ہندوستان کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدہ کو آسٹریلیائی پارلیمنٹ کی منظوری

Updated: November 23, 2022, 11:59 AM IST | Agency | New Delhi

کپڑا، چمڑا اور زیورات کے تاجروں میں خوشی کی لہر، کسٹم ڈیوٹی سے راحت مل جائےگی

Prime Minister Modi with Prime Minister of Australia Anthony Albinez.Picture:INN
وزیراعظم مودی آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البنیز کے ساتھ ۔ تصویر :آئی این این

ہندوستان کے ساتھ آزادانہ تجارت  (فری ٹریڈ ایگریمنٹ، ایف ٹی اے) کو آسٹریلیا کی پارلیمنٹ  نے منظوری دیدی ہے۔منگل کو اس کی تصدیق مرکزی وزیر برائے کامرس و صنعت پیوش گوئل نے کی۔ انہوں نے اسے دونوں  ملکوں کیلئے  تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے  دونوں ہی ممالک کے وزرائے اعظم کو مبارکباد پیش کی۔ معاہدہ کے نفاذ کیلئے تاریخ  پر فیصلہ جلد کیاجائےگا۔  اس معاہدہ سے ہندوستان کے کپڑا، چمڑا اور زیورات وغیرہ کے تاجروں کو کسٹم ڈیوٹی سے راحت مل جائے گی۔   اور اس طرح دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔  آسٹریلیائی پارلیمنٹ نے مذکورہ معاہدہ کو منظوری  منگل، ۲۲؍ نومبر کو دی   اب دونوں ممالک آپسی اتفاق سے فیصلہ کریں گے کہ یہ معاہدہ کس تاریخ سے نافذ العمل ہوگا۔ اس سے قبل آسٹریلیائی وزیر اعظم انتھونی البنیز نے ایک ٹویٹ کے ذریعہ آسٹریلیائی پارلیمنٹ میں ہند آسٹریلیا معاہدہ کی منظوری کی اطلاع دی ۔  بعد ازاں ہندوستان  میں  وزیر برائے کامرس و صنعت پیوش گویل نے ایک ٹویٹ کر کے  اس معاملے میں خوشی کا اظہار کیا۔ انھوں نے لکھاکہ’’ یہ ہمارے لئے کاروباری تعلقات کو پوری صلاحیت کے ساتھ آگے بڑھانے اور بڑے پیمانے پر معاشی ترقی کو رفتار دینے کیلئے اسٹیج تیار کرتا ہے۔‘‘ اس کا مرکزی وزیر نے منگل کو دہلی میں منعقدہ  ایک تقریب میں بھی کیا ۔ انہوں   نے بتایا کہ یہ معاہدہ ہندوستان کیلئےکارآمد ثابت ہوگا۔اس کے بعد کسٹم ڈیوٹی سے کاروباریوں کو راحت مل جائے گی۔ کسٹم ڈیوٹی افسر کے ذریعہ اس سلسلے میں نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جائے گا۔  ایف ٹی  اے نافذ ہونے کے بعد کپڑا، چمڑا، فرنیچر، زیورات اور مشینری سمیت  ۶؍ ہزار سے زیادہ  ہندوستانی مصنوعات کو آسٹریلیائی بازار میں ٹیکس فری رسائی ملے گی۔اس میں کئی مصنوعات ایسی ہیں جس پر موجودہ وقت میں آسٹریلیا میں ۴؍سے ۵؍فیصد کسٹم ٹیکس لگتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK