• Mon, 12 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۱۰؍ ماہ میں مزید ۳؍ لاکھ کروڑغیر ملکی سرمایہ نکال لیا گیا

Updated: October 12, 2026, 12:25 PM IST | Agency | Mumbai

اعتماد بحالی کی کوششیں بے نتیجہ، صرف اکتوبر کے ۱۰؍ دنوں میں غیرملکی تجارتی اداروں نے ۴۴؍ ہزار ۱۶۶؍ کروڑ روپے کا سرمایہ نکالا۔

July and August are the only months this year that have seen net foreign investment. Photo: INN
اس سال جولائی اور اگست ہی ایسے مہینے ہیں جب خالص غیر ملکی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ تصویر: آئی این این

غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کیلئے کی جانے والی کوششیں بے نتیجہ ثابت ہورہی ہیں۔ جولائی اور اگست  میں صورتحال کچھ بہتر ہونے کے بعد ستمبر سے غیر ملکی سرمایہ کی نکاسی کا جو نیا سلسلہ شروع ہوا ہے وہ  اس میں غیر معمولی تیزی آگئی ہے۔ عالم یہ ہے کہ اکتوبر کے ابتدائی ۱۰؍ دنوں میں  ۴۴؍ ہزار ۱۶۶؍ کروڑ روپے نکالے جاچکے ہیں۔حکومت کی تمام ترکوششوں کے باوجود  اس سال  ۱۰؍ مہینوں میں مجموعی طو رپر  ۳ء۰۴؍ لاکھ کروڑ روپے غیر ملکی سرمایہ نکالا جاچکا ہے جو ۲۰۲۵ء کے پورے سال میں نکالے گئے ۱ء۶۶؍لاکھ کروڑ  کے مقابلے میں  دگنا کے قریب پہنچ گیاہے۔ 

غیر ملکی سرمایہ کیوں نکالا جارہاہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کی بڑھتی قیمتیں، امریکی ڈالر کی مضبوطی اور امریکی بانڈس پر  منافع  میں اضافہ کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کار ہندوستانی  بازار سے پیسہ نکال رہے ہیں۔ اس کے علاوہ شمالی ایشیا کے بازاروں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے وابستہ کمپنیوں کے حصص میں تیزی بھی انہیں وہاں سرمایہ لگانے کی طرف راغب کر رہی ہے۔ ستمبر میں بھی غیر ملکی سرمایہ کاروں نے ہندوستانی شیئر بازار سے ۳۵؍ہزار ۸۶۱؍ کروڑ روپے نکالے تھے۔ تاہم  جولائی اور اگست میں بہتری آئی تھی  اور انہوں  نے بالترتیب۲۰؍ہزار ۲۰۰؍ اور  ۲۹؍ہزار ۶۳۱؍ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان کسی بھی شعبے میں اجارہ داری کی اجازت نہیں دیتا: سندھیا

 یہ اعتماد کے فقدان کا معاملہ نہیں ہے: ماہرین

بہرحال سرمایہ کاری کے ماہرین نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے  اعتماد کی بحالی کی کوششوں میں حکومت کی ناکامی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فروخت کا مطلب یہ نہیں کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا  ہندوستانی معیشت  سے اعتماد ختم ہوگیا ہے بلکہ وہ اپنا پیسہ ان بازاروں میں لگانا چاہتے ہیں جہاں انہیں فی الحال زیادہ فائدہ نظر آرہا ہے۔

شیئر بازار پر منفی اثر

غیر ملکی سرمایہ کاروں کی مسلسل فروخت کے سبب اس سال اب تک نفٹی میں۱۳ء۸۷؍ فیصد گراوٹ درج کی گئی ہے۔شیئر بازار ۹؍ہفتوں کی مسلسل گراوٹ کے بعد گزشہ ہفتے مشکل سے سنبھل پایا ہے۔ یہ گراوٹ ۲۵؍ سال کی سب سے طویل گراوٹ تھی۔  ماہرین نے  خام تیل کی بلند قیمتوں اور امریکی بانڈز پر زیادہ منافع کو ہندوستانی بازار کیلئے  اہم چیلنج قرار دیا ہے۔ اے آئی کی وجہ سے دیگر بازاروں میں آمدنی کے زیادہ مواقع بھی اس کی  وجوہات میں شامل ہیں۔ 

ماہرین کی رائے
سرمایہ کاری پلیٹ فارم ٹریک کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹیو افسر ویدانت گپتے  کے مطابق یہ  ہندوستانی معیشت یا بازار میں کسی مخصوص کمزوری کی نشاندہی نہیں  ہے بلکہ اس بات کی عکاسی  ہےکہ عالمی معاشی حالات کے تناظر میں سرمایہ ان بازاروں کی طرف منتقل ہورہا ہے جہاں سرمایہ کاری کے امکانات زیادہ  بہتر نظر آرہے ہیں۔جیو جیت انویسٹ منٹس  کے وجے کمار  کے مطابق ۱۰؍ سالہ امریکی بانڈس میں  بلا خطر ۵ء۲؍فیصد کا منافع بھی اس کی وجہ ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK