مصری صدر عبد الفتاح السیسی نے دریائے نیل کے پانی کے حقوق پر کسی بھی خطرے کو مسترد کر دیا،ساتھ ہی انہوں نے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی کوششوں اور عرب ریاستوں پر حملوں کی بھی مذمت کی اور آزادیِ نیویگیشن پر زور دیا۔
EPAPER
Updated: October 06, 2026, 6:05 PM IST | Cairo
مصری صدر عبد الفتاح السیسی نے دریائے نیل کے پانی کے حقوق پر کسی بھی خطرے کو مسترد کر دیا،ساتھ ہی انہوں نے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی کوششوں اور عرب ریاستوں پر حملوں کی بھی مذمت کی اور آزادیِ نیویگیشن پر زور دیا۔
مصری صدر عبد الفتاح السیسی نے مصر کے نیل کے پانی کے حصے پر کسی بھی تجاوز، فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی کوششوں یا غزہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد سے بچنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کر دیا۔ صدارتی بیان کے مطابق، سیسی نے پیر کے روز قاہرہ کے مشرق میں نئے انتظامی دارالحکومت میں اسٹریٹجک کمانڈ ہیڈکوارٹر میں مسلح افواج کی سپریم کونسل کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے یہ بات کہی۔یہ اجلاس اسرائیل کے خلاف مصر کی اکتوبر۱۹۷۳ء کی جنگ کی ۵۳؍ویں سالگرہ کی تقریبات کا حصہ تھا۔انہوں نے کہا، ’’دریائے نیل مصر کی زندگی کی روانی اور ہزاروں سالوں سے اس کے وجود کی بنیاد ہے۔مصر کا پانی کا حصہ ایک قائم شدہ تاریخی اور ناقابلِ گفت و شنید قانونی حق ہے جس میں کوئی سمجھوتہ یا تجاوز قابلِ قبول نہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ مصر ساتھی نیل بیسن ممالک کے ساتھ تعاون اور مشترکہ ترقی کے لیے پرعزم ہے لیکن اپنی آبی سلامتی کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی اقدام کی اجازت نہیں دے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ مصر بین الاقوامی قانون کے تحت منظور شدہ تمام ذرائع سے اپنے حقوق کا دفاع جاری رکھے گا۔
یہ بھی پڑھئے: اگر مصر نے اسرائیل پر حملہ کیا تو سینائی باقی نہیں رہے گا: اسرائیلی وزیر
واضح رہے کہ نیل کے دو زیریں ممالک مصر اور سوڈان،، بالائی ملک ایتھوپیا کے ساتھ اس کے ڈیم اور آپریشن کو کنٹرول کرنے والے پابند معاہدے کی عدم موجودگی پر تنازع میں الجھے ہوئے ہیں۔ قاہرہ کو خدشہ ہے کہ یہ منصوبہ اس کی سالانہ۵۵؍ اعشاریہ ۵ء؍ بلین کیوبک میٹر پانی کی تقسیم کو متاثر کر سکتا ہے۔بعد ازاں فلسطین کی طرف رخ کرتے ہوئے، سیسی نے فلسطینی عوام کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی کسی بھی کوشش کو قطعی طور پر مسترد کرنے کا اعادہ کیا۔انہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی منصوبے پر مکمل عمل درآمد کا بھی مطالبہ کیا، اور اس سے بچنے یا اسے نظر انداز کرنے کے خلاف خبردار کیا۔
مزید برآں سیسی نے بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی اہمیت پر زور دیا، اور اسے مشرق وسطیٰ میں منصفانہ اور پائیدار امن و استحکام کی واحد ضمانت قرار دیا۔انہوں نے اسرائیل کے ساتھ مصر کے امن معاہدے کو اس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کیا کہ طویل تنازع بقائے باہمی میں بدل سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مصر اور اسرائیل نے کئی دہائیوں تک جنگیں لڑیں، اس سے پہلے کہ ان کی سیاسی قیادت کی ہمت اور دور اندیشی نے، امریکی ثالثی کی حمایت سے، امن کا دروازہ کھولا اور دشمنی ختم کی۔سیسی نے مزید کہا، ’’امن کسی بھی طرح سے ایک ناقابل حصول خواہش نہیں بلکہ ایک قابل عمل انتخاب ہے جو تنازعات کو حل کرنے اور عوام کے درمیان پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: یمنی فوج کا حوثیوں کیخلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
واضح رہے کہ مصر اور اسرائیل نے۱۹۷۸ء کے کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بعد۲۶؍ مارچ۱۹۷۹ء کو واشنگٹن ڈی سی میں امن معاہدے پر دستخط کیے تھے۔علاقائی پیش رفت پر بات کرتے ہوئے، سیسی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کو بحرانوں اور ہنگامہ آرائی کا سامنا ہے، جبکہ تیز رفتار عالمی تبدیلیوں اور بے مثال چیلنجز نے ممالک کو غیر مستحکم کیا ہے اور لاکھوں افراد کو بے گھر کیا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ مصر کے استحکام کے لیے چیلنجز برقرار ہیں لیکن کہا کہ ملک کے ادارے اور اس کے عوام کی یکجہتی اسے اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے قابل بناتی ہے۔انہوں نے عرب ممالک کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت اور ان کے قومی اداروں کے تحفظ کے لیے مصر کی حمایت کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا، ’’خلیج عرب ریاستوں کی سلامتی مصر کی قومی سلامتی کا لازمی اور ناقابل تقسیم حصہ ہے،‘‘اور عرب ممالک کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مصر کی مذمت کی تجدید کی۔
علاوہ ازیں انہوں نے بین الاقوامی سمندری راستوں سے آزادیِ نیویگیشن کو محفوظ رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔سیسی نے کہا کہ’’ مصر کی مسلح افواج ہر وقت اور ہر حال میں ملک، اس کے وسائل اور قومی سلامتی کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘