امراوتی : نونیت رانا اور پولیس کمشنر آرتی سنگھ آمنے سامنے

Updated: September 14, 2022, 10:04 AM IST | amravati

پولیس کی توہین پرسبکدوش پولیس اہلکاروں کانونیت کے خلاف احتجاج ،کیس درج کرنے کا مطالبہ، نونیت رانا کا پولیس محکمہ پر سیاست کرنے کا الزام

The conflict between Amravati Police Commissioner Aarti Singh and Member of Parliament Navneet Rana is increasing
امراوتی پولیس کمشنر آرتی سنگھ اوررکن پارلیمنٹ نونیت رانا کےدرمیان تنازع بڑھتا جارہا ہے

:رکن پارلیمنٹ نونیت رانا اوران کے شوہر روی رانا کا شہر کی پولیس کمشنر آرتی سنگھ کے ساتھ تناز ع بڑھتا  جارہا ہے۔ اس کے علاوہ ایک لڑکی کی گمشدگی کو’ لوجہاد‘ کا نام د ےکرپولیس  اسٹیشن  میں ہنگامہ کرنے  پر نونیت کے خلاف کیس درج کرنے کا مطالبہ بھی زور پکڑتاجارہا ہے۔اسی کے پیش نظر ان کے شوہر روی رانا ایک مبینہ بدعنوانی کے معاملے میںآرتی سنگھ کو گھیرنے کی تیاری کررہے ہیںلیکن ان کے الزا م اور دعوؤںکو آرتی سنگھ  نے بے بنیاد قراردیا ہے۔
پولیس کی توہین پر نونیت رانا کے خلاف کیس درج کرنے کا مطالبہ 
 امراوتی کی  رکن پارلیمنٹ نونیت رانا  نےگزشتہ دنوں لڑکی کی گمشدگی کو  ’لوجہاد‘ کا معاملہ بتاکر راجا پیٹھ پولیس اسٹیشن میں ہنگامہ کیاتھا  اور کال ریکارڈ کو لے کر پولس افسران کے ساتھ جھگڑا کیا تھا۔ نونیت رانا نے الزام لگایا تھا کہ گھر سے لاپتہ ہونے والی لڑکی کا معاملہ لو جہاد کا کیس ہے۔ نونیت  نے تھانے میں پولیس افسروں سے بحث کی تھی ۔ اس کے بعدمتعلقہ لڑکی ستارا میں ملی تھی اور واضح ہوا  تھا کہ وہ گھریلو وجوہات کی بنا پر گھر سے اکیلی نکلی تھی۔ نونیت رانا کی اس بے جا دخل اندازی کے بعد پولیس بوائز اسوسی ایشن  ان کے  خلاف جارحانہ ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ  دیگر لوگ بھی نونیت رانا کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دریں اثنا، ایم پی نونیت رانا نے اس معاملے پر اپنے  ردعمل میں الزام لگایا کہ’’ میرے خلاف جو جرائم درج کیے جا رہے ہیں، اس کے پیچھے پولیس کمشنر آرتی سنگھ کا ہاتھ ہے۔ میرے خلاف جو مقدمات درج ہو رہے ہیں ان سے لگتا ہے کہ محکمہ پولیس میں کچھ لوگ میرے خلاف سیاست کھیل رہے ہیں۔ وہ اپنی خاکی وردی کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ جس وجہ سے میں نے تھانے میں احتجاج کیا۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ لڑکی کے والدین میرے پاس آئے اور تین گھنٹے تک روتے رہے۔ میں نے اس لڑکی کو گھر واپس لانے کی کوشش کی تھی۔ ‘‘ انہوں نے امراوتی پولیس کمشنر آرتی سنگھ پر بھی براہ راست الزام لگایا ’’میرے خلاف جو جرائم درج کیے جا رہے ہیں۔ اس کے پیچھے پولیس کمشنر آرتی سنگھ کا ہاتھ ہے۔ تاہم، میں اس طرح کے کیس سے نہیں ڈرتی، میں یہ جنگ اپنے شہریوں کے انصاف کے لیے لڑ رہی ہوں۔‘‘
نونیت رانا کے خلاف ریٹائرڈپولیس افسروں کا احتجاج 
  ایم پی نونیت رانا کےذریعے پولیس کی توہین کئے جانے کے خلاف منگل کو بڑی تعداد میں ریٹائرڈ پولیس افسران اور ملازمین نے پولیس کمشنریٹ پہنچ کر احتجاج کیا۔
  پولیس کے ساتھ بدتمیزی اور سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے کے معاملے میں نونیت رانا کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے پولیس کمشنر ڈاکٹر آرتی سنگھ سے کہا کہ نونیت رانا نے ہمیشہ پولیس کے ساتھ بدتمیزی کی ہے۔ غصے میں گھر سے نکلنے والی نوجوان لڑکی کے کیس کو ’لو جہاد‘ کا نام دیناڈ، کمیونٹی میں دراڑیں پیدا کرنا، بشمول پولیس کی مسلسل توہین ،رکن پارلیمنٹ کو زیب نہیں دیتا۔ ریٹائرڈ پولیس آفیسرس اینڈ اسٹاف ایسوسی ایشن نے پولیس کمشنریٹ پر احتجاج کرتے ہوئے نونیت رانا کے خلاف مناسب کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ان کا احتجاج دیکھ کرپولیس کمشنر خود  ان  سے ملنے اپنے ہال سے باہر آئیں۔ اس کے بعد انہوں نے سب سے ہال میں بیٹھنے کی درخواست کی اور پھرسب سے بات چیت کی ۔
آرتی سنگھ پرادھو ٹھاکرے کو۷؍ کروڑ روپےپہنچانے  کے الزام کی تحقیقات سی آئی ڈی سے کرانے کا روی رانا کادعویٰ  جھوٹا 
  امراوتی کی پولیس کمشنر نے ریکوری ٹیم کے ذریعے سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو پچھلے ڈھائی سال میں۷؍ کروڑ روپے ماہانہ دئیے۔روی رانا  نےیہ سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات سی آئی ڈی کے ذریعے کرائی جائے گی۔ اب ایم ایل اے روی رانا کے اس دعوے پر سوالیہ نشان کھڑا ہوگیاہےکیونکہ وزارت داخلہ کے ذرائع کی اطلاع کے مطابق ایسی تحقیقات کا کوئی حکم نہیں دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ روی رانا نے ناگپور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے کو ایک بار پھر نشانہ بنایا۔ جب ادھو ٹھاکرے وزیر اعلیٰ تھے تو انہوں نے پولیس کمشنر ڈاکٹر آرتی سنگھ کو ایم پی نونیت رانا اور ایم ایل اے روی رانا کے خلاف زیادہ سے زیادہ کیس درج کرنے کا حکم دیا تھا۔ بہت سے لوگوں نے الزام لگایا کہ ان کے دور میں امراوتی میں ایک ریکوری ٹیم کا تقرر کیا گیا تھا لیکن یہ واضح ہو گیا ہے کہ ان کے اس دعوے میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ معاملے کی جانچ سی آئی ڈی کے ذریعے کی جائے گی۔ فروری میں میونسپل کمشنر ڈاکٹر پروین اشٹیکر کو تھپڑ مارنے کے بعد ایم ایل اے روی رانا سمیت۱۱؍ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا، اس معاملے کی تحقیقات سی آئی ڈی کو سونپی گئی ۔ کہا جا رہا ہے کہ روی رانا نے بڑی چالاکی سے اس معاملے کو ادھو ٹھاکرے کے خلاف الزامات سے جوڑا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK