آندھرا پردیش کی ہائی کورٹ نے ایک فیصلے میں کہا کہ مائیکے سے ملی وراثت کی جائیداد میں شوہر اور سسرال کا کوئی حق نہیں، اور اگرعورت بغیر اولاد کے فوت ہوجائے تو یہ جائداد اس کے والدین کے وارثوں کو لوٹائی جائے گی۔
EPAPER
Updated: April 01, 2026, 2:02 PM IST | Hyderabad
آندھرا پردیش کی ہائی کورٹ نے ایک فیصلے میں کہا کہ مائیکے سے ملی وراثت کی جائیداد میں شوہر اور سسرال کا کوئی حق نہیں، اور اگرعورت بغیر اولاد کے فوت ہوجائے تو یہ جائداد اس کے والدین کے وارثوں کو لوٹائی جائے گی۔
خواتین کے جائیداد کے حقوق کو تقویت دینے والے ایک اہم فیصلے میں، آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ شوہر یا اس کا خاندان کسی عورت کی جانب سے اپنے والدین سے حاصل کردہ جائیداد پر اس کی موت کے بعد ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔عدالت نے ہندو جانشینی ایکٹ۱۹۵۶ء کی دفعات کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اگر عورت بغیر اولاد کے مر جائے تو ایسی جائیداد اس کے والدین کے وارثوں کو واپس لوٹائی جائے گی۔ جسٹس ترلا راج شیکھر راؤ نے مشاہدہ کیا کہ سیکشن۱۵؍ (۲؍) (اے) واضح طور پر ایسے حالات میں شوہر اور سسرال والوں کو وراثت سے خارج کر دیتا ہے۔واضح رہے کہ یہ معاملہ۲۰۰۲ء میں جائیداد کے ایک لین دین سے متعلق تنازع سے شروع ہوا، جب ایک خاتون نے اپنی جائیداد اپنی ایک پوتی کے نام ہبہ کر دی تھی۔ تاہم، پوتی۲۰۰۵ء میں بے اولاد مر گئی۔ اس کے بعد، اصل مالکہ نے گزشتہ ہبہ منسوخ کر دیا اور جائیداد کو دوسری پوتی کے نام منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم خاتون کی موت کے بعد، دوسری پوتی نے مالگزاری کے ریکارڈ میں جائیداد اپنے نام کروانے کے لیے کارروائی شروع کی۔ ایک مالگزاری افسر نے ابتدائی طور پر اس کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے منتقلی کی منظوری دے دی۔بعد ازاں معاملے نے اس وقت رخ بدلا جب متوفی پوتی کے شوہر نے اس فیصلے کو چیلنج کیا اور جائیداد پر ملکیت کا دعویٰ کیا۔ ایک زیریں حکام نے اس کے حق میں فیصلہ سنا دیا، جس کے بعد دوسری پوتی ہائی کورٹ پہنچ گئی۔عدالت کے سامنے درخواست گزار نے استدلال کیا کہ چونکہ جائیداد خاتون کے والدین کی جانب سے آئی تھی اور متوفی پوتی کی کوئی اولاد نہیں تھی، اس لیے اس کے شوہر کو اسے وراثت میں لینے کا کوئی قانونی حق نہیں تھا۔اس استدلال کو قبول کرتے ہوئے، عدالت نےمتوفی کے شوہر کا دعویٰ خارج کر دیا، اور کہا کہ اس کا جائیداد پر کوئی قانونی حق نہیں ہے۔
ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی فیصلہ دیا کہ وہ گزشتہ ہبہ کی منسوخی پر سوال نہیں اٹھا سکتا۔زیریں حکام کے حکم کو منسوخ کرتے ہوئے، ہائی کورٹ نے حکام کو جائیداد دوسری پوتی کے حق میں منتقل کرنے کی ہدایت دی، اور اس بات کی دوبارہ توثیق کی کہ ایسے معاملات میں وراثت عورت کے والدین کے وارثوں کی پیروی کرے گی۔