Updated: May 19, 2026, 6:02 PM IST
| New Delhi
سپریم کورٹ نے عوامی مقامات سے آوارہ کتوں کو ہٹانے کے حکم پر نظرثانی سے انکار کیا،ساتھ ہی حکم نہ ماننے کی صورت میں توہین عدالت کی کارروائی کی تنبیہ کر دی، ساتھ ہی جج نے کہا کہ آئین بچوں اور بوڑھوں کو طاقتور یا حالات کے رحم و کرم پر جینے کیلئے تنہا نہیں چھوڑتا۔
سپریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این
سپریم کورٹ نے منگل کو گزشتہ سال جاری کردہ اپنی ہدایات پر نظرثانی کرنے سے انکار کر دیا جن کے تحت میونسپل حکام کی طرف سے عوامی مقامات سے اٹھائے گئے آوارہ کتوں کو ویکسینیشن یا نس بندی کے بعد واپس اسی علاقے میں نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔نومبر میں جاری کردہ ہدایات کے مطابق، عوامی مقامات سے اٹھائے گئے کتوں کو پناہ گاہوں میں رکھا جانا چاہیے۔جسٹس وکرم ناتھ، سندیپ مہتا اور این وی انجریا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ ریاست ،غیر جانبدار تماشبین نہیں بن سکتی جبکہ عام شہری عوامی مقامات پر کتوں کے حملوں کے خطرے کا سامنا کریں۔عدالت نے کہا کہ اگر اہلکار ان ہدایات پر عمل درآمد میں ناکام رہے تو وہ توہین عدالت کے لیے ذمہ دار ہوں گے۔بعد ازاں عدالت نے کہا کہ آئینی حق زندگی میں عوامی مقامات پر حملے کے خوف کے بغیر آزادانہ نقل و حرکت کا حق شامل ہے۔ مزید برآں ججوں نے کہا، ’’آئین ایسے معاشرے کا تصور نہیں کرتا جہاں بچے اور بوڑھے شہری جسمانی طاقت یا موقع کے رحم و کرم پر زندہ رہنے کے لیے چھوڑ دیے جائیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: گنگا ندی پر افطار کرنے والے چھ افراد کوالہ آباد ہائی کورٹ نے ضمانت دے دی
عدالت نے ریاستوں اور مرکزی علاقوں کو ہدایت دی کہ وہ اینیمل ویلفیئر بورڈ آف انڈیا کے قواعد پر عمل درآمد یقینی بنائیں اور ہر ضلع میں کم از کم ایک اینیمل برتھ کنٹرول سینٹر قائم کریں۔ ججوں نے کہا کہ ریاستیں یقینی بنائیں کہ ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین اور امیونوگلوبلین کافی مقدار میں دستیاب ہوں۔ مزید برآں عدالت نے حکام کو پاگل کتوں یا زرر رساں کتوں کے معاملے میں قانونی طور پر جائز اقدامات بشمول یوتھانیشیا (جانوروں کو بے درد موت دینے) کرنے کی بھی اجازت دی۔ساتھ ہی ججوں نے کہا کہ مقامی اداروں کے اہلکار اپنے فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں قانونی تحفظ کے حقدار ہیں، اور ایسے معاملات میں معمول کے مطابق ان کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی جانی چاہیے۔اس کے علاوہ عدالت نے کہا کہ آوارہ کتوں کے حوالے سے اینیمل برتھ کنٹرول قواعد پر عمل درآمد بے ضابطہ، کم فنڈنگ اور غیر مساوی رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: وزیراعلیٰ یوگی کو نماز سے تو اُن کےکابینی رفیق کو اذان سے پریشانی
واضح رہے کہ نومبر میں سپریم کورٹ نے ہدایت دی تھی کہ اسپتالوں، اسکولوں اور ریلوے اسٹیشنوں جیسے عوامی مقامات سے اٹھائے گئے آوارہ کتوں کو واپس انہی علاقوں میں نہیں چھوڑا جانا چاہیے جہاں سے انہیں اٹھایا گیا تھا۔