Inquilab Logo Happiest Places to Work

سونا نہ خریدنے کی اپیل پر کاریگروں کو بیروزگاری کا خوف

Updated: May 13, 2026, 12:49 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

تاجر بھی فکرمند، سونے چاندی اور زیورات کی صنعت کم وبیش ۵۰؍ لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے، ملک کی جی ڈی پی میں ۷؍ فیصدکا تعاون کرتی ہے۔

If Demand Remains Low For A Long Time, The Industry May Face A Loss Of About Rs 10,000 Crore.Photo:INN
طلب میں طویل عرصے تک کمی رہی تو صنعت کو تقریباً۱۰؍ ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے- تصویر:آئی این این
وزیر اعظم نریندرمودی  کی جانب سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنے کیلئے عوام سے کی گئی  اپیلوں میں  ایک سال تک سونا نہ خریدنے کی اپیل شامل ہے جس نے زیورات کی صنعت سے وابستہ افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ لاکھوں  افراد کے بیروزگار ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ ورلڈ ایم ایس ایم ای فورم کے صدر بدیش جندل نے متنبہ کیا ہے کہ وزیراعظم کے بیان سے سونے چاندی کے زیورات کی صنعت  ہی نہیں سیاحت، مہمان نوازی، ہوا بازی اور ریٹیل تجارت  کے شعبے پر غیر معمولی اثر پڑسکتاہے جو روزگار فراہم کرنے  والے   بڑے شعبوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان کی زیورات کی صنعت ملک کے اہم ترین معاشی شعبوں میں سے ایک ہے۔ یہ صنعت ہندوستان کی مجموعی گھریلو پیداوار( جی ڈی پی) میں تقریباً ۷؍ فیصد اور کل تجارتی برآمدات میں تقریباً۱۵؍فیصد حصہ رکھتی ہے، جبکہ۵۰؍ لاکھ سے زیادہ افراد کو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر روزگار فراہم کرتی ہے۔ ان میں کاریگر، سنار، تاجر، ٹرانسپورٹر، پالش کرنے والے، چھوٹے صنعتکار اور ریٹیل فروش شامل ہیں۔
اس کاروبار سے وابستہ بہت سے لوگوںکیلئے فکر صرف فروخت میں کمی تک محدود نہیں۔ جیولرس کا کہنا ہے کہ سونے کی خریداری شادیوں، تہواروں اور خاندانی روایات سے گہرائی کے ساتھ  جڑی ہوئی ہے، اس  لئے اسے غیر ضروری قرار دینا آسان  نہیں۔ اگر صارفین واقعی سونا خریدنا کم کر دیتے ہیں تو اس کے اثرات پورے شعبے پر پڑیں گے، جن میں چھوٹے زیورات فروشوں سے لے کر روایتی سناروں اور کاریگروں تک شامل ہیں، جن کا روزگار زیورات کی مسلسل مانگ پر منحصر ہے۔
 
 
چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری ( سی ٹی آئی ) کے چیئرمین برجیش گوئل  نے ’’انڈیا ٹوڈے ‘‘ سے بات چیت میں بتایاہے کہ ’’ہندوستان میں ہر سال تقریباً ۷۰۰؍ سے۸۰۰؍ٹن سونے کی کھپت ہوتی ہے اور  ہم  دنیا کے سب سے بڑے سونا استعمال کرنے والے ممالک میں شامل ہیں۔ گوئل نے کہا کہ ’’اگر صارفین ایک سال تک سونا خریدنا بند کر دیں تو کھپت تقریباً ۸۰۰؍ ٹن سے کم ہو کر۵۰۰؍ ٹن تک آ سکتی ہے۔‘‘
 
 
اس صنعت کی تشویش کی وجہ یہ ہے کہ چین کے بعد ہندوستان دنیا کا دوسرا سب سے بڑا سونا استعمال کرنے والا ملک ہے، جہاں سونے کی طلب صرف شادیوں اور تہواروں تک محدود نہیں بلکہ گھریلو بچت اور سرمایہ کاری سے بھی جڑی ہوئی ہے۔چھوٹے جیولرس، سنار، کاریگر اور ورکشاپ چلانے والوں کو خدشہ ہے کہ اگر طلب میں مسلسل کمی رہی تو زیورات کی پوری صنعت میں روزگار شدید متاثر ہوگا کیونکہ اس کا بڑا حصہ چھوٹے کاروباروں اور غیر رسمی مزدور نیٹ ورک پر چلتا ہے۔گوئل نے کہاکہ’’چھوٹے جیولرس، کاریگر اور سنار اس بات سے پریشان ہیں کہ اگر فروخت میں نمایاں کمی آئی تو انہیں مزدوروں کی تنخواہیں دینے میں دشواری ہو سکتی ہے۔‘‘انہوں نے مزید بتایاکہ اگر سست روی جاری رہی تو ملازمین کو نکالنے کی نوبت بھی آ سکتی ہے۔زیورات کی صنعت کو دھن تیرس جیسے اہم خریداری کے مواقع پر بھی اثرات کا خدشہ ہے، کیونکہ یہ تہوار ہندوستان میں سالانہ سونے کی فروخت کا بڑا حصہ ہوتا ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر وزیر اعظم کے بیان کے بعد سونے کی طلب میں طویل عرصے تک کمی رہی تو صنعت کو تقریباً۱۰؍ ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK