امریکہ کے سابق وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد کے ایجنٹس ایرانی مظاہرین کے ساتھ مل کر سڑکوں پر مارچ کر رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: January 03, 2026, 5:13 PM IST | Tehran/New York/Washington
امریکہ کے سابق وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد کے ایجنٹس ایرانی مظاہرین کے ساتھ مل کر سڑکوں پر مارچ کر رہے ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا بیان
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مظاہرین کے معاشی مطالبات کو تسلیم کیا، لیکن انتباہ کیا کہ ’’فسادیوں‘‘ کو بخشا نہیں جائے گا۔ یہ ملک کے مغربی حصے میں مظاہروں کے دوران ایرانی پیرا ملٹری فورس کے ایک رکن کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا ہے۔ یہ مظاہرے دو درجن سے زائد شہروں میں پھیل گئے۔ خامنہ ای نے اہل تشیع تعطیل کے موقع پر ایک تقریر میں کہا کہ ’’صدر اور اعلیٰ عہدے دار پابندیوں سے متاثرہ ملک میں اقتصادی مشکلات کو حل کرنے کیلئے کام کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’دکانداروں نے اس صورت حال کے خلاف احتجاج کیا ہے اور یہ مکمل طور پر منصفانہ ہے،‘‘لیکن خبردار کیا کہ’’فساد کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: وینزویلا، امریکہ سے مذاکر ات کیلئے تیار
ایران میں معاشی بحران کے خلاف عوام کا احتجاج میں مزید شدید ہوتا جارہا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق، مغربی ایران میں شہریوں اور فوجیوں کے درمیان جھڑپوں کے دوران پیراملٹری فورس ’بسیج‘ کا ایک رکن چاقو کے وار اور گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا۔ اس بدامنی کے دوران تہران اور واشنگٹن کے درمیان تناؤ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’مہر‘ کے مطابق، بسیج کے اہلکار علی عزیزی کو ہرسین شہر میں اس وقت قتل کیا گیا جب وہ مسلح مظاہرین کا سامنا کر رہے تھے۔ حکام نے ایسے افراد کو”مسلح فسادی“ قرار دیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے اپنے بیان میں بتایا کہ پرتشدد تصادم کے دوران عزیزی پر چاقو اور آتشیں اسلحے سے حملہ کیا گیا۔ واضح رہے کہ بسیج ایک رضاکار نیم فوجی تنظیم ہے جو پاسدارانِ انقلاب کی نگرانی میں کام کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کی جانب بڑھنے والا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا: ایرانی قیادت
یہ ہلاکت جاری مظاہروں کے ۷ ویں دن سامنے آئی ہے۔ واضح رہے کہ ایرانی ریال کی قدر میں بھاری گراوٹ اور زندگی کے اخراجات میں اضافے پر غصہ عوام ۲۸ دسمبر سے حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ یکم جنوری کو ان مظاہروں میں اس وقت شدت آئی جب بڑے شہروں میں دکانداروں اور تاجروں نے ہڑتال کردی۔ حکومت مخالف احتجاج ملک کے ۵۰ شہروں میں پھیل چکا ہے اور طلبہ، خواتین کے حقوق کے کارکن اور تاجر اس میں شامل ہو رہے ہیں۔ مظاہرین کی جانب سے ”ڈکٹیٹر کی موت“ اور ”عورت، زندگی، آزادی“ جیسے نعرے لگائے جارہے ہیں، جو اس بات کا اشارہ ہیں کہ معاشی شکایات اب وسیع تر سیاسی مطالبات میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق، جمعرات کو کئی شہروں میں مظاہرین اور سیکوریٹی فورسیز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ بدامنی شروع ہونے کے بعد سے اب تک کم از کم ۹ افراد ہلاک اور درجنوں گرفتار ہوچکے ہیں۔
ایران کے سرکاری میڈیا نے جمعہ کے روز قم، مشہد، ہمدان اور تہران کے علاقوں میں احتجاج جاری رہنے کی اطلاع دی ہے۔ حکام نے قم میں ایک اور فرد کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے جس کا ہاتھ میں دستی بم پھٹنے سے انتقال ہوا۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ بدامنی پھیلانے کی کوششوں سے منسلک تھا۔ بدامنی کے باوجود، ایرانی لیڈران نے پچھلی احتجاجی تحریکوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر نرم لہجہ اختیار کیا ہے۔ صدر مسعود پیزشکیان نے معاشی مشکلات کو حل کرنے میں حکومتی ناکامیوں کا اعتراف کیا اور اصلاحات کا وعدہ کیا، اگرچہ پراسیکیوٹرز نے مظاہرین کو خبردار کیا ہے کہ تشدد اور تخریب کاری کا سامنا فیصلہ کن کارروائی سے کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: وینزویلا: کراکس میں امریکی حملوں کےبعد مادورو نے ہنگامی حالات کا اعلان کیا
ٹرمپ کے انتباہ پر ایران کی اقوامِ متحدہ سے کارروائی کی اپیل
جمعہ کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے مداخلت کی دھمکی کے بعد، سنیچر کو تہران نے باضابطہ طور پر اقوامِ متحدہ سے اپیل کی کہ وہ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی ان دھمکیوں کا جواب دے۔ ایران نے ان دھمکیوں کو ”لاپرواہ اور اشتعال انگیز“ قرار دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس اور سلامتی کونسل کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں ان سے ٹرمپ کے بیان کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں ایران کو انتباہ دیا تھا کہ امریکہ ”لاکڈ اینڈ لوڈڈ“ (پوری طرح تیار) ہے اور اگر ایرانی حکام نے پرامن مظاہرین کو قتل کیا تو وہ مداخلت کرے گا۔ ایروانی نے کہا کہ اس طرح کے تبصرے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بدامنی یا فوجی مداخلت پر اکسانا ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کیلئے خطرہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی ۱۹؍ حقوقِ انسانی تنظیموں کی اپنی ہی حکومت کے فیصلے پر شدید تنقیدیں
پومپیو کا موساد کی شمولیت کا دعویٰ
ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے درمیان، امریکہ کے سابق وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد کے ایجنٹس، ایرانی مظاہرین کے ساتھ مل کر سڑکوں پر مارچ کررہے ہیں۔ ان کی اس پوسٹ نے، جس میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا، شدید ردِعمل اور نفسیاتی جنگ کے الزامات کو جنم دیا۔ پومپیو کے تبصرے اسرائیل کی موساد سے منسوب سوشل میڈیا پوسٹس کے بعد سامنے آئے جن میں ایرانیوں کو سڑکوں پر رہنے کی ترغیب دی گئی ہے اور حمایت کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ یہ پوسٹس فارسی زبان میں ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے دعوے، خواہ سچے ہوں یا مبالغہ آرائی پر مبنی، مظاہرین اور ریاست کے درمیان بے اعتمادی کو گہرا کرنے کا خطرہ پیدا کرتے ہیں اور انہیں سخت کریک ڈاؤن کے جواز کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔