• Fri, 16 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ تقریباً مکمل

Updated: October 16, 2026, 10:03 PM IST | New York

ہندوستان اورامریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور مذاکرات کا صرف ایک سے دو فیصد حصہ باقی رہ گیا ہے۔ امریکہ کے ایک سینئر عہدیدار نے یہ اطلاع دی۔اس بیان سے اشارہ ملتا ہے کہ کئی ماہ تک جاری رہنے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد دونوں ممالک معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

Modi And Trump.Photo:INN
مودی اور ٹرمپ۔ تصویر:آئی این این

ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور مذاکرات کا صرف ایک سے دو فیصد حصہ باقی رہ گیا ہے۔ امریکہ کے ایک سینئر عہدیدار نے جمعہ کو یہ اطلاع دی۔اس بیان سے اشارہ ملتا ہے کہ کئی ماہ تک جاری رہنے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد دونوں ممالک معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ امریکی عہدیدار نے کہا کہ سب سے بڑے اور اہم مسائل پہلے ہی حل کیے جا چکے ہیں اور مذاکرات اب بھی اعلیٰ ترین سیاسی سطح پر جاری ہیں۔ ان مذاکرات میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان ہونے والی بات چیت بھی شامل ہے۔
عہدیدار نے جمعہ کو امریکی محکمۂ خارجہ کی پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں سے کہا، ’’سب سے بڑے مسائل حل کر لیے گئے ہیں۔ میرا مطلب ہے کہ معاہدہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ اب صرف ایک یا دو فیصد کام باقی رہ گیا ہے۔‘‘ امریکہ کی جانب سے یہ بیان وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مجوزہ دورۂ ہندوستان سے پہلے سامنے آیا ہے۔ اس دورے کے دوران وہ ممبئی اور جام نگر میں ہندوستانی سرکاری عہدیداروں اور بڑے کاروباری اداروں کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کریں گے۔

یہ بھی پڑھئے:ْآسکر کیلئے ہندوستان کی باضابطہ پیش کش فلم ’’گوندھل‘‘ نومبر میں ملک بھر میں ریلیز ہوگی

امریکی عہدیدار نے کہا کہ مجوزہ تجارتی معاہدے کے حوالے سے دونوں حکومتیں مسلسل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہم ہر ہفتے فعال طور پر بات چیت کر رہے ہیں۔‘‘عہدیدار نے یہ بھی بتایا کہ تجارتی معاہدے پر اعلیٰ سطحی مذاکرات باقاعدگی سے ہو رہے ہیں۔انہوں نے امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر، ہندوستان کے وزیر تجارت پیوش گوئل اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ و وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان ہونے والی بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام پیش رفت مذاکرات میں تیزی کی عکاسی کرتی ہے۔
امریکی عہدیدار نے بیان میں تجارتی معاہدے میں تاخیر کی وجہ بھی بتائی۔ ان کے مطابق، پہلے طے پانے والے ایک اتفاقِ رائے کو انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) سے منسلک کیا گیا تھا۔ اب اس قانون کو منسوخ کیے جانے کے بعد معاہدے کے قانونی ڈھانچے پر دوبارہ غور کرنا پڑا۔ اس پیش رفت کے باعث مذاکرات کرنے والی ٹیموں کو مجوزہ معاہدے کے بعض پہلوؤں کا ازسرِنو جائزہ لینا پڑا، جس کے نتیجے میں بات چیت مزید کئی ماہ تک جاری رہی۔ ان پیچیدگیوں کے باوجود امریکی عہدیدار نے امید ظاہر کی کہ باقی ماندہ اختلافات کو جلد حل کر لیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے:کرکٹ کا چوتھا فارمیٹ ٹیسٹ ۲۰؍ سری لنکا میں شروع ہو رہا ہے

ہندوستان آنے سے پہلے مارکو روبیو ازبکستان جائیں گے، جہاں وہ وسطی ایشیائی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے۔ ممبئی میں وہ ہندوستانی حکومت کے اپنے ہم منصبوں اور ملک کی چند بڑی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات کریں گے۔ امریکی عہدیدار نے کہا کہ نئی دہلی کے بجائے ممبئی جانے کا فیصلہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے تجارتی سفارت کاری اور امریکہ میں ہندوستانی سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر بڑھتی ہوئی توجہ کی عکاسی کرتا ہے۔عہدیدار کے مطابق، واشنگٹن اطلاعاتی ٹیکنالوجی، ادویہ سازی، دفاعی تعاون اور دیگر شعبوں میں ہندوستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ دونوں حکومتوں کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کی کوششوں کے تحت اگلے سال امریکہ کے سینئر کابینی وزرا کے ہندوستان کے دورے بھی مجوزہ ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK