Inquilab Logo Happiest Places to Work

شکیرا ٹیکس کیس جیت گئیں، ہسپانوی عدالت نے ۶۷؍ ملین ڈالر لوٹانے کا حکم دیا

Updated: May 19, 2026, 6:13 PM IST | Barcelona

شکیرا کو اسپین کی قومی عدالت سے بڑی قانونی فتح حاصل ہوئی ہے، جہاں عدالت نے ہسپانوی ٹیکس حکام کو گلوکارہ کو ۲۰۱۱ء کے ٹیکس تنازع میں ۶۰؍ ملین یورو (۶۷؍ ملین ڈالر) سے زیادہ واپس کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ شکیرا ۲۰۱۱ء میں اسپین کی ٹیکس رہائشی نہیں تھیں کیونکہ حکام یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ انہوں نے اس سال ۱۸۳؍ دن سے زیادہ اسپین میں گزارے۔ آٹھ سالہ قانونی جنگ کے بعد آنے والے اس فیصلے میں نہ صرف ٹیکس تخمینے بلکہ جرمانے اور سود بھی منسوخ کر دیے گئے۔ شکیرا نے فیصلے کے بعد خود کو ’’منظم عوامی مہم‘‘ کا نشانہ قرار دیا۔

Shakira. Photo: INN
شکیرا۔ تصویر: آئی این این

شکیرا کو اسپین میں ایک طویل اور ہائی پروفائل ٹیکس مقدمے میں بڑی قانونی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اسپین کی قومی عدالت نے فیصلہ سنایا ہے کہ کولمبیا کی پاپ اسٹار ۲۰۱۱ء میں اسپین کی ٹیکس رہائشی نہیں تھیں، جس کے بعد عدالت نے ہسپانوی ٹیکس حکام کو حکم دیا کہ وہ گلوکارہ کو ۶۰؍ ملین یورو (۶۷؍ ملین ڈالر) سے زیادہ رقم واپس کریں۔ یہ رقم انکم ٹیکس، جرمانوں اور سود پر مشتمل ہے، جو اسپین کی ٹیکس ایجنسی نے مبینہ طور پر غیر ادا شدہ ٹیکسوں کے دعوے کے تحت وصول کی تھی۔ فیصلے کے مطابق، ٹیکس حکام یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ شکیرا نے ۲۰۱۱ء میں اسپین میں قانونی حد یعنی ۱۸۳؍ دن سے زیادہ وقت گزارا تھا۔ عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ گلوکارہ نے اس سال اسپین میں صرف ۱۶۳؍  دن گزارے۔

یہ بھی پڑھئے : کے ایل راہل ریکارڈ توڑ اننگز پرسنیل شیٹی خوش ، خاص انداز میں داماد پر فخر کا اظہارکیا

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ ۲۰۱۱ء میں شکیرا کی مستقل رہائش، بچے یا بنیادی معاشی مرکز اسپین میں موجود نہیں تھا۔ اس عرصے کے دوران وہ ۳۷؍ ممالک میں ۱۲۰؍ کنسرٹس پر مشتمل عالمی میوزک ٹور پر تھیں، جس کے باعث ان کی زندگی مسلسل سفر میں گزری۔ ہسپانوی ٹیکس حکام نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ جیرارڈ پی کے کے ساتھ تعلقات کے دوران شکیرا نے بارسلونا کو اپنی ذاتی اور معاشی زندگی کا مرکز بنا لیا تھا، اس لیے انہیں اسپین میں ٹیکس ادا کرنا چاہیے تھا۔ تاہم، عدالت نے اس دلیل کو ناکافی قرار دے دیا۔ فیصلے کے بعد شکیرا نے ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’آٹھ سال سے زیادہ عوامی جانچ پڑتال، میری ساکھ کو تباہ کرنے کی منظم کوششوں اور میرے خاندان کی ذہنی و جسمانی صحت پر اثر ڈالنے والی بے شمار راتوں کے بعد، آخرکار عدالت نے حقیقت واضح کر دی۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ’’کبھی کوئی فراڈ نہیں ہوا، اور حکام بھی یہ ثابت نہیں کر سکے کیونکہ حقیقت یہی تھی کہ ایسا کچھ تھا ہی نہیں۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے : نیتو کپور کی واپسی سے خود کو جوڑ پاتی ہوں، خواتین کو ایسی ہمت ملنی چاہیے: روبینہ دلائک

یاد رہے کہ یہ مقدمہ صرف ۲۰۱۱ء کے ٹیکس سال سے متعلق تھا۔ اس سے الگ ایک فوجداری مقدمے میں شکیرا نے ۲۰۲۳ء میں ۲۰۱۲ء سے ۲۰۱۴ء کے درمیان مبینہ ٹیکس بے ضابطگیوں کے معاملے پر ہسپانوی پراسیکیوٹرز کے ساتھ تصفیہ کیا تھا۔ اس سمجھوتے کے تحت انہوں نے تقریباً ۳ء۷؍ ملین جرمانہ ادا کیا تھا تاکہ طویل عدالتی کارروائی سے بچا جا سکے۔ اسپین کی ٹیکس ایجنسی حالیہ برسوں میں کئی عالمی شخصیات کے خلاف اسی نوعیت کے مقدمات چلاتی رہی ہے۔ لیونل میسی، کرسٹیانو رونالڈو اور ہوز مورنہو جیسے بڑے نام بھی اسپین میں ٹیکس تنازعات میں الجھ چکے ہیں۔ ان میں سے بیشتر مقدمات تصویری حقوق، غیر ملکی آمدنی اور ٹیکس رہائش کے قوانین سے متعلق تھے۔
دوسری جانب ایگزابی الونسو نے الزامات کو عدالت میں چیلنج کیا تھا اور بعد میں اسپین کی سپریم کورٹ نے انہیں بری کر دیا تھا۔ قانونی ماہرین کے مطابق، شکیرا کا حالیہ فیصلہ اسپین میں ٹیکس رہائش کے قوانین اور عالمی شخصیات کے خلاف کارروائیوں پر مستقبل میں اہم اثر ڈال سکتا ہے، خاص طور پر ان فنکاروں اور کھلاڑیوں کے لیے جو مختلف ممالک میں رہائش اور آمدنی رکھتے ہیں۔ فیصلے کے باوجود، اسپین کے ٹیکس حکام کے پاس اب بھی اس معاملے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اختیار موجود ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK