• Fri, 09 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان کسی بھی شعبے میں اجارہ داری کی اجازت نہیں دیتا: سندھیا

Updated: October 09, 2026, 6:06 PM IST | New Delhi

مرکزی وزیر مواصلات جیوتیرادتیہ سندھیا نے کہا ہے کہ ہندوستان کسی بھی شعبے میں اجارہ داری کی اجازت نہیں دیتا۔ ان کا یہ بیان سیٹیلائٹ مواصلاتی خدمات کے حوالے سے جاری تنازع اور ایلون مسک کی جانب سے ہندوستانی ضابطوں پر لگائے گئے الزامات کے درمیان سامنے آیا ہے۔

Jyotiraditya Scindia.Photo:INN
جیوتیرادتیہ سندھیا- تصویر:آئی این این

مرکزی وزیر مواصلات جیوتیرادتیہ سندھیا نے کہا ہے کہ ہندوستان کسی بھی شعبے میں اجارہ داری کی اجازت نہیں دیتا۔ ان کا یہ بیان سیٹیلائٹ مواصلاتی خدمات کے حوالے سے جاری تنازع اور ایلون مسک کی جانب سے ہندوستانی ضابطوں پر لگائے گئے الزامات کے درمیان سامنے آیا ہے۔ سندھیا نے جمعہ کو انڈیا موبائل کانگریس ۲۰۲۶ء کے دوران کہا کہ ایک مخصوص کمپنی کے حوالے سے کافی بحث ہورہی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ تین کمپنیوں کو سیٹیلائٹ مواصلاتی خدمات کے لائسنس دیے جاچکے ہیں۔ ان کے مطابق، ہندوستان میں کسی بھی کمپنی کو محض لائسنس ملنے کی بنیاد پر خدمات شروع کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، بلکہ اسے قومی سلامتی سے متعلق تقاضے اور مقررہ ضابطوں کی پابندی بھی پوری کرنا ہوگی۔

یہ بھی پڑھئے:رونالڈو اور وین رونی یورپ کے دو بہترین کھلاڑی تھے: سرایلکس فرگیوسن

مرکزی وزیر نے واضح کیا کہ سیٹیلائٹ مواصلاتی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو کام شروع کرنے سے پہلے تمام ضروری شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ اس سے قبل وزیر مملکت برائے مواصلات چندر شیکھر پیمسانی نے بھی بتایا تھا کہ ہندوستان میں سیٹیلائٹ مواصلاتی خدمات کا آغاز فی الحال وزارت داخلہ کی جانب سے سلامتی کی منظوری ملنے کا منتظر ہے۔ ان کے مطابق، محکمہ ٹیلی مواصلات متعلقہ کمپنیوں کو لائسنس اور اسپیکٹرم سے متعلق عارضی منظوری دے چکا ہے، لیکن باقاعدہ خدمات شروع کرنے کے لیے وزارت داخلہ کا سلامتی سے متعلق جائزہ مکمل ہونا ضروری ہے۔ پیمسانی نے کہا کہ منظوری کا معاملہ وزارت داخلہ کے پاس زیر غور ہے اور اس کا تعلق کسی ایک کمپنی سے نہیں، بلکہ تمام متعلقہ کمپنیوں پر یکساں طور پر لاگو ہونے والے ضابطوں سے ہے۔
ہندوستانی حکومت نے ایلون مسک کے ان الزامات کو مسترد کیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان سیٹیلائٹ مواصلاتی خدمات سے متعلق ضابطوں کو امتیازی انداز میں نافذ کررہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ  انڈین  بازار میں خدمات فراہم کرنے کی خواہش مند تمام کمپنیوں کے لیے منصفانہ اور غیر امتیازی اجازت ناموں کا نظام موجود ہے۔ وزارت مواصلات کے مطابق، غیر جغرافیائی مدار میں گردش کرنے والے سیٹلائٹ نیٹ ورک کے ذریعے عالمی موبائل ذاتی مواصلاتی خدمات (جی ایم پی سی ایس) فراہم کرنے والے تین اداروں کو ٹیلی مواصلات کے لائسنس دیے گئے ہیں۔ وزارت نے زور دیا کہ تمام لائسنس یافتہ کمپنیوں کو ضابطوں اور قومی سلامتی سے متعلق یکساں شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایلون مسک کے موقف کی حمایت کیے جانے کے بعد سندھیا نے کانگریس پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کو خود یہ معلوم نہیں کہ وہ بائیں جانب جارہی ہے یا دائیں جانب۔ یہ بیان سیٹیلائٹ انٹرنیٹ خدمات کے معاملے پر جاری سیاسی بحث کے دوران سامنے آیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:پاکستان کے سابق کرکٹر باسط علی نے نانا پاٹیکر کو یاد کیا

انڈیا موبائل کانگریس ۲۰۲۶ء سے خطاب کرتے ہوئے سندھیا نے ہندوستان میں رابطے کی سہولتوں، مصنوعی ذہانت اور ڈجیٹل بنیادی ڈھانچے میں ہونے والی پیش رفت کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق، ملک میں براڈبینڈ کنکشن کی تعداد تقریباً ۱ء۱؍ ارب تک پہنچ چکی ہے اور ۹ء۹۹؍ فیصد اضلاع میں پانچویں نسل کے مواصلاتی نظام  کی سہولت دستیاب ہے۔سیٹیلائٹ انٹرنیٹ کو ہندوستان میں دور دراز علاقوں تک تیز رفتار انٹرنیٹ پہنچانے کے لیے اہم سمجھا جارہا ہے۔ تاہم، اس شعبے میں خدمات شروع کرنے کے لیے لائسنس، اسپیکٹرم، سلامتی کی منظوری اور دیگر ضابطہ جاتی شرائط پوری کرنا ضروری ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اصول تمام کمپنیوں پر یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں، جبکہ ایلون مسک کے الزامات نے ہندوستانی  سیٹیلائٹ مواصلاتی بازار میں مقابلے اور ضابطوں کے نفاذ سے متعلق بحث کو مزید تیز کردیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK