• Sat, 17 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پابندی دھری رہ گئی ،ترنگا مارچ نکالا گیا

Updated: October 17, 2026, 9:36 AM IST | Fazil Ahmed | New Delhi

ابھیجیت دِپکے اور نیہا بورا سمیت کئی افراد کو پولیس نے حراست میں لیا، سینٹرل پارک کی قلعہ بندی لیکن سیکڑوں افراد کی شرکت۔

Neha Bora was taken into custody on Barakhamba Road in Delhi following a tough struggle. Photo: PTI
نیہا بورا کو دہلی میں بارہ کھمبا روڈ پر سخت جدو جہد کے بعد حراست میں لیا گیا۔ تصویر:پی ٹی آئی

دہلی ہائی کورٹ کے ذریعے کاکروچ جنتا پارٹی کی ترنگا یاترا پر پابندی لگانے سے انکار کے باوجود پولیس نے غیر معمولی سختی کا مظاہرہ کیا۔ پولیس نے ترنگا یاترا روکنے کے لئے بڑے پیمانے پر حفاظتی بند و بست کئے تھے۔ اس کے باوجود مختلف تنظیموں اور نوجوانوں کی  بڑی تعداد کناٹ پلیس اور آس پاس کے علاقوں میں سڑکوں پر نکل آئی اور ترنگا لہرا کر پولیس اور حکومت کو مشکلات میں ڈال دیا۔ مارچ کے پیش نظر دہلی پولیس نے علاقے میں بھاری نفری تعینات کرنے کے ساتھ سینٹرل پارک کے اطراف انسانی زنجیر بنائی اور مختلف مقامات پر بیریکیڈنگ کی تھی۔ اس کے باوجود احتجاج میں شرکت کے لیے پہنچنے والے افراد نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے، گرفتار کارکنان کی رہائی اورایس آئی آرکے دوران بے ضابطگیوں کے خلاف آواز اٹھائی۔

حالانکہ پولیس نے مارچ شروع ہوتے ہی سی جے پی کے بانی ابھجیت دِپکے اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کی قومی صدر نیہا بورا سمیت درجنوںافراد کو حراست میں لے لیا تھا ۔ اس کے باوجود کناٹ پلیس کے ’اِنرسرکل‘ میں ترنگا یاترا نکالی گئی۔ کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں  سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔ مختلف مقامات پر بیریکیڈنگ اور نگرانی کے انتظامات بھی کیے گئے تھے۔ کناٹ پلیس اور وسط دہلی میں ۶؍ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کا انتظام کیا گیا تھا، جبکہ مرکزی مسلح پولیس فورسز (سی اے پی ایف) کے تقریباً۲۶؍ ہزار اہلکار بھی تعینات تھے۔پولیس نے سینٹرل پارک اور راجیو چوک میٹرو اسٹیشن کے اطراف۱۰؍ سے زیادہ نئے سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ تقریباً مکمل

پولیس کی جانب سے حراست میں لیے گئے افراد کو لے جانے کے لیے بسوں کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔ دہلی پولیس نے بھارتیہ دفعہ ۱۶۳؍ کے تحت عائد پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کناٹ پلیس میں مارچ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ لیکن نوجوانوں کے جوش کے سامنے پولیس کی پابندیاں دھری کی دھری رہ گئیں اور انہوں نے نہ صرف ترنگا مارچ نکالا بلکہ حکومت مخالف نعرے بازی بھی کی۔ حالانکہ پولیس نے محدود تعداد میں لوگوں کو کسی دوسری مناسب جگہ پر ترنگا مارچ کرنے کی اجازت دینے کی پیشکش بھی کی تھی لیکن سی جے پی اور آئیسا کے کارکنان  سینٹرل پارک میں ہی احتجاج کیلئے مصر تھے۔مارچ سے قبل پولیس نے دوپہر تقریباً دو بجے ابھجیت دپکے کو ان کے دوست کے گھر پر نوٹس دیا   جہاں وہ ٹھہرے ہوئے تھے۔ نوٹس میں انہیں ہدایت دی گئی تھی کہ وہ دفعہ ۱۶۳؍ کے نفاذ کے پیش نظر ترنگا مارچ کے لیے گھر سے باہر نہ نکلیں۔ تاہم ابھجیت دپکے باہر نکلے تو انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ 

مارچ میں کون کون شامل ہوا ؟
ایس ایف آئی، ڈی وائی ایف آئی، اے آئی ایس ایف اور اے آئی وائی ایف کے کارکنان  ترنگا مارچ میں شامل ہوئے۔ ان کے ساتھ ممبران پارلیمنٹ جان بریٹاس، ڈاکٹر وی شیواداسن، اے رحیم اور سنتوش کمار نے بھی شرکت کی۔دوسری جانب آئیسا کی قومی صدر نیہا بورا کو بھی احتجاج میں شرکت کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا۔ انہیں منڈی ہاؤس سے کناٹ پلیس کی جانب مارچ کے دوران بارہ کھمبا روڈ کے علاقے سے حراست میں لیا گیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK