Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے تقریباً نصف علاقے پر کنٹرول حاصل کرلیاہے‘‘

Updated: May 13, 2026, 12:24 PM IST | Agency | Beirut

لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام کا دعویٰ ، ان کے مطابق اسرائیل اس وقت جنوبی لبنان کے۶۸؍ مقامات پر قابض ہے جونصف علاقے کے برابر ہے۔

Lebanese Prime Minister Nawaf Salam Speaking.Photo:INN
لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام خطاب کرتےہوئے۔تصویر:آئی این این
 لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت جنوبی لبنان کے۶۸؍ مقامات پر قابض ہے، جو دریائے لیطانی کے جنوب میں واقع تقریباً نصف علاقے کے برابر ہے۔
 
 
جرمن خبر رساں ایجنسی’ ڈی پی اے‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے لبنانی وزیر اعظم نے کہا کہ حالیہ جنگ سے قبل اسرائیل کے قبضے میں صرف ۵؍مقامات تھےلیکن اب اسرائیلی فوج۶۸؍ دیہاتوں پر کنٹرول قائم کئے ہوئے ہے۔
 
 
انہوں نے بتایا کہ دریائے لیطانی اسرائیلی سرحد سے تقریباً ۳۰؍ کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اپنے اقدامات کا جواز شمالی اسرائیل کی سلامتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کارروائیوں کا مقصد حزب اللہ کی دوبارہ موجودگی کو روکنا اور شمالی اسرائیل کے باشندوں کو درپیش خطرات ختم کرنا ہے۔نواف سلام نے پیر کو اسرائیلی جنگی جرائم کی دستاویزی کارروائی جاری رکھنے اور انہیں اقوام متحدہ میں پیش کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔لبنانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق انہوں نے وزارتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کا اجلاس بلانے کے لئے کوششیں کر رہے ہیں۔بیروت حکومت نے متعدد بار جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔واضح  رہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان حزب اللہ تنازع کے حوالے سے جنگ بندی پر اتفاق ہو چکا ہے لیکن باہمی گولہ باری کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق مارچ کے آغاز سے اب تک جاری جھڑپوں میں۲؍  ہزار۸۶۹؍افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھتے ہوئے حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK