• Wed, 07 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آسٹریلیا: اپوزیشن امیگریشن کے خلاف کمربستہ؛ ’تاریخ کی سب سے بڑی کٹوتی‘ کا عزم، ہندوستانی متاثر ہوگے

Updated: October 07, 2026, 4:05 PM IST | Canberra

آسٹریلیا کے اپوزیشن لیڈر اینگس ٹیلر نے بیان دیا ہے کہ اگر ہمارے اتحادی گروپ کی حکومت اقتدار میں آتی ہے تو پہلے دو برسوں کیلئے سمندر پار ہجرت کی حد ایک لاکھ مقرر کی جائے گی۔ تیسرے سال اسے بڑھا کر ایک لاکھ ۳۰ ہزار اور چوتھے سال ایک لاکھ ۶۰ ہزار کیا جائے گا۔ چار برسوں کے دوران عارضی ویزوں کی تعداد میں تقریباً ۶ لاکھ ۵۰ ہزار کی کٹوتی کی جائے گی۔ مارچ ۲۰۲۶ء تک میں آسٹریلیا میں ۲ لاکھ ۹۲ ہزار سے زائد سمندر پار تارکینِ وطن ریکارڈ کئے گئے تھے۔ اس طرح، یہ تجویز ایک تیز ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

Angus Taylor. Photo: X
آسٹریلیائی اپوزیشن لیڈر اینگس ٹیلر۔ تصویر: ایکس

آسٹریلیا کی قدامت پسند اپوزیشن نے اپنے بقول ’ملک کی تاریخ میں امیگریشن کی سب سے بڑی کٹوتی‘ کے منصوبوں کی نقاب کشائی کی ہے۔ ان منصوبوں کے تحت، اقتدار کے پہلے دو برسوں میں سالانہ سمندر پار ہجرت (نیٹ اوورسیز مائیگریشن) کو کم کرکے ایک لاکھ تک لانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ یہ اقدام ہندوستانیوں کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتا ہے، جو حال ہی میں آسٹریلیا کی سب سے بڑی غیر ملکی نژاد آبادی بن چکے ہیں اور ملک میں عارضی ہنر مند تارکینِ وطن کا سب سے بڑے ذریعہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: مصر: صدر سیسی نے دریائے نیل کے پانی کے حقوق پر کسی بھی خطرے کو مسترد کر دیا

آسٹریلیا کے اپوزیشن لیڈر اینگس ٹیلر نے بیان دیا ہے کہ اگر ہمارے اتحادی گروپ کی حکومت اقتدار میں آتی ہے تو پہلے دو برسوں کیلئے سمندر پار ہجرت کی حد ایک لاکھ مقرر کی جائے گی۔ تیسرے سال اسے بڑھا کر ایک لاکھ ۳۰ ہزار اور چوتھے سال ایک لاکھ ۶۰ ہزار کیا جائے گا۔ چار برسوں کے دوران عارضی ویزوں کی تعداد میں تقریباً ۶ لاکھ ۵۰ ہزار کی کٹوتی کی جائے گی۔ مارچ ۲۰۲۶ء تک میں آسٹریلیا میں ۲ لاکھ ۹۲ ہزار سے زائد سمندر پار تارکینِ وطن ریکارڈ کئے گئے تھے۔ اس طرح، یہ تجویز ایک تیز ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ ٹیلر نے کہا کہ ”آسٹریلیا کو ایک گھر ہونا چاہئے، ہوٹل نہیں۔“

آسٹریلوی اپوزیشن کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں ہندوستانی تارکینِ وطن کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ آسٹریلین بیورو آف اسٹیٹسٹکس کا ڈیٹا بتاتا ہے کہ ۳۰ جون ۲۰۲۵ء تک ۹ لاکھ ۷۱ ہزار ہند نژاد باشندے آسٹریلیا میں رہائش پذیر تھے۔ اس تعداد نے پہلی بار انگلینڈ میں پیدا ہونے والی آبادی کو معمولی فرق سے پیچھے چھوڑ دیا۔ ہندوستان میں پیدا ہونے والی آبادی جو ۲۰۲۵ء میں تقریباً ۴ لاکھ ۴۹ ہزار تھی، بڑھ کر اب آسٹریلیا کی کل آبادی کا ۵ء۳ فیصد بن چکی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں اسرائیلی بمباری سے ایک بچی سمیت ۴؍ فلسطینی شہید، متعدد زخمی

آسٹریلوی اپوزیشن کا منصوبہ بین الاقوامی تعلیم اور گریجویٹ ویزا کے راستوں کو نشانہ بناتا ہے۔ اس میں سالانہ طلبہ کے داخلوں کی حد ۲ لاکھ ۴۰ ہزار مقرر کرنے، طلبہ کے ساتھ آنے والے زیرِ کفالت افراد پر پابندی لگانے اور چند منتخب شعبوں کے علاوہ بیشتر عارضی گریجویٹ ویزوں کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ یہ اقدام ہندوستانی طلبہ کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتا ہے، جو آسٹریلیا میں زیرتعلیم بین الاقوامی طلبہ کے سے بڑے گروہوں میں شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK