فلسطینیوں کی آواز دبانے کی ایک اور کوشش ، گوگل اوراسرائیلی فوج کے درمیان معاہدہ

Updated: September 03, 2022, 12:11 PM IST | Agency | Washington

اسرائیل نے مظلوم فلسطینیوں کی آواز کو دبانے کیلئے ہر قسم کے حربے استعمال کرتا آیا ہے۔

Ariel Coverrine .Picture:INN
ایریئل کورین ۔ تصویر:آئی این این

اسرائیل نے مظلوم فلسطینیوں کی آواز کو دبانے کیلئے ہر قسم کے حربے استعمال کرتا آیا ہے۔ اس میں میڈیا کو کنٹرول کرنا سب سے اہم اقدام ہے۔ اب  گوگل سرچ انجن اور اسرائیلی فورس کے مابین ایک معاہدہ ہوا ہے جس کے ذریعے  فلسطینیوں کی آواز دبانے کا کام کیا جائےگا۔ اطلاع کے مطابق  آرٹی فشیل انٹیلی جنس اور نگرانی سے متعلق ایک ارب ڈالر کا معاہد ہوا ہے۔ اس معاہدے سے ناراض ہو کر گوگل سرچ انجن کی ایک ملازمہ نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا ہے۔  الجزیرہ کی ایک  رپورٹ کے مطابق گوگل سرچ انجن کی مارکیٹنگ منیجر ائیریل کورین رواں ہفتے کمپنی کو خیر باد کہہ دیں گی اور اس حوالے سے انہوں نے بتایا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ایک ارب ڈالر کا آرٹی فشیل انٹیلی جنس اور سرویلانس معاہدہ ہو ا ہے جس کے خلاف آواز اٹھانے پر گوگل انتظامیہ نے مجھے خاموش کرنے کی کوشش کی یعنی میری ذمہ داریاں ہی بدل ڈالیں۔تنازع اس وقت شروع ہوا جب ائیریل کورین نے پراجیکٹ ’نمبس‘ نامی ایک پروگرام پر ایمیزون اور اسرائیلی فوج کے ساتھ گوگل کے ۱ء۲؍بلین ڈالر کے تعاون پر احتجاج کیا۔انہوں نے گوگل کو معاہدے سے دستبردار ہونے کیلئے اپنے احتجاج کو منظم کرنے میں ایک سال سے زیادہ وقت گزارا اور آن لائن پٹیشن، ایگزیکٹیو سے بات چیت اور نیوز آرگنائزیشن سے بھی بات کی۔کورین نے کہا کہ ان کے خدشات کو سننے کے بجائے گوگل نے نومبر ۲۰۲۱ء میں ایک الٹی میٹم کے ساتھ  انہیں امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان فرانسسکو سے برازیل کے شہر ساؤ پالو منتقل ہونے پر دباؤ ڈالا ۔ یاد رہے کہ اس سے قبل فیس بک کی ایک ملازمہ نے الزام لگایا تھا کہ فیس بک فلسطینیوں کے معاملے میں جانبدار ہے اور وہ فلسطینیوں ایسی کسی بھی پوسٹ کو فوراً ڈیلیٹ کر دیتا ہے جس میں اسرائیلیوں کے مظالم بیان کئے گئے ہوں۔ انہوں نے امریکی کانگریس میں اس تعلق سے ثبوت بھی پیش کئے تھے۔   

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK