Updated: October 21, 2026, 6:04 PM IST
| London
برطانوی بادشاہ نے سلطان ہیثم بن طارق کے اعزاز میں ونڈسر کیسل میں منعقدہ سرکاری ضیافت کے دوران حضور اکرم ﷺ سے منسوب قول پیش کرتے ہوئے عمان کے لوگوں کے کردار اور ان کی رواداری کا ذکر کیا۔ شاہ چارلس سوم نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران عمان کی سفارتی کوششوں، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال رکھنے کی کوششوں اور خطے میں اس کی غیر جانب دارانہ پالیسی کو بھی سراہا۔ سلطانِ عمان کا یہ دورہ تقریباً ۴۴؍ برس بعد کسی عمانی حکمراں کا برطانیہ کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔
برطانیہ کے بادشاہ شاہ چارلس سوم ، سلطانِ عمان ہیثم بن طارق کے ساتھ۔ تصویر: ایکس
برطانیہ کے بادشاہ شاہ چارلس سوم نے سلطانِ عمان ہیثم بن طارق کے اعزاز میں ونڈسر کیسل میں منعقدہ سرکاری ضیافت سے خطاب کرتے ہوئے حضور اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے منسوب ایک قول کا حوالہ دیا اور اس کے ذریعے عمان کے لوگوں کے کردار، ان کی رواداری اور تاریخی اخلاقی روایت کو سراہا۔ برطانوی بادشاہ نے کہا کہ عمان کے لوگوں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ’’اگر تم عمان کے لوگوں کے پاس جاتے تو وہ نہ تمہاری توہین کرتے اور نہ تمہیں مارتے۔‘‘ شاہ چارلس نے اس اقتباس کو عمان کے لوگوں کی روایتی شرافت اور ان کے کردار کے تناظر میں پیش کیا۔ یہ حوالہ ۲۰؍ اکتوبر کو سلطانِ عمان کے سرکاری دورۂ برطانیہ کے موقع پر منعقدہ ضیافت میں دیے گئے خطاب کا حصہ تھا۔ اس تقریب میں برطانوی شاہی خاندان کے افراد اور دونوں ملکوں کے اعلیٰ حکام سمیت تقریباً ۱۶۰؍ مہمان شریک ہوئے۔ شاہ چارلس نے اپنے خطاب میں عمان اور برطانیہ کے درمیان تاریخی تعلقات، تجارت، دفاعی تعاون اور سفارتی روابط کا ذکر کیا، لیکن ان کی تقریر کا ایک نمایاں حصہ عمان کے تاریخی کردار اور اس کی امن پسند خارجہ پالیسی کے اعتراف پر مشتمل تھا۔
شاہ چارلس نے کہا کہ جب خطے میں تنازعات ایک بار پھر شدت اختیار کررہے ہیں، عمان تمام فریقوں کے لیے ایک قابلِ اعتماد رابطہ کار کا کردار ادا کررہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں خاص طور پر اس وقت عمان کی اس مستقل وابستگی کو تسلیم کرنا چاہوں گا، جب خطے میں تنازع ایک بار پھر تکلیف دہ انداز میں لوٹ آیا ہے اور عمان تمام فریقوں کے لیے ایک قابلِ اعتماد رابطہ کار کے طور پر کام کررہا ہے۔‘‘ برطانوی بادشاہ نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے حوالے سے عمان کی کوششوں کو بھی سراہا۔ ان کے مطابق، ’’دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں سے ایک کو کھلا رکھنے کے لیے عمان کی قابلِ قدر کوششیں پوری عالمی برادری، بالخصوص اس صورتِ حال سے متاثر ہونے والے سب سے کمزور طبقات کے لیے بڑی خدمت ثابت ہوئی ہیں۔‘‘ انہوں نے خلیج میں عمان کے کردار اور اس کی ’’تعمیری غیر جانب داری‘‘ کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی کی اہمیت آبنائے ہرمز سے کہیں آگے تک پھیلی ہوئی ہے اور یہ احترام کی مستحق ہے۔ شاہ چارلس کے خطاب میں عمان کی تاریخ اور برطانیہ کے ساتھ اس کے تعلقات کا بھی تفصیلی ذکر تھا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے لوگوں کے ایک دوسرے سے براہِ راست روابط قائم ہونے سے ایک ہزار سال پہلے ہی عمانی ملاح بحرِ ہند میں تجارت کررہے تھے۔ عمان کے تاجر لوبان کی تجارت کے قدیم راستوں کو بین النہرین اور بحیرۂ روم تک پھیلا چکے تھے۔ بادشاہ نے اس تاریخی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سمندری سفر کے حوالے سے برطانیہ کے اپنے دعووں کی اہمیت بھی ایک نئے تناظر میں سامنے آتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کنیڈا سےعلاحدگی کی تجویز البرٹا کے عوام نے اکثریت سے مسترد کردی
انہوں نے دونوں ملکوں کے تعلقات کے ارتقا کو مختلف ادوار سے جوڑتے ہوئے کہا کہ یہ رشتہ سترہویں صدی میں بحری شراکت داری، اٹھارہویں صدی میں معاہدوں، انیسویں صدی میں تزویراتی تعاون اور بیسویں صدی میں مشترکہ فوجی تعلقات سے گزرتا ہوا آج سفارت کاری، دفاع، تجارت اور اعتماد کی بنیاد پر قائم ہے۔ برطانوی بادشاہ نے عمان کے سابق سلطان قابوس بن سعید کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ سلطان قابوس نے عمان کی قدیم ثقافت کو محفوظ رکھتے ہوئے ریاست کو جدید بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور ایسی خارجہ پالیسی اختیار کی جس کی بنیاد مکالمے اور کھلے پن پر تھی۔ شاہ چارلس نے کہا کہ انہیں سلطان قابوس کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں یاد ہیں اور وہ عمان کے اس سابق حکمراں کو اپنا قریبی دوست اور بھائی سمجھتے تھے۔ انہوں نے موجودہ سلطان ہیثم بن طارق کی قیادت میں عمان میں جاری اصلاحات اور اقتصادی تنوع کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ شاہ چارلس کے مطابق، عمان کے وژن ۲۰۴۰ء میں مہارتوں اور تعلیم کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے اور نوجوانوں کو ملک کی مستقبل کی ترقی، اختراع اور معاشی پیش رفت کا بنیادی محرک بنایا گیا ہے۔
حضور اکرم ﷺ سے منسوب قول کا حوالہ دیتے ہوئے شاہ چارلس نے عمان کے بارے میں محض تاریخی یادداشت بیان نہیں کی، بلکہ اسے موجودہ دور میں دونوں ملکوں کے تعلقات اور خطے میں عمان کے کردار کے ساتھ بھی جوڑا۔ ان کی تقریر میں امن، مکالمے اور مختلف فریقوں کے درمیان مشترکہ بنیاد تلاش کرنے کی اہمیت بار بار سامنے آئی۔ تاہم خطاب میں مذکور حدیث کا اقتباس عمان کے لوگوں کے کردار کے بارے میں بادشاہ کی جانب سے پیش کیا گیا حوالہ تھا؛ اسے حدیث کی مکمل سند یا اس کی صحت پر مستقل علمی تحقیق کے طور پر نہیں سمجھنا چاہیے۔ سلطان ہیثم بن طارق کا یہ سرکاری دورہ ۱۹؍ اکتوبر سے شروع ہوا اور چار روزہ دورے کے دوران برطانوی قیادت کے ساتھ دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات اور علاقائی و عالمی امور پر بات چیت طے تھی۔ عمان کے کسی حکمراں کا برطانیہ کا یہ پہلا سرکاری دورہ تقریباً ۴۴؍ برس بعد ہورہا ہے، جس سے اس دورے کی سفارتی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
سرکاری ضیافت میں سلطان ہیثم بن طارق نے بھی دونوں ملکوں کے دیرینہ تعلقات کو سراہا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ عمان نے ایک ایسے خطے میں جہاں طویل عرصے سے تنازعات موجود ہیں، مکالمے، افہام و تفہیم اور امن کا راستہ اختیار کیا ہے۔ ان کے مطابق، ’’ایک دانش مند قوم سننے کا انتخاب کرتی ہے۔ عمان نے سننے کا انتخاب کیا ہے، اور اسی عمل میں ہمیں ایسی طاقت ملی ہے جو فوجیں فراہم نہیں کرسکتیں۔‘‘ سلطان نے کہا کہ عمان مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری اور مسلسل مکالمے پر یقین رکھتا ہے اور برطانیہ نے بھی اس راستے میں اس کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے دفاع، تعلیم اور تجارت میں تعاون کو دونوں ملکوں کے تعلقات کے اہم ستون قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں اسرائیل کے حملے میں ۵؍ افراد جاں بحق
سلطانِ عمان نے اپنے خطاب میں ۱۸۰۰ء کے معاہدے کا حوالہ بھی دیا، جس میں دونوں ریاستوں کے درمیان دوستی کو وقت کے اختتام تک برقرار رکھنے کی خواہش ظاہر کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ دو صدیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود یہ دوستی برقرار ہے۔ انہوں نے برطانوی ولی عہد شہزادہ ولیم اور عمان کے شہزادہ ذی یزن کے درمیان مشترکہ سرگرمیوں اور ’جیول آف عربیہ‘ مہم کی سرپرستی کو بھی دونوں ملکوں کے تعلقات اگلی نسل تک منتقل ہونے کی علامت قرار دیا۔ شاہ چارلس کے خطاب میں بین المذاہب مکالمے، نوجوانوں، ماحولیاتی تحفظ اور مستقبل کے عالمی چیلنجوں کا بھی ذکر تھا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی اور مصنوعی ذہانت کے ممکنہ اثرات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ آنے والی نسلوں کو ایسے اتحادیوں کی ضرورت ہوگی جو اختلافات کے باوجود تعاون کرسکیں، امن اور بین الاقوامی قانون کا دفاع کریں اور مختصر مدتی مفادات کے بجائے آنے والی نسلوں کے بارے میں سوچیں۔
تقریب کے اختتام پر شاہ چارلس نے عمان کے شاعر شیخ البیان کے کلام سے ماخوذ دعا کے ذریعے سلطان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، ’’آپ ہمیشہ خوش حالی کے ساتھ زندہ رہیں اور آپ کے رب، جو عطا کرنے والا ہے، کی بے انتہا برکتیں آپ کو سہارا دیتی رہیں۔‘‘ اس طرح شاہ چارلس کی تقریر میں رسول اللہ ﷺ سے منسوب قول، عمان کے تاریخی تجارتی روابط اور خطے میں اس کی سفارتی پالیسی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے موضوعات کے طور پر سامنے آئے۔ سلطانِ عمان کے دورے نے دونوں ملکوں کے تعلقات کی تاریخی بنیاد کو دوبارہ اجاگر کیا، جب کہ حدیثِ نبوی ﷺ کا حوالہ اس خطاب کا ایک نمایاں اور توجہ حاصل کرنے والا پہلو بن گیا۔