Updated: January 03, 2026, 10:01 PM IST
| Istanbul
ترکی کے صدر طیب اردگان نے نئے سال کے موقع پر منعقد ایک عظیم ریلی سے خطاب میں کہا کہفرعون (نیتن یاہو) کو سزا ضرور ملے گی، اور اسرائیل اس کی جوابدہی سے بچ نہیں سکتا، ۵؍ لاکھ سے زائد افراد کی شرکت والی اس عظیم ریلی کو تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فلسطین تنہا نہیں ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردگان۔ تصویر: ایکس
ترک صدر رجب طیب اردگان نے نئے سال کےموقع پر استنبول میں منعقدہ عظیم الشان فلسطین حمایت ریلی کو ’’تاریخی لمحہ‘‘ قرار دیا ، اور کہا کہ’’ اس ریلی نے واضع پیغام دیا ہے کہ فلسطین تنہا نہیں ہے۔‘‘انہوں نے جمعہ کو کہا،’’ اس فرعون ( اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو) نے جو کچھ کیا ہے وہ سزا سے بچ نہیں پائے گا، کیونکہ اس نے بے شمار مظلوم لوگوں، جوان سے لے کر بوڑھے تک کوقتل کیا ہے۔‘‘ غزہ میں اسرائیلی جارحیتاور وہاں انسانی صورت حال کے بگڑتے حالات کی مذمت کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا، ’’غزہ کے بچوں کا دکھ، جو ٹھنڈی اور بارش کے درمیان عارضی خیموں میں رہ رہے ہیں، بے جواب نہیں رہے گا، اور نیتن یاہو ذمہ داری سے بچ نہیں پائے گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکی دباؤ کے بعد اسرائیل کا رفح گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے پر غور
دریں اثناء ترک صدرنے جمعہ کی نماز کے بعد کہا کہ ان کی امریکی ہم منصب ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان پیر کو فون پر بات چیت ہوگی ۔اردگان نے استنبول میں کہا، ’’ہم امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ پیر کو دوبارہ گفتگو کریں گے،‘‘ مزید یہ کہ یہ کال دوپہر کے وقت ہوگی۔ واضح رہے کہ نئے سال کے موقع پر جمعرات کی صبح تقریباً۵؍ لاکھ ۲۰؍ ہزار افراد استنبول کے گالاٹا پل پر فلسطین کی حمایت میں منعقدہ عظیم الشان مارچ میں جمع ہوئے، جو ہیومینٹی الائنس اور نیشنل ول پلیٹ فارم کے زیر اہتمام منعقد کیا گیا۔۴۰۰؍ سے زائد سول سوسائٹی تنظیموں کی شرکت اور ترک یوتھ فاؤنڈیشن کی قیادت میں منعقد ہونے والا یہ مظاہرہ ’’ہم ڈریں گے نہیں، خاموش نہیں رہیں گے، فلسطین کو نہیں بھولیں گے‘‘ کے نعرے کے تحت منعقد کیا گیا۔بعد ازاں شرکاء نے غزہ میں نسل کشی کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی ۱۹؍ حقوقِ انسانی تنظیموں کی اپنی ہی حکومت کے فیصلے پر شدید تنقیدیں
یاد رہے کہ اسرائیل نے اکتوبر۲۰۲۳ء میں شروع ہونے والی غزہ پر نسل کشی کی جنگ کے دوران ۷۱؍ ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو ہلاک کیا، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے، اور اس خطے کو تباہ کر دیا۔حالانکہ اکتوبر۲۰۲۵ء میں جنگ بندی نافذ ہوئی، لیکن اسرائیل مسلسل ان شرائط کی خلاف ورزیاںکر رہا ہے۔