• Wed, 21 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

این تھروپک کو ۲۰۲۶ءکی پہلی ششماہی میں ۸۰؍ ارب ڈالر سے زائد کا خسارہ

Updated: October 21, 2026, 6:04 PM IST | New York

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی معروف کمپنی اینتھروپک کو ۲۰۲۶ء کی پہلی ششماہی میں ۸۰؍ ارب ڈالر سے زیادہ کا خالص خسارہ ہوا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، کمپنی کے مجوزہ ابتدائی عوامی حصص کے اجرا (آئی پی او) سے قبل یہ اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔

Anthropic.Photo:INN
اینتھروپک۔ تصویر:آئی این این

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی معروف کمپنی اینتھروپک کو ۲۰۲۶ء کی پہلی ششماہی میں ۸۰؍ ارب ڈالر سے زیادہ کا خالص خسارہ ہوا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل  کی رپورٹ کے مطابق، کمپنی کے مجوزہ ابتدائی عوامی حصص کے اجرا (آئی پی او) سے قبل یہ اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔
چیٹ بوٹ کلاڈ  تیار کرنے والی کمپنی نے آنے والے برسوں میں اپنی کمپیوٹنگ صلاحیت بڑھانے کے لیے  ۷۵۰؍ارب ڈالر تک خرچ کرنے کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔ اخبار نے منگل کو رپورٹ کیا کہ اس سلسلے میں بعض ممکنہ معاہدوں پر بھی بات چیت جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق، خسارے کی بنیادی وجہ ۷۲؍ ارب ڈالر کے حسابی اخراجات تھے، جن کا تعلق کمپنی کی جانب سے سرمایہ اکٹھا کرنے کے لیے جاری کیے گئے قابلِ تبدیلی قرضی نوٹس اور دیگر مالیاتی آلات کی قدر میں تبدیلی سے تھا۔ آئی پی او کے لیے تیار کردہ ابتدائی مسودۂ دستاویز کے مطابق، کمپنی کا خسارہ ایک سال پہلے کے ۱۳؍ ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔ یہ دستاویز وہ قانونی مسودہ ہوتا ہے جسے کمپنیاں مالیاتی نگران اداروں کے پاس جمع کراتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:دپیکا پڈوکون اور رنویر سنگھ نے دوسری بیٹی کا نام ظاہر کردیا

یہ اعداد و شمار مصنوعی ذہانت کی صنعت میں جاری سخت مسابقت کی بھاری لاگت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس دوران سرمایہ کار اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ چِپس اور ڈیٹا سینٹرس پر کمپنیوں کی جانب سے خرچ کی جانے والی خطیر رقوم سے مستقبل میں کتنا فائدہ حاصل ہو سکے گا۔اینتھروپک نے ممکنہ خطرات کی ایک فہرست بھی پیش کی ہے۔ ان میں یہ غیر یقینی صورت حال شامل ہے کہ کمپنی اپنی مصنوعات کے غلط استعمال کو کس طرح روکے گی، خصوصاً جدید سائبر حملوں اور بے قابو اے آئی ماڈلز کے ذریعے بلیک میلنگ جیسے خطرات سے کیسے نمٹے گی۔کمپنی نے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا، جبکہ غیر عوامی معلومات پر مبنی اس رپورٹ کی فوری طور پر آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ روئٹرز نے ستمبر میں پہلی بار رپورٹ کیا تھا کہ اینتھروپک کو۲۰۲۵ء میں ۴۲؍ ارب ڈالر کا خالص خسارہ ہوا تھا۔ یہ ان خصوصی رپورٹوں کی ایک کڑی تھی جو کمپنی کے آئی پی او سے متعلق مسودۂ دستاویز کی بنیاد پر شائع کی گئی تھیں۔ کمپنی کو اس کے کوڈنگ معاون کلاڈ کوڈ کی مقبولیت سے فائدہ ہوا ہے، جسے سافٹ ویئر تیار کرنے اور ایپس بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:اسپین کی عالمی درجہ بندی میں برتری مضبوط، ۱۶؍ سال بعد ڈنمارک ٹاپ ۱۰؍ میں

روئٹرز کے مطابق، گزشتہ ہفتے کیلیفورنیا کے شہر سان فرانسسکو میں کمپنی کے سرمایہ کاروں کے اجلاس میں شرکت کرنے والے بعض موجودہ اور ممکنہ سرمایہ کار تازہ مالیاتی تفصیلات سامنے آنے کے بعد کمپنی کی قدر کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں۔ معاملے سے واقف چار افراد کے مطابق، اجلاس میں شریک سرمایہ کاروں نے کمپنی کی قدر تقریباً۵ء۱؍ ٹریلین ڈالر لگانے پر بات کی، جو نومبر میں متوقع حصص کی فروخت کے لیے پہلے زیر غور تقریباً ۲؍ ٹریلین ڈالر کی قدر سے نمایاں طور پر کم ہے۔
اخبار کی رپورٹ کے مطابق۳۰؍ جون کو ختم ہونے والی چھ ماہ کی مدت میں اینتھروپک کی آمدنی بڑھ کر ۳ء۱۶؍  ارب ڈالر ہو گئی، جو ایک سال پہلے اسی مدت میں ۱ء۱؍ارب ڈالر تھی۔ اسی دوران مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے پر اخراجات تقریباً چار گنا بڑھ کر۹؍ ارب ڈالر کے قریب پہنچ گئے۔ اینتھروپک نے گزشتہ ہفتے یہ بھی کہا تھا کہ مصنوعی ذہانت کے نظام چند ماہ کے اندر عام گھریلو آلات پر خود کو نقل کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کے قریب پہنچ سکتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK