بیت جانے کے باوجود اس رعایت کو تاحال منسوخ نہیں کیا گیا ہے۔کیمسٹ لیڈروں کا کہنا ہے کہ بڑے کارپوریٹ گھرانے اور آن لائن کمپنیاں اسی عبوری رعایت کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ یہ کمپنیاں اپنے بھاری سرمائے کے بل بوتے پر مارکیٹ میں غیر پیشہ ورانہ مقابلہ پیدا کر رہی ہیں جس کی وجہ سے گلی محلوں اور بالخصوص دیہی علاقوں کے چھوٹے دوا فروش دیوالیہ ہونے کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ برقرار رہا تو دیہی علاقوں کا پورا ہیلتھ کیئر سپلائی چین کا نظام تباہ ہو جائے گا۔