امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ مسلسل دسویں روز بھی جاری رہی جبکہ عراق میں تہران کی حامی مسلح تنظیمیں امریکی ٹھکانوں پر حملوں کی کوششیں کر رہی ہیں۔
عراق میں میزائل اورڈرون گر رہے ہیں- تصویر:آئی این این
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ مسلسل دسویں روز بھی جاری رہی جبکہ عراق میں تہران کی حامی مسلح تنظیمیں امریکی ٹھکانوں پر حملوں کی کوششیں کر رہی ہیں۔عراقی سیکوریٹی ذرائع نے پیر کو اطلاع دی ہے کہ عراقی کردستان میں اربیل ایئرپورٹ کے قریب ایک امریکی فوجی اڈے پر ڈرون حملہ ہوا ہے۔عراقی پولیس کے ذرائع نے یہ بھی اشارہ کیا ہے کہ بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک امریکی سفارتی تنصیب کو میزائل اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا، جنھیں سی آر اے ایم دفاعی نظام کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا۔
اسی دوران ’عراق میں اسلامی مزاحمت‘ نامی گروپ، جو کہ ایران نواز مسلح تنظیموںکے اتحاد کا حصہ ہے، نے اعلان کیا ہے کہ اس نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران عراق اور خطے میں بم باری کے ۲۶؍ آپریشن کئے ہیں۔ گروپ نے ایک بیان میں مزید کہا کہ اس نے امریکی اڈوں پر اپنی کارروائیوں میں درجنوں ڈرون اور میزائل استعمال کئے ہیں۔واضح رہے کہ تنازع کے آغاز سے ہی کردستان کے مختلف علاقوں میں بھی ایران اور ان مسلح تنظیموں کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ جن میں اربیل ایئرپورٹ پر امریکی اڈوں، الحریر بیس، کرد پیش مرگہ کی بیرکوں، تیل و گیس کی تنصیبات، مخالف ایرانی کرد جماعتوں کے دفاتر، بنیادی ڈھانچے اور ہوٹلوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ ۲۸؍ فروری کو جنگ چھڑنے کے بعد سے، عراق اور دیگر عرب ممالک میں امریکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ احتیاط برتیں اور قونصل خانوں یا امریکی اجتماعات کو نشانہ بنائے جانے کے خدشے کے پیش نظر جلد از جلد وہاں سے نکل جائیں ۔